زلزلہ: سولہ ہزار تعلیمی ادارے متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سات ہزار جبکہ صوبہ سرحد میں نو ہزار تعلیمی اداروں کی عمارتیں مکمل طور پر تباہ یا بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اشرف قاضی نے پیر کو سینٹ کو بتایا ہے کہ تباہ شدہ سکول اور کالجوں کی تعمیر نو میں خاصا وقت لگے گا اور اس کے لیے کم از کم پچاس کروڑ ڈالر کی رقم درکار ہے۔ انہوں نے پارلیمان کے ایوان بالا کو بتایا کہ متاثرہ علاقوں کے طلبہ اور طالبات کو وفاقی حکومت کے تعلیمی اداروں میں داخلے کی پالیسی منظور کی جا چکی ہے۔ وزیر تعلیم کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں قائم خیمہ بستی میں تین ہزار طلبہ اور طالبات کو خیمہ سکولوں میں تعلیم دی جا رہی ہے۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ ریلیف کمشنر کو کہا گیا ہے کہ اکیس ہزار بڑے خیمے فوری طور پر فراہم کریں تاکہ ان میں مزید سکول قائم کیے جا سکیں۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ لاہور کے پبلشرز نے چھ لاکھ کاپیاں مفت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ ادھر اسلام آباد کی خیمہ بستی میں وزیر تعلیم نے پیر کو چائلڈ فرینڈلی سکول کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس بستی میں سولہ خیمہ سکول قائم ہو چکے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں مزید سکول قائم کیے جائیں گے۔ ان سکولوں میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ اس سے اوپر والی کلاسوں کے طلبہ کو وفاقی حکومت کے زیر انتظام اسلام آباد کے مختلف تعلیمی اداروں میں داخل کیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد میں دو ارب بانوے لاکھ روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ ان کے مطابق انیس ہزار چار سو کے قریب ہلاک شدگان کے لواحقین ، اٹھارہ سو زخمیوں اور ستنتیس ہزار سے زائد تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کو رقوم دی جا چکی ہیں۔ واضح رہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے نتیجے میں حکومتی اعدادوشمار کے مطابق تہتر ہزار افراد ہلاک اور اس سے زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔جبکہ تیس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق تاحال پینسٹھ ہزار سے زائد بےگھر افراد کو ساڑھے دس ہزار سے زائد خیموں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ سردی کی شدت کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر خیمے نہیں مل سکے تو موسم سرما سے بھی کافی زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ |
اسی بارے میں زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد: ’دنیا کے دہرے معیار ہیں‘04 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا09 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان مظاہرین پر لاٹھی چارج11 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||