BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 November, 2005, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق

میجر جنرل فاروق احمد خان
’خیمے برفباری اور سرد موسم سے متاثرین کو بچا نہیں سکتے‘
پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں برفباری اور شدید سرد موسم سے لوگوں کو بچانےکے لیے خیمے اور ان کے منہدم شدہ گھروں کے ملبے سے ایک کمرہ بنا کر دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی ریلیف کمشنر نے کہا کہ ابھی تک متاثرہ علاقوں میں سو سے زائد کمروں کی تعمیر کی جا چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ سو ملین روپے سے خریدی گئی ٹین کی چھتیں متاثرہ علاقوں میں مفت بانٹی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر برفباری اور سرد موسم وقت سے پہلے شروع ہو جاتا ہے تو اس بارے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور سوبہ سرحد کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ نچلے علاقوں میں اپنے پاس پچھتر ہزار سے لے کر ایک لاکھ افراد کی گنجائش کی خیمہ بستیاں قائم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان حکومتوں کو خیمے وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔ اس کا مقصد متاثرین کو چھت فراہم کرنا ہے۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا خیمے برفباری اور سرد موسم سے متاثرین کو بچا سکیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ اونچی جگہوں پر ایسا ممکن نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے اونچے مقامات پر لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ نچلے مقامات کی طرف آ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ لوگوں کو ابتک ایک اعشاریہ سات ارب روپے فراہم کئے جا چکے ہیں۔ ان میں سے گھر بنانے کے لیے پچھیس ہزار روپے نقد جبکہ مرنے والے لواحقین کو ایک لاکھ روپے کے چیک دیے جا رہے ہیں۔

ریلیف کمشنر نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والے افراد کی تعداد تہتر ہزار تین سو اٹھارہ ہے۔

انہوں نے اسلام آباد میں قائم امدادی کیمپوں کی منتقلی کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد کے امدادی کیمپ عارضی ہیں اور متاثرین کے لیے اٹک اور چکوال میں بڑی خیمہ بستیاں بنائی جائیں گی۔

ریلیف کمشنر کے مطابق اب کوئی گاؤں ایسا نہیں ہے جہاں تک امدادی ٹیمیں اور سامان نہ پہنچ پایا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے چند ماہ میں امدادی کاموں کے لیے دو ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔

66ایک ماہ بعد
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک کیا کیا ہوا
66تشکر کےآنسولیکن۔۔
امدادی سامان میں بعض چیزیں غیر معیاری ہیں
66مظفر آباد گرلز کالج
ٹینٹ کلاسوں میں زندگی اور امید کا سبق
66عید کہاں ہے؟
پشاور کے ہسپتال کے ایک وارڈ میں عید
اسی بارے میں
احتجاج: پولیس کا لاٹھی چارج
11 November, 2005 | پاکستان
امداد کی تقسیم کے مسائل
11 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد