BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 October, 2005, 06:53 GMT 11:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت مذاکرات تعطل کا شکار

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری سید ابنِ عباس اور ان کے بھارتی ہم منصب دلیپ سنہا
پاکستان اور بھارت کے مذاکرات سے پہلے دونوں ممالک کی طرف سے سخت بیانات آئے ہیں
پاکستان اور بھارت میں منقسم کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دینے اور کنٹرول لائن پر پابندیاں نرم کرنے کے بارے میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بات چیت میں فی الوقت تعطل نظر آرہا ہے۔

پاکستان نے پانچ مقامات سے کنٹرول لائن کھولنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ بھارت نے تین مقامات پر زلزلے سے متاثرہ کشمیریوں کی مدد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔

سنیچر کی صبح جب دونوں ممالک کے وفود میں بات چیت شروع ہوئی تو شام گئے تک مختلف تجاویز کے تبادلے کے بعد کنٹرول لائن کھولنے کے بارے میں طریقہ کار پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

رات تک مشترکہ بیان کے متن پر اختلاف رائے کی وجہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی وفد مزاکرات کے بعد واپس اپنے ہائی کمیشن چلا گیا ہے اور مشاورت کے بعد وہ بتائیں گے دوبارہ بات چیت کے لیے دفتر خارجہ آتے ہیں یا نہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ابھی تک بات چیت چل رہی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ جب مہمان وفد واپس چلا گیا ہے تو بات چیت کیسے چل رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ان کے جواب کا انتظار ہے،۔

اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے وفود میں ان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔
جمعہ کی شام گئے اسلام آباد پہنچنے والے بھارتی وفد کی قیادت ان کی وزارت خارجہ کے سینئر افسر دلیپ سنھا کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت جنوبی ایشیا کے متعلق ڈائریکٹر جنرل ابن عباس کر رہے ہیں۔
بھارتی وفد ایک ایسے وقت میں پاکستان آیا ہے جب گزشتہ چند روز سے دونوں ممالک کے درمیان قدرِ تلخ ماحول پیدا ہوا ہے۔
یہ تلخی اس وقت شروع ہوئی تھی جب بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے گلگت میں کرفیو اور پر تشویش ظاہر کی تھی اور امید ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فورسز عالمی انسانی اصولوں کا احترام کریں گی۔
جواب میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے کہا گیا کہ گلگت کا ایک واقعہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اصل میں انسانی حقوق کا معاملہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ان کی فوج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ہے۔

اسی بارے میں
امداد میں ایل او سی رکاوٹ؟
10 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد