BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 November, 2005, 04:42 GMT 09:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر
وادئ نیلم میں سات نومبر کو زلزلے کے متاثرین غذائی امداد کے منتظر
وادئ نیلم میں سات نومبر کو زلزلے کے متاثرین غذائی امداد کے منتظر
پاکستان میں آنیوالے زلزلے کے ایک ماہ پورے ہونے پر اقوام متحدہ نے حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ کشمیر کی اونچی پہاڑیوں میں ساڑھے تین لاکھ لوگوں کو صرف اس ماہ غذا اور خیمے فراہم کرنے کی خاطر بیالیس ملین ڈالر فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کے امدادی کوآرڈینیٹر ژاں ایگیلین نے کہا کہ پاکستان میں زلزلے کی وجہ سے اس وقت تیس لاکھ لوگ بےگھر ہیں جنہیں مہینوں تک امداد کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ برفیلی پہاڑیوں میں بسنے والے دو لاکھ لوگوں کو فوری امداد پہنچانی پڑے گی جبکہ امید کی جارہی ہے کہ ڈیڑھ لاکھ لوگ پہاڑیوں سے اترکر نیچے امداد کے لئے آئیں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ ضرورت مندوں کو صرف نومبر میں امداد فراہم کرنے کے لئے بیالیس اعشاریہ چار ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

گزشتہ آٹھ اکتوبر کو آنیوالے زلزلے میں ایک اندازے کے مطابق کم سے کم چوہتر ہزار افراد کی ہلاکت کی پاکستانی حکومت کی جانب سے تصدیق کردی گئی ہے جبکہ کئی متاثرہ علاقوں تک رسائی کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔

جنیوا سے رائٹرز خبررساں ایجنسی نے ژاں ایگیلن کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اسی ہزار تک پہنچ سکتی ہے کیوں کہ ستر ہزار زخمیوں میں سے بعض نہیں بچ سکیں گے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے کہا کہ زلزلے سے سترہ ہزار سے زائد بچے اپنے سکولوں کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے اور بیس ہزار بچے ساری عمر کے لئے معزور ہوگئے۔

ژاں ایگیلین نے اندازہ لگایا کہ کشمیر کی اونچی پہاڑیوں میں بسنے والے دو لاکھ لوگوں میں سے دس سے بیس فیصد لوگوں تک زلزلے کے ایک ماہ بعد تک امداد نہیں پہنچائی جاسکی ہے۔ عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا ہے کہ آٹھ اکتوبر کو اس کی جانب سے ایک سو سترہ ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کا ایک ماہ بعد تک صرف چالیس فیصد حصہ ہی موصول ہوا ہے۔

جنیوا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے پیر کے روز اقوام متحدہ کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کی اور کہا کہ ’اگر اس وقت ہم ہنگامی طور پر امداد نہیں پہنچائی گئی تو کئی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔‘ اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ ساڑھے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کے بعد اب تک انہیں تراسی اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر ہی مل پایا ہے۔

ژاں ایگیلین نے پیر کے روز پونچھ۔راولاکوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کھولنے کی ہندوستان اور پاکستان کے فیصلے کو ’کافی مثبت‘ کہا لیکن اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ایسا کرنے میں ایک ماہ لگ گیا۔ سات نومبر کو کنٹرول لائن کھلنے کے ساتھ ہندوستانی حکومت کی جانب سے امدادی سامان زلزلے کے متاثرین کے لئے جانا شروع ہوگئے ہیں۔

زلزلے کے ایک ماہ پورے ہونے پر آج آٹھ نومبر کو پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں، جو خصوصی ٹاکنگ پوائنٹ کے طور پر پیش کیا جائے گا، زلزلے سے متاثرین کے سوالوں کا براہ راست جواب دیں گے۔ یہ ٹاکنگ پوائنٹ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے براہ راست نشر کیا جائےگا۔

66زندگی کی تعمیر نو
’اصل کام جینے کی نئی امنگ پیدا کرنا ہے‘
66 کیا خدا ناراض ہے؟
متاثرین بطورِ صدقہ جانور ذبح کر رہے ہیں
66بنا پرچی کچھ نہیں
واقفیت کی بنیاد پر امداد کی تقسیم کی شکایت
66بے پردگی کا مسئلہ
کاغانی خیمہ بستی میں کیوں نہیں رہتے؟
66امداد کہاں جا رہی ہے
زلزلہ امداد: با اختیار اور بے اختیار کیا کر رہے ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد