بالاکوٹ: زلزلہ پروف سکول کی تعمیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے تباہ حال بالاکوٹ شہر میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف چند قبروں کے اردگرد فولاد یعنی سٹیل کے کچھ کمرے زیرِ تعمیر نظر آتے ہیں۔ اس جگہ لڑکوں کے لیے بالاکوٹ کا سرکاری ہائی سکول ہوا کرتا تھا۔ شہر کی باقی عمارتوں کی طرح اس سکول کی عمارت بھی زلزلے سے منہدم ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس سکول کے دو سو کے قریب بچے ہلاکت خیز زلزلے کی نذر ہوئے۔ سکول کے میدان میں جہاں بچے کھیلا کرتے تھے اب ان کی اجتماعی قبریں ہیں۔ ان قبروں کے گرد سٹیل اور انسولیشن میٹریل کی مدد سے سکول کی نئی عمارت بنائی جا رہی ہے۔ موقع پر موجود جاری کام کی نگرانی میں مصروف ریحان نامی ایک صاحب نے بتایا کہ سکول کی نئے طرز کی یہ عمارت میٹکنو پاکستان نامی کمپنی تیار کر رہی ہے جبکہ اس کی تعمیر کا خرچ وفاقی وزیر پیداوار جہانگیر ترین ذاتی طور پر برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سکول کی عمارت کی تکمیل پر وزیراعظم شوکت عزیز اس کا افتتاح کریں گے۔ ریحان نے بتایا کہ سکول کی نئی عمارت پانچ کمروں، پرنسپل آفس اور ایک بیت الخلاء پر مشتمل ہوگی جبکہ اس طرز کی عمارت پر سات سو روپے سے لیکر آٹھ سو روپے فی مربع فٹ تک لاگت آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بالاکوٹ میں اسی طرز پر لڑکیوں کا ایک ہائی سکول اور ایک پرائمری سکول بھی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکام نے زلزلے کے بعد ان کی فرم کو پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں فوجی مقاصد کے لیے کئی جگہوں پر ایسی ہی عمارتیں بنانے کے کنٹریکٹ دیے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پری فیبریکیٹڈ سٹیل سے بنی عمارتیں ہر طرح کے موسمی حالات اور زلزلوں کے انتہائی شدید جھٹکوں کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ پری فیبریکیٹڈ سٹیل سے بنی عمارتوں کی افادیت اپنی جگہ لیکن ان پر آنے والی لاگت بہت زیادہ ہے جو ہر آدمی برداشت نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان جیسا ملک زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہ ہو جانے والے سکول، کالج، ہسپتال اور سرکاری دفاتر کو اس تعمیراتی میٹریل سے تعمیر کرا سکتا ہے۔ ماہر تعمیرات عدیلہ مشتاق کا کہنا ہے کہ پری فیبریکشن میں اگر ’ری سائیکل‘ میٹریل استعمال کیا جائے تو تعمیر کی لاگت نصف کی جا سکتی ہے جو کہ سیمنٹ اور سریے کی مدد سے تعمیر کی جانے والی عمارتوں کی لاگت کے تقریباً برابر ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے حکومت کو میسر ذرائع اور وسائل کو بہتر انداز میں استعمال میں لانا پڑے گا۔ | اسی بارے میں ٹینٹ کلاسوں میں امید کا سبق05 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان چار کمبل بھی سردی نہیں روکتے06 November, 2005 | پاکستان امداد صرف ’اپنے‘ لوگوں کے لیے06 November, 2005 | پاکستان ’اس بےحیائی سے موت بہتر ہے‘06 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||