زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کی تباہی کو ایک ماہ پورا ہونے کے موقع پر دُنیا بھر کے تیس شہروں نے زلزلے کے متاثرین کی یاد میں رت جگا منایا ہے۔ یہ رت جگا لاس انجیلیز، سان فرانسسکو، نیو یارک، ایمسٹرڈیم ، کراچی ، لاہور سمیت کئی دیگر شہروں میں منایا گیا۔ لاہور سے نامہ نگار عارف وقار نے بتایا ہے کہ ریس کورس کے وسیع و عریض میدان کے ایک کونے میں پولو کلب کی چھت پر سینکڑوں شمعیں جھلملا رہی تھیں۔ قطار اندر قطار یہ موم بتیاں لاہور کے اُن باشندوں نے روشن کی تھیں جو زلزلے کی تباہی کا ایک ماہ پورا ہونے پر مرنے والوں کی یاد میں سوگوار ہیں اور زندہ بچ رہنے والوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ اس رت جگے کے منتظمِ اعلیٰ عمر سیعد کا کہنا ہے کہ زلزلے کی تباہی جتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے اُس کا ابھی تک دُنیا کو احساس نہیں ہوا چنانچہ ضمیرِعالم کو جھنجھوڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ رت جگے میں حصّہ لینے والی ایک خاتوں سمیعہ ممتاز نے کہا کہ موم بتیاں جلانا اگرچہ محض ایک علامتی عمل ہے لیکن اس موقع پر جمع ہونے والے بہت سے نوجوان اپنے نام رضاکاروں کے طور پر رجسٹر کرا رہے ہیں تاکہ وہ جِس حیثیت میں بھی زلزلہ زدگان کی مدد کر سکتے ہیں اُس کا علم تمام امدادی اداروں کو ہو جائے۔ اِس مقصد کے لئے ایک ڈیٹا بیس بھی تیار کی جا رہی ہے تاکہ تمام رضاکاروں کی عمر، تعلیمی قابلیت، خصوصی تربیت اور اُن کے میسّر آنے کے اوقات معلوم ہو سکیں۔ امریکہ کے شہر بوسٹن سے صحافی بینا سرور نے بتایا کہ وہاں پر اگرچے بڑی تعداد میں لوگوں نے اس رت جگے میں حصہ لیا لیکن میڈیا نے کچھ خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ امریکہ کے ہی شہر نیویارک سے صحافی آصف اسلم نے بتایا کہ مین ہٹن کے علاقے یونین پارک میں امریکیوں سمیت کئی سو پاکستانی اکھٹے ہوئے۔ مسٹر آصف کے مطابق نیویارک کے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ امریکی میڈیا نے زلزلے کی خبروں کو شائع کرنا بند کردیا ہے اور اس رت جگے کا مقصد میڈیا کو باخبر کرنا ہے کہ اب بھی متاثرین کے مسائل کو ابھارنے کی ضرورت ہے۔ کینیڈا کے شہر ٹورونٹو سے صحافی شرمین عبید کے مطابق شہر کے وسط میں سو سے زیادہ افراد جمع ہوئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ کینیڈا کی حکومت کو زلزلے سے متاثرین کی مدد کی کوششوں کو دوگنا کر دینا چاہئیے۔ |
اسی بارے میں ایک ماہ میں، میں نے کیا دیکھا؟08 November, 2005 | پاکستان خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں08 November, 2005 | پاکستان کیا وزیر اعظم کے جواب تسلی بخش تھے؟08 November, 2005 | Debate زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||