’مرنے والوں کی تعداد 73276 ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نےاس بات پر اصرار کیا ہے کہ گزشتہ ماہ کے زلزلے میں جنوبی ایشیاء میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ستاسی ہزار نہیں بلکہ چوہتر ہزار ہے۔ منگل کو بی بی سی اردو سروس کے ٹاکنگ پوائنٹ پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تقریباً چوہتر ہزار ہے۔ علاوہ ازیں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے اسلام آباد میں قائم ریلیف کمیشن کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم ان رپورٹوں سے اتفاق نہیں کرتے جن میں مرنے والوں کی تعداد ستاسی ہزار بتائی گئی ہے۔‘ زلزلے کے بعد سے اب تک وفاقی حکومت نے ہلاک شدگان کی جو تعداد بتائی ہے وہ دیگر ذرائع سے سامنے آنے والی ہلاکتوں سے کم ہے۔ زلزلے سے لگ بھگ تیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں ابھی تک امداد نہیں ملی۔ مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں تنازعہ منگل کو اس وقت سامنے آیا جب وزارتِ خزانہ کے ایک مشیر اقبال احمد خان نے یہ کہا کہ زلزلے سے ستاسی ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اقبال خان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تعداد ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے اہلکاروں سے ملی ہے۔
اقبال خان کے مطابق بینکوں نے جن کے اہلکار مقامی حکومتوں کے نمائندوں اور امدادی اداروں کے حکام کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں، یہ کہا ہے انہیں اب جا کر مرنے والے ایسے افراد کا پتہ چلا ہے جن تک پہلے اس لیے نہیں پہنچا جا سکا تھا کہ وہاں تک رسائی ہی ممکن نہ رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مرنے والوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔ لیکن ریلیف کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد 73276 ہے۔ ریلیف کمیشن سے وابستہ کرنل بصیر ملک کے مطابق: ’ہم جو تعداد بتا رہے ہیں وہ اصل میں لاشوں کی گنتی کے بعد سامنے آئی ہے۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ عالمی ادارے ستاسی ہزار کی تعداد کیوں بتا رہے ہیں۔‘ دریں اثناء بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیرھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی تجزیاتی ٹیم حکومت کی تجزیاتی ٹیموں کے ساتھ علاقے میں جانی اور مالی نقصان کا اندازہ لگاتی رہی ہیں۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تباہی صوبہ سرحد سے زیادہ ہے ۔ اس زلزلہ میں سات ہزار ایک سو ستانوے تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے اور تین ہزار آٹھ سو سینتیس کلو میٹر روڈ تباہ ہو گئے ہیں۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی زلزلہ سے تباہی کے بارے میں رپورٹ زلزلہ سے عالمی امدادی اداروں کی انیس نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کی جائی گی۔ |
اسی بارے میں ’ عالمی امداد بالکل ناکافی ہے‘ 21 October, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد، ’جوش کم ہو رہا ہے‘01 November, 2005 | پاکستان زلزلے نے سب کو برابر کر دیا 03 November, 2005 | پاکستان ’سب آگے بھیج دیتے ہیں‘ 03 November, 2005 | پاکستان ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری04 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||