’اور کچھ نہیں تو نیند کی گولی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مجھے اپنے بیٹے کی آواز آرہی ہے وہ ملبے کے نیچے سے مدد کے لیے پکار رہا ہے، اس نے ابھی روزہ بھی افطار کرنا ہے، وہ کہہ رہا ہے نیچے بہت اندھیرا ہے اور بارش بھی ہورہی ہے‘ ایک درمیانی عمر کا شخص زلزلے سے تباہ حال بالا کوٹ شہر میں حال ہی میں قائم کیےگئے ایک نفسیاتی کلینک پر موجود ڈاکٹر فواد کو بتا رہا تھا۔ ڈاکٹر فواد نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ مذکورہٰ شخص لاہور میں تھا جب آٹھ اکتوبر کو بالا کوٹ اور دوسرے علاقوں میں قیامت خیز زلزلہ آیا۔ زلزلے کی اطلاع پاتے ہی اپنے شہر بالا کوٹ کی طرف دوڑا تو بیٹے کو گھر کے ملبے کے نیچے پھنسا ہوا پایا۔ وہ مدد کے لیے پکارتا ہوا دم توڑ گیا لیکن آج ایک ماہ سے اوپر ہوجانے کے باوجود باپ ابھی تک ان کربناک لمحوں سے باہر نہیں نکل پایا۔ ایسے ہی کئی لوگ روزانہ نفسیاتی علاج کے اس کلینک میں آتے ہیں یا لائے جاتے ہیں جو پشاور سے تعلق رکھنے والے کچھ ماہرین نفسیات نے زلزلے سے ملبے کا ڈھیر بن جانے والے بالا کوٹ شہر میں ’آئیں بات کریں‘ کے نام سے قائم کیا ہے۔ یہ کلینک چین کی طرف سے قائم کردہ فیلڈ ہسپتال کے قریب کام کر رہا ہے۔ نفسیاتی علاج کا یہ کلینک ایک ادارے ’انٹرنیشنل فرینڈز آف ہیومینٹی‘ کے تحت کام کررہا ہے۔ تاہم کلینک پر کام کرنے والےڈاکٹرز اور نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ وہ بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے رضا کار ہیں۔ کلینک کے منتظمین میں سے ایک احتشام الحق خان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام لوگ آپس میں دوست ہیں اور سب اپنا اپنا کام چھوڑ کر آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کلینک پر کام کرنے والے ڈاکٹر فواد، ڈاکٹر ریاض، ڈاکٹر طارق اور ڈاکٹر افتخار پشاور کےمینٹل ہسپتال اور سائکائٹری انسٹیٹوٹ میں ماہرین کے طور کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کلینک ایک ہفتے کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس کے بعد ان کے ساتھ کام کرنے والے ماہرین نفسیات ہفتہ وار اس علاقے کا دورہ کیا کریں گے تاکہ زیر علاج لوگوں سے رابطے میں رہا جائے۔انہوں نے بتایا کہ کلینک پر روزانہ اسی کے قریب لوگ مشاروت کے لیے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کو اس وقت کلینک میں رش بڑھ جاتا ہے جب لوگ امدادی سرگرمیوں سے مایوس ہوکر اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ رہے ہوتے ہیں اور ان کا خیال ہوتا ہے ’چلو یہاں سے نیند کی گولی ہی لیتے چلیں‘۔ ڈاکٹر ریاض نے بتایا کہ بالا کوٹ کے لوگ دو طرح کے نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ کچھ زندگی کو خطرہ محسوس کرتے ہیں اور کچھ مر جانا چاہتے ہیں۔ پہلی کیفیت کا شکار لوگوں میں پائی جانی والی علامتوں میں نیند کا نہ آنا، چڑچڑاپن، ڈراؤنے خواب آنا، رونا، مردم بیزاری اور زلزلہ اور اس دوران دیکھے گئے تباہی کے مناظر کا بار بار یاد آنا شامل ہیں۔ دوسری طرح کی کیفیت کا شکار افراد شدید ذہنی انتشار اور دباؤ میں مبتلا ہوتے ہیں تاہم نہ تو انہیں ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں اور نہ ہی زلزلے کی تباہ کاریوں کے مناظر یاد آتے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض کا کہنا تھا کہ بچے سب سے زیادہ ذہنی صدمے سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جسم پر آنے والی چوٹیں شروع میں زیادہ تکلیف دیتی ہیں لیکن علاج سے جلد ہی ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ تاہم ذہن پر لگنے والے گھاؤ ابتداء میں اتنے پریشان کن نہیں لگتے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی تکلیف دہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ریاض کا خیال تھا کہ حکومت کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں خصوصاً بالا کوٹ میں نفسیاتی علاج کے لیے کوئی مستقل ادارہ قائم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو کافی تعداد میں امدادی ادارے اور کارکن متاثرہ علاقے میں موجود ہیں جن کی وجہ سے دن بھر کوئی نہ کوئی سرگرمی رہتی ہے لیکن سردی بڑھتے ہی بالا کوٹ باہر سے آئے لوگوں سے خالی ہوتا چلا جائے گا اور پھر مقامی لوگوں پر نفسیاتی دباؤ میں شدید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان بالاکوٹ: زلزلہ پروف سکول کی تعمیر07 November, 2005 | پاکستان آٹھ اکتوبر کے بعد طاقتور ترین زلزلہ06 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟05 November, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد: ’دنیا کے دہرے معیار ہیں‘04 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: رنج و غم تلے دبی ہوئی عید 03 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: فوری امداد کی ایک اور اپیل30 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||