BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 November, 2005, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی ٹرک تیار، کنٹرول لائن کھلےگی

 لائن آف کنٹرول
’ابھی تک ایل او سی عبور کرنے کے خواہشمند افراد کو فارم جاری نہیں کیے گئے‘
کشمیر کو منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول کشمیر میں آنے والے زلزلے کے ایک مہینے بعد کل راولا کوٹ۔پونچھ سیکٹر میں کھول دی جائے گی۔ تاہم عام لوگ پیر کے روز اس لائن کو پار نہیں کر سکیں گے۔

پونچھ- راولاکوٹ کے اس مقام سے جہاں کل کنٹرول لائن کھولی جا رہی ہے، بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے اطلاع دی ہے کہ یہاں دنوں ممالک کے جھنڈے لہرا رہے ہیں اور کل ایک چھوٹی سے تقریب بھی منعقد جائے گی۔

دنوں طرف کی فوج کے اہلکار کنٹرول لائن کے آرپار ایک خطۂ زمین پرجسے ’نو مین لینڈ‘ کہا جا رہا ہے ملیں گے اور تحائف اور مٹھائی کا تبادلہ کریں گے۔ یہیں پر امدادی سامان ٹرکوں سے لایا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت لائن آف کنٹرول کو پانچ جگہوں سے کھولنے پر رضامند ہوئے تھے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایل او سی کے پانچ کھولے جانے والے سیکٹر راولا کوٹ۔ پونچھ، نوسہری ۔ ٹٹوال، چکوٹھی ۔ اڑی، حاجی پیر۔ اڑی اور تتہ پانی ۔ مینڈھر کھولنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں مگر بھارت کی طرف سے کل صرف ایک سیکٹر کو کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے تاہم بھارتی حکام کے مطابق باقی چار سیکٹروں کو بھی اسی ماہ کھول دیا جائے گا۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کھلنے کے موقع پر سخت حفاظتی بندوبست کیے گئے ہیں تا کہ شدت پسند مداخلت نہ کر سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو مقامات پر ایل او سی کھلنے میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی جانب راستوں کی مرمت کا کام پورا نہیں کیا ہے۔

لائن آف کنٹرول کو اٹھاون سال بعد کشمیریوں کے لیے کھولا تو جا رہا ہے مگر کل کوئی کشمیری یہ لائن پار نہیں کر سکے گا۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ جب تک بھارت سے ایل او سی پار کرنے کے خواہشمند افراد کی فہرستیں نہیں آ جاتیں کوئی بھی کشمیری کنٹرول لائن کے پار نہیں جا سکتا۔

اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت میں یہ طے پایا تھا کہ لائن آف کنٹرول کھولنے کے لیے مظفرآباد ۔ سری نگر بس سروس پر لائن آف کنٹرول پار کرنے کے طریقہ کار کو ہی لاگو کیا جائے گا۔

 لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے خواہشمند افراد کو ابھی فارم جاری نہیں کیے گئے۔ یہ فارم ایک دو روز میں متعلقہ سیکٹروں میں بھجوا دیے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد عطا اللہ

اس طریقہ کار کے مطابق کسی بھی کشمیری کو ایل او سی پار کرنے کے لیے تحریری درخواست دینی ہو گی جس کو پاکستان یا بھارت کی حکومت پہلے منظور کریں گی اور پھر کشمیریوں کو یہ لائن پار کرنے کی اجازت دی جائے گی۔اس سارے طریقہ کار میں دس روز کا وقت لگتا ہے۔

زلزلے سے متاثرہ علاقے خصوصا پاکستان کے زیر انتظام علاقے جو زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں کی دستاویزات یا شناخت نامے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور ان کے پاس تحریری درخواست دینے کے لیے مظفرآباد جانے کے راستے بھی بند ہیں۔

مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر عطااللہ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے ابھی تک لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے خواہشمند افراد کو فارم جاری ہی نہیں کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فارم ایک دو روز میں متعلقہ سیکٹروں میں بھجوا دیے جائیں گے۔

 دو مقامات پر ایل او سی کھلنے میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی جانب راستوں کی مرمت کا کام پورا نہیں کیا ہے
بھارتی حکام

ادھر بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے اطلاعات کے مطابق وہاں پر بھی کسی کشمیری کو ابھی تک اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں درخواستوں پر غور ہو رہا ہے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دیگر دو مقامات میں سے اڑی کے مقام پر نو نومبر کو جبکہ ٹٹوال میں ایل او سی دس نومبر کو کھلے گی۔

وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایل او سی کھولنے کے لیے جن مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی ان کے راستوں کی مرمت کا کام اب بھی جاری ہے اس لیے فی الوقت یہ صرف ایک مقام پر ہی کھولی جائےگی اور بعد میں دوسری جگہوں پر یہ کوشش کی جائےگی۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے انہیں اطلاع دی ہے کہ پیر کو ایل او سی کچھ تکنیکی وجوہات سے صرف ایک مقام پر کھولی جائے گی۔

کنٹرول لائن پر دونوں جانب فوجی تنصیبات موجود ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کے لوگوں کو ایل او سی پار کرنے کی پیدل آنے جانے کی اجازت ہوگی لیکن اس کے لیے انہیں انتظامیہ کی طرف سے ایک خصوصی اجازت نامہ جاری کیا جائیگا۔

عام خیال یہی ہے کہ کل شائد کوئی کشمیری تو لائن آف کنٹرول نہ کر پائے گا البتہ شائد کچھ امدادی سامان سے لدے ٹرک لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب جا پائیں گے۔

کشمیری رہنماؤوں کی جانب سے لائن آف کنٹرول کھولنے پر متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔سردار عتیق جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے صدر ہیں انہوں نے ایل او سی کھولنے کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ گو کل ایل او سی صرف ایک مقام سے کھلے گی مگر امید ہے کہ آہستہ آہستہ کشمیریوں کو منقسم کرنے والی یہ لائن پوری طرح کھل جائے گی اور دونوں اطراف کے کشمیری اس مصیبت کی گھڑی میں ایک دوسرے سے مل پائیں گے اور ایک دوسرے کی مدد کر سکیں گے۔

کل شائد کوئی کشمیری تو لائن آف کنٹرول نہ کر پائے گا البتہ شائد کچھ امدادی سامان سے لدے ٹرک لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب جا پائیں گے۔

تاہم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین امان اللہ خان نے لائن آف کنٹرول کھولنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایل او سی کو مستقل سرحد بنانے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول کو اس طرح کھول کر کشمیریوں کو ایک لولی پاپ دیا جا رہا ہے تاکہ ان کو آزادی کی تحریک سے دور کیا جا سکے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جماعت اسلامی کے صدر اعجاز افضل نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں قراردادوں میں پاکستان اور بھارت نے یہ تسلیم کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے آر پار کشمیریوں کو آنے جانے کی آزادی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ اجازت انسانی بنیادوں پر دی جا رہی ہے مگر یہ اجازت تو اقوام متحدہ نے پہلی ہی دی ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
ابھی صرف ایک جگہ سے
05 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد