BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 November, 2005, 09:16 GMT 14:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ

ٹٹری ناٹ کے مقام پر پاکستانی کرنل علی خان اور برگیڈیئر ستانو گوس لائن آف کنٹرول پر مل رہے ہیں۔
کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پونچھ ۔ راولاکوٹ سیکٹر میں سات نومبر کو کھول دی گئی ہے تاہم لوگوں کو سرحد کے آر پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی طرف لوگوں کے لائن آف کنٹرول کے قریب جانے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کے درجنوں گولے پھینکے۔

لوگوں نے پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس پھینکے جانے پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر سینکڑوں افراد نے ایل او سی کھلنے کے باوجود اسے پار کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج بھی کیا۔

ٹٹری ناٹ سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار مبشر زیدی نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی پولیس نے کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول کے نزدیک جانے سے روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور آنسوگیس کے درجنوں گولے پھینکے۔

ایل او سی مظاہرہ
پولیس ایک باپ بیٹے کو لائن آف کنٹرول کو پار کرنے سے روک رہی ہے۔

پاکستان کے ایک فوجی کمانڈر نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے کہ لوگوں کو لائن آف کنٹرول کے قریب جانے سے اس لیے روکا گیا ہے کہ علاقے میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں اور لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

کنٹرول لائن پر بھارت سے پاکستان کی جانب امدادی سامان منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور بھارت سے آئے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی تاہم لیکن مقامی لوگوں کو اس مقام پر نہیں آنے دیا گیا اور اس جگہ سے کئی فرلانگ دور لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود رہی۔ اس تاریخ ساز موقع پر ایک پاکستانی فوجی افسر نے امن کا ایک سفید پرچم ایک ہندوستانی فوجی کے حوالے کیا۔

پولیس نے آنسو گیس کے درجنوں گولے فائر کیے

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پونچھ کے پاس فوجی پوسٹ کے قریب موجود بی بی سی اردو سروِس کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق امدادی سامان سے لدے ہوئے تیرہ ٹرک پہلے سے ہی کنٹرول لائن پار کرنے کے لیے تیار تھے۔

امدادی سامان لیے ہوئے یہ ٹرک ہندوستان کی آخری فوجی پوسٹ سے سات سو گز کی دوری پر پاکستان کے ساتھ ایک طے شدہ مقام پر پہنچے جہاں یہ امداد پاکستانی ٹرکوں میں منتقل کردی گئی۔ ہندوستان اور پاکستان کی افواج نے امداد کی منتقلی کے لیے ساری تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔

بھارتی بریگیڈیئر اے کے بخشی کا کہنا تھا کہ امدادی سامان لیے ہوئے ٹرک روزانہ دوسری جانب امداد پہنچاتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیموں، کپڑوں، چاول، چینی اور ادویات سمیت یہ امدادی سامان ہندوستان کی حکومت کی جانب سے بھیجا رہا ہے اور ریڈکراس اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اب وہ راستے کھل جانے پر امداد دے سکیں گے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق پونچھ کے قریب بسے ہوئے کنٹرول لائن سے تقسیم ہونے والے خاندانوں میں اس مایوسی کے باوجود کے لوگ فوری طور پر دوسری جانب اپنے خاندانوں سے نہیں مل سکیں گے ، ایک پرامید فضا دیکھی گئی ہے۔

کنٹرول لائن کے پاس بسے لوگوں کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ دوسری جانب اپنوں سے مل سکیں گے۔ مقامی لوگوں کی جانب سے کنٹرول لائن کھلنے کی خوشی میں پوسٹر چسپاں دیکھے گئے۔ ایک ایسے ہی پوسٹر پر ہمارے نامہ نگار کو یہ شعر پڑھنے کو ملا:

تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

پاکستان کے فوجی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ عام لوگوں کے لائن آف کنٹرول کو عبور کی اجازت دینے میں دس روز بھی لگ سکتے ہیں کیونکہ ابھی تک آر پار جانے کے خواہمشند لوگوں کی فہرستوں کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔ فہرستوں کے تبادلے کے بعد ان کی شناخت کا مرحلہ آئے گا۔ عام کشمیریوں کو کنٹرول لائن پار کرنے کے لیے ضروری فارم بھرنے پڑیں گے جس کی دونوں حکومتوں کی جانب سے اجازت ملنی ضروری ہوگی۔

پاکستان کے وزیرِخارجہ خورشید محمود قصوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے بھارتی حکومت کو تجویز دی تھی کہ کسی بھی قسم کے شناختی کاغذات کی بنیاد پر کشمیریوں کو کنٹرول لائن پار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جو کہ بھارت نے منظور نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد پاکستانی حکومت نے سری نگر مظفرآباد بس سروس کے لیے رائج شناختی نظام کو ایل او سی کراسنگ کے لیے لاگو کرنے کی بات کی اور یہ تجویز دی کہ اس عمل کو دس دن کے اندر مکمل کیا جائے۔ خورشید قصوری کے مطابق اس تجویز کو بھارت نے قبول کر لیا۔

خورشید قصوری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ ہم نے پانچوں مقام سے ایل او سی کھولنے کی بات اسی لیے کی تھی تاکہ ہر مقام سے لوگ آر پار جا سکیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے کھلنے سے صرف زلزلہ زدگان کی مدد ہی نہیں ہو گی بلکہ اس لائن کا کھلنا باہمی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے گزشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول پانچ مقامات پر کھولنے کے لئے اتفاق کیا تھا اور یہ بات طے پائی تھی کہ سات نومبر کو یہ لائن تین جگہوں پر کھلے گی۔ تاہم ہندوستان کی حکومت نے کہا ہے کہ باقی چار مقامات پر بھی کنٹرول لائن اسی ماہ کھل جائے گی۔

اسی بارے میں
ابھی صرف ایک جگہ سے
05 November, 2005 | انڈیا
وہاں بڑی بے بسی ہے
06 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد