BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ ایک مہینہ

مظفرآباد میں ایک شخص سب کچھ گنوانے کے بعد دھوپ میں بیٹھا ہے
آج جب زلزلے کی تباہ کاریوں کو دوسرا مہینہ لگ گیا ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اب تک جن تین لاکھ خیموں کے بٹنے کی نوید سنائی ہے کیا ان تین لاکھ میں سے ایک خیمہ گڑھی حبیب اللہ کے چھ سالہ منان کے خاندان کے حصے میں بھی آیا جو آخری وقت تک میرے ساتھ یہ گردان کرتے ہوئے لگا رھا کہ بس ایک خیمہ دلوا دو۔

آج ایک ماہ مکمل ہونے کے موقع پر جب حکومت یہ دعوی کر رہی ہے کہ متاثرہ لوگوں کی اکثریت تک رسد پہنچ گئی ہے یا پہنچنے والی ہے اور اب مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو سردیاں گذارنے کے لیے صرف چولہے اور کیروسین کی ضرورت ہے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ بالاکوٹ کے رہائشی شفیق نے ملبے سے اپنے دو بچوں کی لاشیں نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی یا نہیں۔کیونکہ جب میں اس سے سات دن پہلے ملا تھا تب تک اسکے دونوں بچے ملبے میں ہی دبے ہوئے تھے۔

اس ایک ماہ کے دوران یہ تو ہوا ہے کہ لوگوں کو فوج اور مختلف امدادی تنظیموں نے راشن ، کمبل اور تنبو کے لیے پرچیاں بانٹی ہیں۔لیکن بہت لوگ اب بھی ایسے ہیں جن کے ہاتھوں میں بیس بیس دن سے صرف پرچیاں ہی ہیں۔ جس کو ایک مرتبہ پانچ کلو آٹا مل گیا اسکی پرچی جمع کر لی گئی۔اب اسے دوبارہ پرچی بنوانے اور پھر اگلے پانچ کیلو آٹے کے حصول کے لیے کیمپوں کے نہ جانے کتنے اور چکر لگانے پڑیں گے۔

جو مرگئے سو مرگئے زندوں کو ایک در سے دوسرے در تک جانے اور بار بار جانے کی تھکن مارے ڈال رہی ہے۔

لائن آف کنٹرول پر چکوٹی کے سرحدی قصبے میں متعین فوجی اور سویلین سب ہی کہتے ہیں کہ انہیں اب تک جو امداد ملی ہے وہ بھارت میں متعین پاکستانی سفیر عزیز خان کی اہلیہ عائشہ خان کے سبب ملی ہے جنہوں نے اپنے سیٹلائٹ فون کے ذریعے اسلام آباد میں اپنی جان پہچان کو برقرار رکھا اور دس دن کے لیے چکوٹی میں ڈیرے ڈال دئیے۔میں ان سے مل کر یہی سوچتا رھا کہ چکوٹی کو تو ایک عائشہ خان مل گئی۔باقی علاقے کیا کریں۔

ملکی اور غیرملکی ہیلی کاپٹرز یقیناً متاثرہ علاقوں میں صبح سے شام تک پروازیں بھر رہے ہیں لیکن اس دوران بھی چکر چلانے والے چکر چلا گئے۔

مثلاً میں نے کئی ہیلی پائلٹوں کو اس بات پر طیش میں دیکھا کہ وہ کسی بااثر شخص یا یونین کونسل ناظم کے کہنے پر کسی گاؤں میں اترے جہاں کے بارے میں انہیں بتایا گیا تھا کہ وہاں اب تک لاشیں پڑی ہیں۔لوگ کھلے آسمان تلے ہیں اور بیسیوں زخمی اٹھائے جانے کے منتظر ہیں لیکن جب ہیلی کاپٹر اس علاقے میں اترا تو لوگوں نے اسے گھیر لیا اور امدادی سامان اتار لیا۔ معلوم یہ ہوا کہ اس گاؤں میں زلزلے سے صرف پانچ لوگ مرے۔کوئی شدید زخمی نہیں تھا۔دس سے بارہ مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔لیکن ہیلی کاپٹر کو جس شخصیت نے اس علاقے میں اترنے پر مجبور کیا گاؤں والوں کی نظر میں اسکے نمبر ضرور بن گئے۔

ایک پائلٹ نے بتایا کہ ایک شخص نے انہیں اسی طرح کی کہانی سنائی اور جب ہیلی کاپٹر اسکے علاقے پر پہنچا تو اس نے درخواست کی کہ جو رسد بھی گرائی جائے وہ نالے کے دائیں طرف گرائی جائے کیونکہ بائیں طرف اسکے مخالف بستے ہیں۔ بقول اس پائلٹ کہ ہم نے اس شخص کو وہیں اتار دیا اور اس علاقے کی طرف ہیلی موڑ دیا جہاں ہمیں بہت زیادہ نقصان دکھائی دے رھا تھا۔

الائی اور کاغان ویلی میں بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ صرف اسلئے اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے کیونکہ وہ اپنے جانوروں کو نیچے لے جا کر کہاں رکھیں گے۔اب جبکہ زلزلے کے ایک ماہ بعد برف آہستہ آہستہ ان پہاڑوں اور لوگوں کے رگ و پے میں اتر رہی ہے یہ لوگ ناکافی رسد کی بنا پر نہ صرف اپنے جانور زبح کررہے ہیں۔ بلکہ چراگاہوں پر برف کی تہہ جمنے کے ساتھ ساتھ انکے جانور بھی بھوکے مرنا شروع ہو گئے ہوں گے۔ بھوک، سردی اور بیماری۔

عذاب کے کھیل کا دوسرا مرحلہ شروع ہورھا ہے۔

اس ایک ماہ کے دوران میڈیا سرکس نے بھی ایک سے ایک کرتب دکھایا۔زلزلہ زدہ علاقوں کے مقامی اخبارات نے ایسی ایسی کہانیاں چھاپیں جو تھیں ہی نہیں۔مثلاً ایبٹ آباد سے نکلنے والے ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ فلاں گاؤں کے ملبے سے پندرہ روز بعد سات افراد کو زندہ نکال لیا گیا اور وہ ڈگری کالج مانسہرہ کے فیلڈ ہسپتال پہنچا دئیے گئے۔میں جب اس ہسپتال میں پہنچا تو اس گاؤں کے کچھ لوگ ٹہلتے ہوئے مل گئے۔انہوں نے ایسے کسی بھی واقع سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

تازہ ترین خبر کی دوڑ نے قومی چینلز کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔میں نے ایک چینل پر دیکھا کہ ایک مشہور پریزینٹر ملبے سے نکالے جانے والی ایک عورت سے پوچھ رھا ہے کہ اسکے گاؤں میں کتنے لوگ مرے۔

ایک چینل نے ملبے سے نکالے جانے والی ایک عورت کو دم توڑتے ہوئے دکھایا۔ اس دوران کیمرے نے ایک لمحے کے لیے پلک نہیں جھپکی۔

ایک بہت ہی پاپولر چینل نے یہ خبر نشر کردی کہ مانسہرہ کے گاؤں اطہر شیشہ میں زلزلے کے جھٹکے سے پچیس آدمی ہلاک ہوگئے۔مقامی لوگ حیران تھے کہ وہ پچیس مرنے والے انہیں کیوں نظر نہیں آئے۔

بالاکوٹ سے خبر آئی کہ وھاں کے ایک قریبی گاؤں سے ایک بچی کو گیارہ روز بعد زندہ نکال لیا گیا اور وہ بچی ایک جہادی تنظیم کے میڈیکل کیمپ میں زیرِ علاج ہے۔ جب میں اگلے روز اس بچی کو دیکھنے کے لیے وھاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ سرکاری حکام نے اسے ایک اور سرکاری ہسپتال پہنچا دیا ہے جہاں پہلے سے ایک ایسا شخص ایڈمٹ ہے جو نو روز بعد ملبے سے زندہ نکلا ہے۔حکام چاہتے تھے کہ ان دونوں کو ایک ساتھ وزیرِ اعظم کو دکھایا جائے جنہیں اس سہہ پہر علاقے کا دورہ کرنا تھا۔

میڈیکل امداد کے شعبے میں جتنا کام نجی تنظیموں نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ کراچی کی ایک خاتون رضاکارآرتھوپیڈک سرجن نے ایک ہفتے کے دوران ستر کے لگ بھگ سیریس آپریشن کیے۔ یہ وہ خاتون ہیں جن سے نارمل حالات میں ڈھائی سے تین ماہ قبل کا اپائنٹمنٹ حاصل کرنا جوئے شیر لانا ہے۔ کراچی، لاہور اور پشاور کے کئی مشہور سرجنوں سے میں ملا جو پورے پورے آپریشن تھیٹر متاثرہ علاقوں میں لے آئے۔

غیرملکی میڈیکل ٹیموں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میں نے کاغان کے علاقے جرید میں دیکھا کہ ایک فرانسیسی ٹیم اس علاقے میں ایک ہفتہ قیام کے بعد کسی ایسے علاقے میں جانا چاہ رہی تھی جہاں وہ زیادہ سنگین مریضوں کے کام آ سکے لیکن اسے پچھلے چوبیس گھنٹے سے کوئی ہیلی کاپٹر نہیں مل رھا تھا جو ٹیم کو سازوسامان سمیت کسی اور ضرورت مند علاقے میں پہنچا دے۔

سردیاں شروع ہوچکی ہیں۔وبائی امراض کا خوف گدھ کی طرح منڈلا رھا ہے۔ابھی بے گھر زندہ لوگوں کو خوراک اور پناہ کی عارضی فراہمی کا پہاڑ جیسا کام بھی مکمل نہیں ہوسکا۔اور جو خوش قسمت لوگ خیمہ بستیوں میں بسائے گئے ہیں کیا انکے پتلے پتلے خیمے انہیں کپکپاہٹ اور انکے بچوں کو کھانسی نمونیے اور ڈائریا سے بچالیں گے۔

جب میں چوبیس گھنٹے بعد پھر متاثرہ علاقوں میں ہوں گا تو جانےان آنکھوں کو مزید کیا کیا ملے گا۔

دیکھنا ہردم نگاہِ حسن سے بدہیتی
آگے اس اندوہ کے سیلِ بلا کچھ بھی نہیں

66دنوں کے سفر کے بعد
سب آگے بھیج دیتے ہیں: متاثرین کی شکایت
66زلزلے کے بعد عید
عید بھی کہیں رنج و غم کے ملبے تلے دب گئی
66سفید پوشی کا بھرم
مدد کرنے والے اب مدد لینے سے گریزاں کیوں؟
66’بچیوں کو بچالو‘
تین ہفتےگزرنے کے باوجود ایک ہی فریاد
66عید کہاں ہے؟
پشاور کے ہسپتال کے ایک وارڈ میں عید
اسی بارے میں
آخر امداد کہاں جا رہی ہے ؟
07 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد