متاثرین ایل او سی سے جا رہے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت میں منقسم کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دینے اور کنٹرول لائن پر پابندیاں نرم کرنے کے بارے میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بہت سے دیہات آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ پاکستان نے پانچ مقامات سے کنٹرول لائن کھولنے کی تجویز پیش کر رکھی ہے جبکہ بھارت نے تین مقامات پر زلزلے سے متاثرہ کشمیریوں کی مدد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے دس روز قبل لائن آف کنٹرول کھولنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے بعد دونو ں ممالک کے حکام باضابطہ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے حکام لائن آف کنٹرول کھولنے کے تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت کرتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثر ہونے والے لوگوں کی مخلصانہ امداد کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں بہت دیر ہو چکی ہے اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایل او سی کے قریب بہت سے متاثرہ خاندان دوسرے شہروں اور علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد دِلی میں حکام نے زلزلے کے بعد جنگ بندی کی لائن کو ’سافٹ بارڈر‘ میں تبدیل کرنے کا موقع ضائع کر دیا ہے۔ اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے وفود میں ان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ جمعہ کی شام گئے اسلام آباد پہنچنے والے بھارتی وفد کی قیادت ان کی وزارت خارجہ کے سینئر افسر دلیپ سنھا کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت جنوبی ایشیا کے متعلق ڈائریکٹر جنرل ابن عباس کر رہے ہیں۔ بھارتی وفد ایک ایسے وقت میں پاکستان آیا ہے جب گزشتہ چند روز سے دونوں ممالک کے درمیان قدرِ تلخ ماحول پیدا ہوا ہے۔ یہ تلخی اس وقت شروع ہوئی تھی جب بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے گلگت میں کرفیو اور پر تشویش ظاہر کی تھی اور امید ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فورسز عالمی انسانی اصولوں کا احترام کریں گی۔ جواب میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے کہا گیا کہ گلگت کا ایک واقعہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اصل میں انسانی حقوق کا معاملہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ان کی فوج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ہے۔ | اسی بارے میں ایل او سی کھولنے کی تجویز: ایک جائزہ20 October, 2005 | پاکستان 'بھارتی فوجیوں کے سوا ہر چیز قبول' 18 October, 2005 | پاکستان 'لائن آف کنٹرول نرم ہونی چاہیے'15 October, 2005 | پاکستان ’بھارتی ہیلی کاپٹر ایل او سی پارنہیں‘ 15 October, 2005 | پاکستان بھارتی فوج کی مدد پر اتنا وبال کیوں؟14 October, 2005 | پاکستان پانچ کشمیری خاندانوں کی منتقلی12 October, 2005 | پاکستان امداد میں ایل او سی رکاوٹ؟10 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||