BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 November, 2005, 00:54 GMT 05:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا
لاہور میں رت جگا
لاہور میں پولو کلب کی چھت پر سینکڑوں شمعیں جھلملا رہی تھیں۔
زلزلے کی تباہی کو ایک ماہ پورا ہونے کے موقع پر دُنیا بھر کے تیس شہروں نے زلزلے کے متاثرین کی یاد میں رت جگا منایا ہے۔

یہ رت جگا لاس انجیلیز، سان فرانسسکو، نیو یارک، ایمسٹرڈیم ، کراچی ، لاہور سمیت کئی دیگر شہروں میں منایا گیا۔

لاہور سے نامہ نگار عارف وقار نے بتایا ہے کہ ریس کورس کے وسیع و عریض میدان کے ایک کونے میں پولو کلب کی چھت پر سینکڑوں شمعیں جھلملا رہی تھیں۔

قطار اندر قطار یہ موم بتیاں لاہور کے اُن باشندوں نے روشن کی تھیں جو زلزلے کی تباہی کا ایک ماہ پورا ہونے پر مرنے والوں کی یاد میں سوگوار ہیں اور زندہ بچ رہنے والوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔

اس رت جگے کے منتظمِ اعلیٰ عمر سیعد کا کہنا ہے کہ زلزلے کی تباہی جتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے اُس کا ابھی تک دُنیا کو احساس نہیں ہوا چنانچہ ضمیرِعالم کو جھنجھوڑنے کی اشد ضرورت ہے۔

رت جگے میں حصّہ لینے والی ایک خاتوں سمیعہ ممتاز نے کہا کہ موم بتیاں جلانا اگرچہ محض ایک علامتی عمل ہے لیکن اس موقع پر جمع ہونے والے بہت سے نوجوان اپنے نام رضاکاروں کے طور پر رجسٹر کرا رہے ہیں تاکہ وہ جِس حیثیت میں بھی زلزلہ زدگان کی مدد کر سکتے ہیں اُس کا علم تمام امدادی اداروں کو ہو جائے۔ اِس مقصد کے لئے ایک ڈیٹا بیس بھی تیار کی جا رہی ہے تاکہ تمام رضاکاروں کی عمر، تعلیمی قابلیت، خصوصی تربیت اور اُن کے میسّر آنے کے اوقات معلوم ہو سکیں۔

امریکہ کے شہر بوسٹن سے صحافی بینا سرور نے بتایا کہ وہاں پر اگرچے بڑی تعداد میں لوگوں نے اس رت جگے میں حصہ لیا لیکن میڈیا نے کچھ خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔

امریکہ کے ہی شہر نیویارک سے صحافی آصف اسلم نے بتایا کہ مین ہٹن کے علاقے یونین پارک میں امریکیوں سمیت کئی سو پاکستانی اکھٹے ہوئے۔ مسٹر آصف کے مطابق نیویارک کے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ امریکی میڈیا نے زلزلے کی خبروں کو شائع کرنا بند کردیا ہے اور اس رت جگے کا مقصد میڈیا کو باخبر کرنا ہے کہ اب بھی متاثرین کے مسائل کو ابھارنے کی ضرورت ہے۔

کینیڈا کے شہر ٹورونٹو سے صحافی شرمین عبید کے مطابق شہر کے وسط میں سو سے زیادہ افراد جمع ہوئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ کینیڈا کی حکومت کو زلزلے سے متاثرین کی مدد کی کوششوں کو دوگنا کر دینا چاہئیے۔

66یہ ایک مہینہ
زلزلے کےایک ماہ میں کیا کیا ہوا: وسعت اللہ خان
66ایک ماہ بعد
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک کیا کیا ہوا
اسی بارے میں
خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں
08 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد