BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 November, 2005, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک ماہ میں، میں نے کیا دیکھا؟

کیا حکومت لوگوں کے مالی نقصان کا مداوا کر سکے گی؟
پاکستان کے صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ آئے ایک ماہ گزر چکا ہے مگر اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریاں، لوگوں کی مشکلات، اپنوں سے بچھڑنے کا غم، سر چھپانے کی جگہیں ڈھونڈنے کی کوششیں اور امدادی سامان کی آس لوگوں میں ابھی تک ویسے ہی موجود ہیں جیسے کے زلزلے کے پہلے دن۔

زلزلے کے پہلے روز جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ ٹاور کی عمارت گری تو ساری کی ساری حکومتی مشینری کی توجہ اور امدادی کارروائی اسلام آباد پر ہی مرکوز رہی۔

ایسے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں مظفرآباد ، اور باغ، وادی جہلم اور نیلم اور صوبہ سرحد کے شہروں بالاکوٹ۔بٹگرام، کوہستان اورالائی میں کیا قیامت گزر گئی کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔ہزاروں افراد مر گئے اور سرکاری سطح پر کہا جاتا رہا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔دو روز تک متاثرہ علاقوں میں امداد نہ پہنچ پائی اور جو شائد بر وقت طبی امداد یا ملبے سے نکالے جا سکتے تھے وہ بھی مر گئے۔

ایک ہی رات میں سرکاری ترجمان نے مرنے والوں کی تعداد بڑھا کر تیرہ ہزار کر دی اس کے بعد تو گویا یہ تعداد روز بروز دوگنی ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ ایک مہینہ گزرنے کے بعد بھی مرنے والوں کے بارے میں اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں۔

زلزلے کے ایک مہینے بعد حکومت کے سامنے سب بڑا چیلنج ان علاقوں میں برفباری شروع ہونے سے پہلے ایسے خیمے پہنچانے کا ہے جو خون منجمد کرنے والی سردی کا مقابلہ کر سکیں۔

بہت سے لوگوں کو اب تک پہنچنا بھی ممکن نہیں ہو سکا ہے

اس کے ایک ماہ میں حکومتی سطح پرریلیف کمیشن، صدارتی ریلیف فنڈ اور نجانے کون کون سے ادارے اور فنڈ بنائے گئے مگر زلزلے سے بے گھر ہو جانے والے تینتیس لاکھ افراد ابھی تک اس گو مگو میں ہیں کہ وہ اپنی نئی زندگی کہاں سے شروع کریں۔اپنے گھر کی پہلی اینٹ کیسے رکھیں یا اسی ترپالی خیمے کو اب اپنا مستقل گھر جانیں جو بارش میں ٹپکے گا اور فرش سے جسم کو سردی میں مذید سردی پہنچائے گا۔

حکومت کی طرف سے مرنے والوں کے خاندانوں کے لیے ایک لاکھ روپے اور گھر کی تعمیر نو کے لیے پچیس ہزار روپے دئے جائیں گے۔ یہ وعدہ کب وفا ہو گا کوئی نہیں جانتا۔پچیس ہزار میں کیا بنے گا یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔

میں نے کیا دیکھا

آٹھ اکتوبر کو جب میں مانسہرہ سے بالاکوٹ کی طرف نکلا تو شام ڈھل چکی تھی۔ سڑک تھوڑی ہی دور بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند تھی۔ ژالہ باری اور شدید بارش میں بالا کوٹ جانے والے مانسہرہ کے کچھ افراد کے ہمراہ پیدل چل کر جب بالا کوٹ کےنزدیک پہنچا تو بالا کوٹ کا پل گر چکا تھا اور صرف ایک کچا راستہ تھا جو ایک شکستہ پل جسے حسے کا پل کہا جاتا ہے سے شہر کو جاتا ہے

اس وقت اس گاؤں کے لوگوں کے پاس کدال، بیلچے اور پھاوڑے کے علاوہ کوئی ایسا آلہ نہ تھا جس سے وہ کنکریٹ کی عمارتوں کو کاٹ کر اپنے پیاروں کو باہر نکالتے۔

میرے ہمسفر رضاکاروں کو اندازہ تھا کہ بالا کوٹ میں کیا قیامت گزر چکی ہے۔اس میں سے ایک سے جب میں نے پوچھا کہ آپ شہر میں لوگوں کی کیا امداد کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو نکالیں گے،قبریں کھودیں گے اور ان کو دفنا دیں گے اور کیا کریں گے۔

تین منزلہ شاہین پرائیویٹ سکول اور کالج اور اس سے ملحقہ دو اور سکول مکمل طور پر منہدم تھے جن میں ایک ہزار سے زائد بچے اور اساتذہ دبے ہوئے تھے۔اس عمارت کے اوپر تین عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں جو روتے ہوئے صرف یہی کہے جا رہی تھیں کہ ’بچے وچ آ گئے نے’ یعنی بچے اس عمارت کے نیچے آ گئے ہیں۔

زلزلے کی شدت کا اندازہ لگانے میں بھی حکومت کو پورے دو دن لگ گئے

شاہین سکول کی چھت میں دو نوجوانوں نے ایک چھوٹا سا سوراخ کیا تھا جس میں سے وہ ملبے کے نیچے دبے ہوئے بچوں سے باتیں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ’اس سوراخ میں سے ایک بچہ خضر ان افراد سے باتیں کر رہا تھا مگر علاقے میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسی اثنا میں ایک فرد نے خواتین سے کہا کہ کہیں سے آری ڈھونڈ ّ کر لائیں۔ مگر آری کہاں تھی۔

جب میں اس عمارت کی چھت پر چڑھا تو ان عورتوں نے مجھے روکا اور کہا کہ ادھر مت چڑھو وہاں ہمارے بچے دبے ہوئے ہیں۔

جب آری نہ ملی تو اس آدمی نے جھنجلا کر مجھ سے کہا کہ آپ پہنچ گئے ہیں مگر فوج ابھی تک کیوں نہیں پہنچی۔ پھر اس نے مجھے ہاتھ سے پرے دھکیلتے ہوئے کہا کہ میں انٹرویو لینے کے بجائے ان بچوں کو نکالنے میں اس کی مدد کیوں نہیں کرتا۔آری کیوں نہیں دیتا۔

بچ جانے والے ایک مقامی استاد جنید نے مجھے بتایا کہ بالا کوٹ میں ہر گھر سے تقریباً چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کھلے آسمان تلے بیٹھے ان لوگوں کی داد رسی کے لیے دو روز تک کوئی نہ آیا۔ آئے تو وہ سینکڑوں رضاکار جو قریبی علاقوں سے وہاں ان لوگوں کی امداد کے لیے پہنچے۔

زلزلے کے ایک ہفتے بعد جب میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی نیلم وادی کی طرف گیا تو وہاں جانے والی سڑک مکمل طور پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دریائے نیلم میں بہہ چکی تھی

لوگ دو دن کی مسافت طے کر کے پٹیکا اور نوسہری سے مظفرآباد آ رہے تھے۔ اس امید پر کہ شاید ان کو بھی سر چھپانے کے لیے خیمے اور زخم چھپانے کے لیے طبی امداد مل پائے۔

اس راستے پر بھی مجھے صرف رضاکار اور کالعدم مذہبی تنظیموں کے کارکن ہی سامان لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

زلزلے نے ان لوگوں کو بھی ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا ہے جو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے

وادی نیلم میں چھ ہزار سات سو افراد مر چکے ہیں جبکہ تیرہ ہزار چھ سو افراد زخمی ہیں۔اس وادی کا کشمیر کے دوسرے علاقوں سے رابطہ بحال ہونے میں شاید مہینوں لگیں گے۔

ایسے وقت میں جب حکومت اس سانحے سے نمٹنے کے لیے بے بس نظر آئی تو پاکستانی قوم نے اس سانحے سے نمٹنے کا بیڑا اٹھایا اور دل کھول کر متاثرین کے لیے امدادی سامان بھیجا۔

مگر اب بھی حکومت کے مطابق اکتالیس گاؤں ایسے ہیں جہاں امداد نہیں پہنچی۔ وہاں امداد کون پہنچائے گا؟

بین الاقوامی برادری نے بھی اس مصیبت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ ابتک ستر فی صد امدادی سامان پہنچانے اور ساٹھ فی صد زخمیوں کو متاثرہ علاقوں سے نکالنے میں امریکی چنوک ہیلی کاپٹر ہی کام آئے ہیں۔

بین الاقوامی برادری نے بھی اس مصیبت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ ابتک ستر فی صد امدادی سامان پہنچانے اور ساٹھ فی صد زخمیوں کو متاثرہ علاقوں سے نکالنے میں امریکی چنوک ہیلی کاپٹر ہی کام آئے ہیں۔

اس کے علاوہ ترکی نے جس طرح اس مصیبت میں پاکستان کی مدد کی ہے وہ اس وقت پاکستانی قوم کے ہر فرد کی زبان پر ہے۔

تاہم اقوام متحدہ اور پاکستانی حکومت دونوں کا اصرار ہے کہ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کو اتنی امداد نہیں دی جتنی سونامی میں دی گئی تھی اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ زلزلے کی کوئی وڈیو فوٹیج نہیں ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ سکے اور ضمیر کو جگا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد