ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں برفباری اور شدید سرد موسم سے لوگوں کو بچانےکے لیے خیمے اور ان کے منہدم شدہ گھروں کے ملبے سے ایک کمرہ بنا کر دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی ریلیف کمشنر نے کہا کہ ابھی تک متاثرہ علاقوں میں سو سے زائد کمروں کی تعمیر کی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سو ملین روپے سے خریدی گئی ٹین کی چھتیں متاثرہ علاقوں میں مفت بانٹی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر برفباری اور سرد موسم وقت سے پہلے شروع ہو جاتا ہے تو اس بارے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور سوبہ سرحد کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ نچلے علاقوں میں اپنے پاس پچھتر ہزار سے لے کر ایک لاکھ افراد کی گنجائش کی خیمہ بستیاں قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان حکومتوں کو خیمے وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔ اس کا مقصد متاثرین کو چھت فراہم کرنا ہے۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا خیمے برفباری اور سرد موسم سے متاثرین کو بچا سکیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ اونچی جگہوں پر ایسا ممکن نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے اونچے مقامات پر لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ نچلے مقامات کی طرف آ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ لوگوں کو ابتک ایک اعشاریہ سات ارب روپے فراہم کئے جا چکے ہیں۔ ان میں سے گھر بنانے کے لیے پچھیس ہزار روپے نقد جبکہ مرنے والے لواحقین کو ایک لاکھ روپے کے چیک دیے جا رہے ہیں۔ ریلیف کمشنر نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والے افراد کی تعداد تہتر ہزار تین سو اٹھارہ ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں قائم امدادی کیمپوں کی منتقلی کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد کے امدادی کیمپ عارضی ہیں اور متاثرین کے لیے اٹک اور چکوال میں بڑی خیمہ بستیاں بنائی جائیں گی۔ ریلیف کمشنر کے مطابق اب کوئی گاؤں ایسا نہیں ہے جہاں تک امدادی ٹیمیں اور سامان نہ پہنچ پایا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے چند ماہ میں امدادی کاموں کے لیے دو ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ |
اسی بارے میں احتجاج: پولیس کا لاٹھی چارج11 November, 2005 | پاکستان بارش: زلزلے کے متاثرین مشکل میں11 November, 2005 | پاکستان امداد کی تقسیم کے مسائل11 November, 2005 | پاکستان شدید بارش سے کارروائیاں متاثر10 November, 2005 | پاکستان دوسرا کراسنگ پوائنٹ بھی کھل گیا09 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||