خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہاڑوں کی چوٹیوں پر مقیم زلزلہ متاثرین کو اب یہ احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ برفباری میں خیمے ان کے لیے بےکار ثابت ہونگے اس لیے ضلع باغ کے بعض مکینوں نے اب خیموں کی جگہ ٹین کی چادروں کامطالبہ شروع کر دیا ہے۔ امدادی کارروائی کرنے والی ایک تنظیم کے انچارج خالد بشیر نے کہا ہے خمیوں کی مانگ میں تو کمی نہیں ہوئی لیکن لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ خیموں کی بجائے اگر انہیں ٹین کی چادر مل جائے تو وہ اپنے گھروں کے ملبے سے لکڑیاں نکال کر ایسی عارضی جھونپڑیاں خود ہی بنا لیں گے جو انہیں برف باری سے محفوظ رکھ سکے گی۔ دس ضرب پونے تین فٹ سائز کے ٹین کی دس چادروں سے ایک مکان تیار ہوجاتا ہے۔ چھتر نمبر کے راجہ محمد خان کا کہنا ہے کہ وہ مکان کے ملبے میں موجود لکڑی نکال کر ٹین کی چادروں کے ذریعے باآسانی اپنے اور اپنے اہلخانہ کے سر پر چھت تان سکتےہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انہیں ٹین کی چادریں مل جائیں۔ ٹین کی چادریں حاصل کرنے کے لیے قریب ترین شہر راولپنڈی ہے۔ ضلع باغ ساڑھے چارلاکھ آبادی کی شہر ہے جس میں سے کہا جارہا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ افراد متاثر ہیں اور انہیں چھت کی ضرورت ہے۔ متاثرین کی اسی فی صد آبادی دیہی ہے اور پہاڑوں کی چوٹیوں اور دامن میں رہتی ہے زیادہ تر لوگ کچے مکانات میں رہتے تھے اور اس زلزلے میں کہا جارہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نوے فی صد سے زائد کچے مکانات گرے ہیں اور زیادہ ہلاکتیں انہی کچے مکانات میں ہوئی ہیں۔ کشمیر انٹرنیشنل ریلیف فنڈ کے ڈائریکٹر ذوالفقار حیدر راجہ نے کہا کہ لوگ اپنے مکانوں کو گرم رکھنےکے لیے ان پر دو سے ڈھائی فٹ وزنی مٹی کی تہہ بچھاتے ہیں اور زلزلے میں یہی بھاری چھتیں ہلاکت خیز ثابت ہوئی ہیں۔
اس علاقے میں بتدریج سردی بڑھتی جا رہی ہے اور دوہفتے کے بعد کسی بھی وقت برفباری کا آغاز ہوسکتا ہے جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد ابھی بھی کھلے آسمان تلے پڑی ہے۔ ذوالفقار حیدر راجہ کو خدشہ ہے کہ لوگ دوبارہ وہی کچے مکان بنانا شروع کر دیں گے جوان کے مطابق اپنی زندگیاں دوبارہ خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ ایک تو یہ مکان عجلت میں تیار ہونگے اور برفباری سے قبل چھت پر مٹی کی تہہ صیح طور پر بٹھائی نہیں جاسکے گی اور کئی فٹ برف کی صورت میں یہ برف کے وزن سے ہی گر کر مزید ہلاکتیں کر سکتی ہیں۔ ذوالفقار حیدر راجہ کہہ رہے ہیں کہ دوسرے یہ کہ دوبارہ ان مکانات کو تعمیر کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کی تنظیم نے علاقے کا سروے کیا ہے اور یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ جو مکانات پتھر اور مٹی کی بجائے لکڑی اور ٹین کے بنائے گئے تھے وہ مکان اپنے مکینوں سمیت بچ گئےہیں۔ تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اب لوگوں نے خیموں کی بجائے ان سے انہی ٹین کی چادروں کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ لیکن ٹین کی چادروں کا بارے میں بھی مسئلہ وہی ایک ہے یعنی وقت سے دوڑ کا معاملہ ۔۔۔۔۔۔ قدرت نے الٹی گنتی شروع کر دی ہے روز بروز سردی کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔ | اسی بارے میں یہ ایک مہینہ08 November, 2005 | پاکستان آخر امداد کہاں جا رہی ہے ؟07 November, 2005 | پاکستان ’اس بےحیائی سے موت بہتر ہے‘06 November, 2005 | پاکستان امداد صرف ’اپنے‘ لوگوں کے لیے06 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||