پاک بھارت مذاکرات تعطل کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت میں منقسم کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دینے اور کنٹرول لائن پر پابندیاں نرم کرنے کے بارے میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بات چیت میں فی الوقت تعطل نظر آرہا ہے۔ پاکستان نے پانچ مقامات سے کنٹرول لائن کھولنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ بھارت نے تین مقامات پر زلزلے سے متاثرہ کشمیریوں کی مدد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔ سنیچر کی صبح جب دونوں ممالک کے وفود میں بات چیت شروع ہوئی تو شام گئے تک مختلف تجاویز کے تبادلے کے بعد کنٹرول لائن کھولنے کے بارے میں طریقہ کار پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ رات تک مشترکہ بیان کے متن پر اختلاف رائے کی وجہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ابھی تک بات چیت چل رہی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ جب مہمان وفد واپس چلا گیا ہے تو بات چیت کیسے چل رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ان کے جواب کا انتظار ہے،۔ اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے وفود میں ان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ | اسی بارے میں ایل او سی کھولنے کی تجویز: ایک جائزہ20 October, 2005 | پاکستان 'بھارتی فوجیوں کے سوا ہر چیز قبول' 18 October, 2005 | پاکستان 'لائن آف کنٹرول نرم ہونی چاہیے'15 October, 2005 | پاکستان ’بھارتی ہیلی کاپٹر ایل او سی پارنہیں‘ 15 October, 2005 | پاکستان بھارتی فوج کی مدد پر اتنا وبال کیوں؟14 October, 2005 | پاکستان پانچ کشمیری خاندانوں کی منتقلی12 October, 2005 | پاکستان امداد میں ایل او سی رکاوٹ؟10 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||