پاکستان میں تاریخ کے سب سے بڑے زلزلے کے بعد جہاں بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے وہاں امدادی کارروائیوں میں تاخیر، سرکاری ردِعمل اور منصوبہ بندی میں کنفیوژن، بیرونی امداد کی کمی اور اس طرح کے دیگر مسائل نے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ زلزلے کے متاثرین، امدادی کارکن اور ہمارے قارئین نے منگل آٹھ نومبر کو بی بی سی اردو کے پروگرام سیر بین کے خصوصی ٹاکنگ پوائنٹ میں پاکستانی وزیرِ اعظم شوکت عزیز سے اس موضوع پر سوالات پوچھے۔ یہ پروگرام پاکستانی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے اور گرینج کے معیاری وقت کے مطابق تین بجے سہ پہر نشر کیا گیا۔ کیا زلزلے کی تباہ کاری، امدادی کارروائیوں اور اس سے پیدا ہونے والے سفارتی مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم کے جوابات سے آپ مطمئن ہیں؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
عامر مہاجر، سویڈن: صرف اور صرف جھوٹ بولنا حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا ہے۔ یہ لوگ لگزریئس لائف گزار رہے ہیں، ان کو غریب لوگوں کی مشکلات کا کیا اندازہ۔ بی بی سی بھی کوئی صحیح رپورٹنگ نہیں کررہا ہے۔ گار بی بی سی آئنہ دکھا رہا ہے تو اس میں لوگ غصہ کیوں ہورہے ہیں؟ زاہد راجہ، ٹورانٹو: مجھے اب بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ موجودہ آمرانہ حکومت سے ہمیں کیا توقعات ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک ڈِکٹیٹر ہے جو اب بھی سارے فیصلے کرتا ہے۔ نجف علی شاہ، بھکر: وزیراعظم کو چھوڑیں، ہمیں تو آپ کا کام بھی تسلی بخش نہیں لگتا۔ حامد علی صوفی، مسقط: کالا کمبل کبھی سفید نہیں ہوسکتا۔ یہ سیاست دان ہمیشہ سے ملک کو لوٹتے رہے اور اس بار جب ان کی تجوریاں ڈونیشن سے بھر چکی ہیں تو ان کے لیے تو سنے پر سہاگہ ہوگیا۔ بس پچیس پچیس ہزار دیکر متاثرین کو بہلا دیں گے۔ میاں عارف محمود، لاہور: بہت سے بادشاہوں اور حکمرانوں کو ان کے نو رتنوں نے ہی مروایا ہے۔ ہمارا ہاں بھی شوکت عزیز صاحب، راشد طارق عزیز، درانی، چودھریوں ۔۔۔۔ آدم مزاری، نیویارک: میں سلیم اکبر صاحب کی رائے سے بالکل متفق ہوں، بی بی سی کی رپورٹنگ میں پہلے جیسے اعتدال پسندی نہںی رہی۔ بی بی سی کو حکومت یا فوج کی کوتاہیوں کے بجائے معاشرے کے ان ناسوروں سے پردہ اٹھانا چاہئے جو اس مصیبت کی اس گھڑی سے فائدہ اٹھاکر مال بٹور رہے ہیں۔ یار بہادر، ویسٹرن سہارا: ریاض احمد صاحب کو مانسہرہ میں سر چھپانے کے لئے ٹینٹ نہ ملا۔ مگر انٹرنیٹ اور کمپیوٹر مل گیا بی بی سی کی ویب سائٹ دیکھنے کے لئے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: آٹھ اکتوبر کو پاکستان پر قیامت ٹوٹ پڑی اور یقینی طور پر ہر ایک محب وطن کی آنکھ پر نم ہے۔ یہ ایک عظیم سانحہ ہے اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور اس نقصان کو کور کرنے میں پاکستان کو سالہا سال لگیں گے۔ خالد میاں، لندن: اتنا بڑا حادثہ ہے، اس کو سنبھلتے سنبھلتے کچھ ٹائم لگتا ہے۔ صدر اور پی ایم کی نیت صحیح ہے اور کچھ لوگ تنقید برائے تنقید کے عادی ہوتے ہیں۔ بی بی سی سچ میں بری اور منفی نیوز چھاپ رہی ہے۔ مجھے صرف بیس فیصد اعتماد ہے اب بی بی سی پر۔ قاسم الدین چودھری، مظفرآباد: وزیراعظم صاحب کے جواب کیا تسلی بخش ہوں گے، یہاں تو ہم ایک ماں سے ہر ایک سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہمارا علاقہ کہیں دوسری دنیا میں ہے؟ اس لئے کہ ہم ہر دربار پر حاضری دیکر تھک گئے ہیں۔ جماعت اسلامی الدعویٰ بریگیڈ ہیڈکوارٹر مظفرپورٹ چٹان پر ہر ایک کے پاس موجود ہیں پر ٹینٹ نہیں۔ سب کے جواب وزیراعظم: ہاں بس آپ ریشان نہ ہوں، ٹینٹ آرہے ہیں۔ میر علی، کینیڈا: راحیل خان صاحب نے جو میری رائے پر کمینٹ دیا ہے ان کے لئے گزارش ہے کہ نہ تو آج کل صرف سرکاری ٹی وی ہی سب کچھ ہے اور نہ ہی میں اس زمانے کی بات کررہا ہوں جب سرکاری ٹی یو سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ میں بات کررہا ہوں اس زلزلے کی کوریج کی۔ رائے زنی کرنے سے پہلے پوری عبارت پڑھ لیا کریں۔ شکریہ۔ افتخار احمد، کشمیری: جو سوال آپ کر رہے ہیں وہ خود وزیرِاعظم کو کرنا چاہیے، حکومت کو پوچھنا چاہیے، مگر کیا کریں اس کے بعد ان کا جو حال ہو گا وہ بتانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ اظہارِرائے کی آزادی تو بس یہاں بی بی سی اردو پر ہی ہے۔ فیصل محفوظ، یو کے: وہ اچھا کام کر رہے ہیں، کسی کو بھی نہیں پتا کہ ایسی صورت حال میں کیا کیا جاتا ہے۔ اعجاز احمد، سعودی عرب: وزیرِاعظم پُتلی ہے۔ لوگوں کو باہر سے چیزیں بھجوانے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ پی آئی اے تعاون نہیں کر رہی ہے، امدادی دوائیوں پر کسٹم ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے۔ سب سیاستدان امریکہ کے نمائندے ہیں۔ صدر بھی جنرل ضیاء کا دوسرا رخ ہے۔ راحیل خان، کینیڈا: میر صاحب آپ نے کہا ہے کہ بی بی سی منفی رپورٹنگ کر رہا ہے۔ یہی تو فرق ہے ان کا اور سرکاری ٹی وی کا۔ میڈیا کا کام ہے کہ جو نہیں ہو رہا اس کی نشاندہی کریں۔ اگر آپ بی بی سی کے پرانے سامع ہیں تو آپ کو پتا ہو گا کہ جب صرف سرکاری ٹی وی ہی سب کچھ ہوتا تھا تو یہ بی بی سی ہی تھا جو صحیح خبریں دیتا تھا۔ نیاز کشمیری، متحدہ عرب امارات: ان کے جوابات حقیقت سے کوسوں دور ہیں، یا تو صاحب بہت شریف ہیں یا عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ سیما پٹھان،کینیڈا: میں متفق ہوں بےنظیر اور نوازشریف کو اجازت نہ دینے پر۔ میرا جاوید صاحب سے سوال ہے کہ کیا یہ کوئی افطار پارٹی ہے جس میں شرکت کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ وہ آنے کی بجائے اپنے ٹکٹ کے پیسے بھیج دیں۔ پروین شاکرہ، کینیڈا: میرے خیال میں حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ متاثرین کی زیادہ سے زیادہ امداد کی جائے۔ یہاں ہر شخص حکومتی امداد کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، کوئی مجھے یہ بتائے کہ 25000 امداد وصول کرنے والوں نے کبھی 25 روپے ٹیکس بھی ادا کیا ہے؟ ظہیر حبیب، اسلام آباد، پاکستان: فوج اور حکومتی اداروں کی حوصلہ شکنی کے علاوہ بی بی سی امدادی کاروائیوں میں عملی طور پر کیا کردار ادا کر رہی ہے؟ عثمان بھٹی، فرانس: وزیرِاعظم بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتے۔ انہیں اور ان کے وزیروں کی فوج کو ایک ٹیم کی طرح کام کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح لگتا ہے کہ ان کا اپنی ٹیم پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ جب لیڈر مسلط کیے جائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: میری حقیقت پسندانہ رائے سے بی بی سی ایسے ہی بھاگتی ہے جس طرح سچ بولنے سے پاکستانی سیاستدان اور فوجی ترجمان بھاگتے ہیں۔ بی بی سی اور پاکستانی سیاستدانوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ نقی علی، کینیڈا: پاکستانی فوج نے بہت بہترین انتظامات کیے ہیں۔ محمد ادریس، ہانگ کانگ: وزیرِاعظم صاحب نے جو بھی فیصلے کیے ہیں بہت اچھے ہیں، اگر آگے چل کر ان پر عمل درآمد کیا جائے تو۔ شعیب بھٹی، امریکہ: ہمیشہ کی طرح وزیرِاعظم اور ہمارے نام نہاد بہادر فوجی افسران کیمرے کے سامنے اچھا لگنے کی پوری کوشش کر رہے تھے، انہیں کبھی بھی متاثرہ عوام کا خیال نہ تھا۔ میاں آصف، لاہور، پاکستان: دیکھیں جب سوال گندم اور جواب چنا ہو تو کوئی مطمئن کیسے ہو سکتا ہے؟ امداد نہ ملنے کی شکایت پر ایک ہی جواب تھا کہ ہم سی جی آئی شِیٹ بھیج رہے ہیں۔ جھوٹ بول کر یہ کس کو قائل کر رہے ہیں۔ آپ عدنان کی رپورٹ پڑھ لیں اور صحیح کام کریں۔ سجل احمد، امریکہ: آپ لوگوں کا جھکاؤ کچھ زیادہ ہی تاریک رخ دکھانے کی طرف ہے۔ آخر آرمی اور بھی تو بہت کچھ کر رہی ہے، آپ کو کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔ ان کی اتنی برائی نہ کریں کہ ہمارا دل سیاستدانوں کی طرح آرمی سے بھی اٹھ جائے۔ سحر نایاب، کینیڈا: لمحہءِ فکریہ ہے ہم سب کے لیے کہ حکومت آج بھی زلزلہ زدگان کی مدد کی بجائے اعداد و شمار کے چکر میں پڑی ہوئی ہے۔ مرنے والوں کو گننے سے زیادہ ضروری ہے کہ زندہ لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان دیں۔ 25000 کا بار بار ذکر زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ریاض احمد،مانسہرہ، پاکستان: ہم زلزلے سے متاثر لوگ ہیں۔ ایک ماہ سے امدادی ٹیموں کے پیچھے گھوم رہے ہیں۔ آج تک امداد تو کیا سر چھپانے کو ٹینٹ بھی نہیں ملا ہے۔ کیا یہ امداد غریب عوام کے لیے ہے یا ناظمین اور ممبران کے لیے؟ افسر زیب، خوست، افغانستان: افسوس ہوتا ہے جب ہم لوگ منفی رخ دیکھتے ہیں وزیرِاعظم صاحب نے جو کچھ کہا ٹھیک کہا لیکن ہم ہیں کہ مانتے نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ اتنے پیسے تو مانگنے والوں کو دئے جاتے ہیں تو میری عرض ہے کہ آپ بھی ایک یا دو بھکاریوں کو دے دیں۔ سلیم اکبر، لاہور، پاکستان: میں بی بی سی ویب سائٹ کے معیار سے بہت مایوس ہوا ہوں۔ بی بی سی دائیں بازو سے بہت قریب لگتی ہے اور کئی بار ایسا لگتا ہے کہ میں کسی اسلامی سیاسی جماعت کا پراپیگنڈا پڑھ رہا ہوں۔ آپ کو روشن خیال اور اعتدال پسند سٹاف رکھنا چاہیے نہ کہ جمعیت کے لوگ۔۔۔۔۔ شادل محبتی، ہنزہ، پاکستان: اگر کوئی رہنما اچھے انداز میں ایسے حالات کو بخوبی نمٹا سکتا ہے تو وہ شوکت عزیز ہی ہیں۔ شیخ عنائت اللہ، بلوچستان، پاکستان: میرے خیال میں کسی حد تک وزیرِاعظم کے جوابات ٹھیک ہیں۔ حادثہ بہت بڑا اور بھیانک تھا۔ پورے علاقے کو ریلیف دینا بہت مشکل ہے، اس میں کچھ شکایت تو ہوگی۔ قمر عباس، بھکر، پاکستان: ان تلوں میں تیل نہیں، شیشے کے گھروں میں پلنے والے ممی ڈیڈی لوگ تو صرف میٹھی میٹھی باتوں سے ہی لوگوں کا دل بہلا سکتے ہیں۔ یہ تو اپنے مارگلہ کو ہی رو رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عام لوگ بھیڑ بکریاں ہیں، ان کو جیسے چاہے ہانک لیں۔ جمال اختر خان، فیصل آباد: سچی بات تو یہ ہے کہ چوٹ جس کو لگتی ہے، درد اسی کو ہوتا ہے۔ یہ محلوں میں رہنے والوں کو پریشانیوں کا کیا پتہ؟ یہ تو صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے ہیں۔ میرے خیال میں اگر یہ دنیا کو تصویر کا صحیح رخ دکھائیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ اسحاق ملک، ملتان، پاکستان: وزیر اعظم کے ان بلند و بام دعویوں کا بھانڈا صرف پندرہ دن بعد پھوٹ جائے گا جب یہ مصیبت زدہ لوگ اب سردی کے زلزلے سے موت کو گلے لگا لیں گے۔ لیکن یہ حکمران پھر بھی ایسے دعوے کرتے رہیں گے۔ یاسرنوید، کشمیر، پاکستان: پاکستان کے وزیرِاعظم سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندہ ہیں۔ ان کو کیا پتا کہ عام آدمی کے مسائل کیا ہیں۔ وہ صرف لکھا ہوا بیان پڑھنا جانتے ہیں۔ جس ملک کے وہ حکمران ہیں اس کا کیا حال ہوسکتا ہے، وہ ہمارے سامنے ہے۔ محمد سلیم، فیصل آباد، پاکستان: میں وزیرِاعظم کے بیانات اور پالیسیوں سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ خرم مجید، اسلام آباد، پاکستان: ہاں جو کچھ انہوں نے کہا ہے اگر اس پر قائم رہیں تو پاکستان اس مشکل سے باہر آ سکتا ہے۔ میرے خیال میں گھر بنانے میں فولادی چادروں اور ستونوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ صادق، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں آپ اپنی توجہ ریلیف پر مرکوز رکھیں اور انتظامیہ کو غیر ضروری کوریج نہ دیں، اس لیے کہ یہ آپ کو کبھی بھی صحیح اعدادوشمار نہیں دیں گے، اور اسے شہرت کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ متاثرہ علاقوں میں کام پر توجہ رکھیں۔ فاروقی مجتبٰی، سعودی عرب: میری رائے تو یہ ہے کہ جب تک آپ کے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوتا آپ کو اس کے درد کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ بڑے لوگ کیا جانیں کہ سردی، بھوک اور ایسی تکالیف کیا ہوتی ہیں۔ جاوید حسین، کرم ایجنسی، پاکستان: وزیرِاعظم نے کوئی بھی جواب واضع نہیں دیا خصوصاً نواز شریف اور بےنظیر کے بارے میں تو بات کا بتنگڑ بنا دیا۔ جب اسرائیل اور بھارت کی امداد قبول کی جاسکتی ہے تو ان دونوں کی کیوں نہیں آ سکتی؟ افضل افضال، پاکپتن، پاکستان: آج جناب ان اللہ کے بندوں کا بھی ذکر کر دیا ہوتاجو صرف اللہ سے جزا لینے کے لیے فوج سے بھی پہلے پہاڑ سر کر گئے تھے۔ اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی کافروں سے ڈر رہے ہیں، خدا کا خوف کب آئےگا۔ محمد رضوان، جاپان: مجھے افسوس ہے کہ بی بی سی نے آج تک میری رائے نیٹ پر نہیں دی۔ مجھے بی بی سی پر یقین ہی نہیں ہے یہ خود انڈیا کی ایجنسی ہیں۔ عدیل فاروق، جہلم، پاکستان: انکل شوکت بہت اچھا کام کر رے ہیں لیکن کچھ غلط قسم کے بندے ان کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ اور لوگوں کا کام ہی یہ ہے کہ نہ خود کچھ کرو اور نہ کسی کو کرنے دو۔ خالد آبرو، لاڑکانہ، پاکستان: وزیرِاعظم نے سچے جوابات نہیں دیے، مجھے افسوس ہے کہ یہ ہمارے حکمران ہیں۔ ان کے اندر زلزلہ زدگان کے لیے کوئی ہمدردانہ جذبات نہیں ہیں۔ خان صاحب، کینیڈا: میرے خیال میں آج کل میت پر بھی 25000 روپے کا خرچ آ جاتا ہے جبکہ یہ گھر بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ صنوبر خان، امریکہ: لگتا ہے یہ زلزلہ اللہ کا عذاب نہیں ہے بلکہ سیاستدان اللہ کا عذاب ہیں۔ وزیرِاعظم صاحب کے دھوبی کا خرچہ 25000 سے زیادہ ہوگا، ان کی کار کے پٹرول کا خرچ 25000 سے زیادہ ہو گا۔ میر علی، کینیڈا: میرے خیال میں وزیرِاعظم کے جوابات کافی سیدھے تھے، اور ان میں سیاستدانوں والا گھماؤ پھراؤ نہیں تھا۔ میں بی بی سی کا 25 سال پرانا سامع ہوں، اس زلزلے کے بعد بی بی سی کے مزاج میں ایک تبدیلی آئی ہے۔ بی بی سی اب تصویر کا تاریک رخ زیادہ نمایاں کر رہا ہے۔ ان کی خبریں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ حکومت یا فوج کو متاثرین کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں اور لوگوں کو ریلیف کی مد میں کچھ نہیں مل رہا۔ میں نے آج تک کسی این جی او یا اقوامِ متحدہ کے ادارے سے حکومتی اداروں کی کوئی خاص شکایت نہیں سنی۔ کاشف منیر، امارات: یہ وزیرِاعظم صاحب کیا جانیں یہ زندگی کتنی مشکل ہے، ساری عمر باہر جو گزار دی۔ عبدالستار، پاکستان: میں وزیر اعظم کے جوابات سے بالکل مطمئن نہیں ہوا۔ محمد فہیم خان، فیصل آباد: وزیر اعظم کے جواب تسلی بخش تھے یا نہیں، یہ نہ دیکھیں۔ یہ دیکھیں کہ ان کی نیت کیسی ہے۔ میرے خیال میں پاکستان فوج اور سول انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر بالکل درست کام کر رہی ہے، اور تقریباً تمام لوگوں کو امداد مل چکی ہے۔ بہرحال اتنے بڑے سانحہ میں سب نے اچھی کوشش کی لوگوں کو بچانے کی۔ سلیم خان، کینیڈا: بڑے کم وقت میں سیاست سیکھ گئے ہیں۔ اللہ رحم کرے ایک اور پڑھے، لکھے جاہل سیاست دان نے جنم لیا ہے۔ سید، پاکستان: میں وزیر اعظم صاحب سے یہ گزارش کروں گا کہ آپ اپنا ایک ماہ کا گزارہ پچیس ہزارمیں کر کے دکھا دیں، پھر بات کریں۔ احمد بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: میں وزیر اعظم کے جوابات سے مطمئن ہوں۔ سید محمد، دبئی: نہیں میں مطمئن نہیں ہوں۔ لوگوں کی مدد نہیں کی جا رہی ہے۔ رضا جیلانی، دبئی: وزیر اعظم صاحب کی رائے ایک ایسے شخص کی رائے ہے جو کسی ایوینٹ کو اپنے گھر میں آرام سے بیٹھ کر ٹی وی پر دیکھ رہا ہے۔ (اتنے بڑے سانحہ کو ایوینٹ کہتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے۔) ایسا شخص کبھی لوگوں کے درد کو نہیں سمجھ سکتا۔ حکومت پاکستان ہمیشہ سے ہی لوگوں سے حقائق چھپاتی رہی ہے۔ حلیم عباسی، ایبٹ آباد: میرے خیال میں متاثرین کو محض ٹینٹ فراہم کرنا کافی نہیں ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور دو تین ہفتوں میں بہت دیر ہو جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو پیسے اور دیگر ضروریات فراہم کریں تاکہ لوگ اپنے لیے سر چھپانے کی جگہ بنا سکیں۔ اعجاز احمد، سعودی عرب: وزیر اعظم سے سوال پوچھنے کا کیا فائدہ۔ اتقدار ان کے ہاتھ میں کہاں ہے۔ انہیں تو جواب لکھ دیے ہوں گے، اور انہوں نے پڑھ دیے ہونگے۔ان کی کون سنتا ہے پاکستان میں، یا باہر؟ لیاقت بال، اومان: پی ایم صاحب کو کوئی واضح جواب نہیں آ رہا تھا، بس ہوں ہاں کر رہے تھے۔ لوگ بہت دکھی ہیں۔ اللہ ان کی مدد کرے۔ طاہر فاروقی، سعودی عرب: یہ تو بس خانہ پوری والی بات ہے۔ انہوں نے سچائی ماننے سے اب بھی انکار کر دیا۔ یہ بھی واضح ہو گیا کہ مستقبل کے لیے حکومت کے پاس کوئی منصوبے نہیں ہیں۔ نغمہ نیازی، اسلام آباد: میں تو یہی کہوں گی کہ شوکت عزیز صاحب نے زلزلہ زدگان کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کا کام کیا۔ بار بار پچیس ہزار کا ذکر ایسے کیا جیسے بکھاری کو خیرات دی جا رہی ہو۔ اتنی رقم میں تو خود وہ ایک وقت کا ناشتہ کرتے ہونگے۔ اس پر یہ کہ سکولوں میں مارے جانے والے ہزاروں بچوں کو مارے جانے والوں میں شمار ہی نہیں کیا جا رہا۔ وسیع اللہ بھامبھرو، سندھ، پاکستان: وزیر اعظم صاحب کیا بول سکتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی بھی اختیارات نہیں ہیں۔ بی بی سی کو چاہیے کہ یہ پروگرام صدر کے ساتھ رکھے۔ صفیع اللہ چودھری، پاکستان: وزیر اعظم کے جوابات بالکل تسلی بخش نہیں تھے۔ اللہ ہی ہمیں ایسے سیاست دانوں سے بچا سکتا ہے۔ جو وزیر اعظم چینی کی قیمت پر قابو نہیں رکھ سکتا وہ اتنی بڑی آفت کا کیا مقابلہ کرے گا؟ نامعلوم: صدر صاحب کو متاثرین کے درد کا احساس کیسے ہوگا؟ وہ تو تبھی ہوگا جب وہ بنا کسی پروٹوکال کے ایک دن متاثرین کے ساتھ گزاریں گے۔ نعیم قریشی، ہانگ کانگ: ان کے جوابات بالکل تسلی بخش نہیں تھے۔ راجہ یونس، سعودی عرب: یہ بات تو ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی سرکاری اہلکار اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے۔ مرنے والے چاہے جتنے بھی ہوں، ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں ان کو موت سے بچایا جا سکے۔ سردی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اب تک متضاد دعوی کیے جا رہے ہیں۔ ہم وزیر اعظم کے جوابات سے مطمئن نہیں ہیں۔ |