چار کمبل بھی سردی نہیں روکتے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کے بعد اندرون و بیرون ملک سے جس طرح امداد آئی اس نے متاثرین کے دل جیت لیے اور اس کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں تشکر سے نم ہوجاتی ہیں۔یہ اور بات ہے کہ آنے والے امدادی سامان میں بعض چیزیں غیر معیاری ہیں۔ میں عید سے ایک روز پہلے بالا کوٹ پہنچا۔ شہر چونکہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اس لیے کوئی ہوٹل وغیرہ بھی نہیں بچا۔ چنانچہ رہائش کے لیے متاثرین کی خیمہ بستیوں کا رخ کیا تو دریائے کنہار کے کنارے بن پھوڑا کے مقام پر قائم ایک کیمپ میں جگہ مل گئی۔ سردی کو مد نظر رکھتے ہوئے میرا سب سے پہلا سوال کمبل کے بارے تھا۔ میزبانوں نے بتایا کہ فکر نہ کریں دبئی سے آنے والی امداد کے کمبل ہیں۔ سوتے وقت اوڑھنے کے لیے جو چیز دی گئی اس پر ’میڈ ان یو اے ای‘ تو لکھا ہوا تھا لیکن اسے کمبل بہرحال نہیں کہا جاسکتا تھا۔ میری پریشانی دیکھ کر میزبانوں نے کمبل کہی جانے والی چار عدد چادریں میرے حوالے کردیں۔دو میں نے سلیپنگ بیگ کے نیچے بچھائیں اور دو اوڑھ لیں۔ رات سرد ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ’کمبل‘ بھی سرد ہونا شروع ہوگئے۔ رات جاگتے، ٹھٹھرتے اور کانپتے ہوئے گزری۔ صبح ہونے پر رات کے تجربے کے بارے میں بتایا تو میزبانوں نےکہا کہ آج ہی امداد میں سوئس کمبل آئے ہیں وہ بہتر لگتے ہیں۔تسلی ہوئی کہ سوئٹزرلینڈ میں تو کافی ٹھنڈ پڑتی ہے اس لیے ان کا میعار بہتر ہوگا لیکن انہوں نے بھی دبئی کے کمبلوں والا ہی ’حشر‘ کیا۔ دبئی والے چار کمبل میں نے نیچے بچھائے ہوئے تھے اور چار سوئس کمبل اوڑھے ہوئے تھے لیکن ٹھنڈ تھی کہ ہڈیوں کو چھو رہی تھی۔ اگلے دن میں نے کیمپ میں رہائش پذیر متاثرین زلزلہ سے پوچھا کہ وہ کیسے گزارا کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کمبل ’شمبل‘ کچھ نہیں کرتے دیسی رضائی ہی سب سے بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپانی اور کورین کمبل بہتر ہیں لیکن وہ ہر کسی کو نہیں ملتے۔ ان کے لیے تقسیم کرنے والوں سے جان پہچان ضروری ہے۔ اس پر میں فوری طور پر مانسہرہ جا کر بنی بنائی رضائی لے آیا اور گزشتہ شب کافی پرسکون گزری لیکن صبح سوا سات بجے کے قریب زلزلے کے زوردار جھٹکے رضائی نے نکل کر خیمے سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ آٹھ اکتوبر کے بعد سے آنے والے زلزلوں کے سلسلے میں کہا جارہا ہے کہ یہ سب سے طاقتور زلزلہ تھا جس نے بالا کوٹ اور گرد و نواح کی ان عمارتوں کو بھی گرا دیا جن میں دراڑیں تو پڑیں تھی لیکن وہ منہدم ہونے سے بچ گئی تھیں۔ | اسی بارے میں زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟05 November, 2005 | پاکستان امداد صرف ’اپنے‘ لوگوں کے لیے06 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان ’اس بےحیائی سے موت بہتر ہے‘06 November, 2005 | پاکستان ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات06 November, 2005 | پاکستان آٹھ اکتوبر کے بعد طاقتور ترین زلزلہ06 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||