ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کھلنے کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گیۓ ہیں تاکہ شدت پسند مداخلت نہ کر سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو مقامات پر ایل او سی کھلنے میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی جانب راستوں کی مرمت کا کام پورا نہیں کیا ہے۔ سب سے پہلے پیر کے روز پونچھ میں چکن دباغ کے پاس ایل اوسی کھولی جا رہی ہے۔ فوج نے اس پورے علاقے میں نگرانی اورگشت بڑھا دیا ہے۔ حکام نے پولیس اور دیگر حفاظتی عملے کو تمام ناکوں پر چوکس کردیا ہے اور تمام نقل و حمل پر نظر رکھی جارہی ہے۔ خبروں کے مطابق لائن آف کنٹرول کو پار کرنے کے خواہشمند لوگوں کی فہرست کا تبادلہ ابھی دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے نہیں کیا ہے اور ممکن ہے کہ پہلے دن سرحد پار کرنےکا عام شہریوں کا خواب پورا نہ ہو۔ افسران کا کہنا ہے کہ سرحد پار کرنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں نے درخواستیں دی ہیں۔ دونوں جانب کے لوگوں کو ایک دوسرے کی طرف جانے کی اجازت ہے لیکن اسکے لیےکئی طرح کی شرائط رکھی گئی ہیں۔ سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کا کہنا ہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل وی کے سنگھ نے بتایا ہے کہ اڑی اور ٹیتھوال میں ہندوستان نے سبھی تیاریاں مکمل کر لی ہیں لیکن شاید پاکستان کی جانب ابھی راستے تیار نہیں ہوئے ہیں اسی لیے تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا ’ایسا لگتا ہے کہ دوسری جانب ابھی تیاری مکمل نہیں ہوپائی ہے اسی لیے تاخیر ہورہی ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’پانچوں مقام پر ایل اوسی کھلے گی لیکن اسکی تیاری میں وقت لگتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیتھوال میں دریائے کشن گنگا پر پاکستانی فوجی ابھی پل تعمیر کر رہے ہیں۔ مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد سے فوج نے شدت پسندوں کی طرف سے دراندزی کی کئی کوششیں ناکام بنائی ہیں۔ لیکن اس طرح کے واقعات سے ایل او سی کھلنے کے پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ |
اسی بارے میں پاک بھارت مذاکرات تعطل کا شکار 29 October, 2005 | پاکستان ’کوئی شرط نہیں، بس جانے دیں‘31 October, 2005 | پاکستان ایل او سی: پہلےتین مقامات کھلیں گے 03 November, 2005 | انڈیا ابھی صرف ایک جگہ سے 05 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||