بارش: زلزلے کے متاثرین مشکل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور سرحد کے علاقوں میں کل رات وقفے وقفے سے جاری بارش نے بے گھر زلزلہ متاثرین کے لیے قیامت برپا کر دی۔ ان علاقوں میں درجہ حرارت ایک دم گر گیا اور بے گھر لوگ سردی میں ٹھٹھرتے رہے اور لمبی اندھیری رات کاٹنا انتہائی مشکل ہوگیا۔ ضلع باغ کے کئی گاؤوں میں لوگ اپنے گھر کے ملبے کے نزدیک بارش میں بھیگتے دکھائی دئیے چند افراد درختوں اور بچی کچھی عمارتوں کے نیچے دکھائی دئیے۔ پدر گل شیر میں کشمیر ریلف فنڈ کے امدادی کیمپ میں چند افراد ٹین کی چاردیں لینے آئے تھے کہ رات پڑ گئی اور بارش ہونے لگی وہ لوگ ساری رات ترپال کے نیچے بیٹھے جاگتے رہے۔ انہی میں سے ایک دیہاتی طارق نے کہا کہ اس کے بیوی بچے مر چکے ہیں اور اب اس کی بوڑھی والدہ اور ساس ان کے انتظار میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھی ہیں۔ طارق کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ واپس پہنچیں گے تو ان دونوں خواتین میں سےکوئی زندہ ہوگا یا نہیں؟
ضلع باغ کے گاؤں پدر گل شیر میں جمعہ کی صبح ایک عورت روتی دکھائی دی وہ کہہ رہی تھی کہ رات اس کے لیے قیامت تھی اس نے مکئی کے پودے اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے بارش سے بچاؤ کے لیے عارضی چھت بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہی۔ وہ اور اس کے بچے سردی سے کانپتے رہے اس نے کہا کہ اس کا ایک بچہ تو زلزلے میں مر چکا ہے اور اسے خدشہ ہے کہ مزید اب سردی سے نہ مر جائیں۔ اس بارش نے مقامی لوگوں کے یہ خدشات بھی درست ثابت کیے کہ موجودہ خیمے ان کے مسئلے کا حل نہیں ہیں اور رات کی ہلکی بارش میں ہی بعض خیمے رسنے لگے۔ خیموں میں لکڑیاں جلا کر گرمی پیدا نہیں کی جاسکتی اس کوشش میں گذشتہ چند روز میں کچھ خیموں میں آگ بھی لگی تھی۔ ضلع باغ کی گنگا چوٹی پر پڑی برف دور سے نظر آرہی ہے۔ اس چوٹی پر اس سال کی یہ پہلی برفباری ہے۔ لسڈانہ ، بھیڈی ،جڑی کوٹ ،نیزہ گلی کے علاقوں میں برفباری کی وجہ سے درجہ حرارت بہت گر گیا ہے۔ کاغان کے پہاڑوں اور وادی نیلم کے بعض حصوں سے بھی برفباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس بارش نے لینڈ سلائڈنگ میں بھی اضافہ کر دیا ہے مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ان میں بارش کا پانی رستے رہنے سے لینڈ سلائینڈنگ معمول سے زیادہ ہو رہی ہے۔ ضلع باغ میں ابھی بھی گہرے اور ہلکے بادل چھائے ہیں اور پہاڑوں پر مخلتف مقامات پر ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں میں مصروف ایک کارکن ذوالفقار راجہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی توقع سے پہلے ہی سردی کی لہر نے علاقے کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب ایک بار پھر اسی ہنگامی نوعیت کی کارروائیوں کی ضرورت ہے جیسی زلزلے سے اگلے دو چار روز کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا ان حالات میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں باغ میں خارش کی بیماری پھیل گئی09 November, 2005 | پاکستان ’چھیاسی ہزار سے زائد ہلاکتیں‘10 November, 2005 | پاکستان شدید بارش سے کارروائیاں متاثر10 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا09 November, 2005 | پاکستان ماحولیاتی تنظیموں کا الرٹ09 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||