BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 November, 2005, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلے کو1ماہ: شہر ملبے کےڈھیر

متاثرین
ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہیں جو بچ گئے کھلے آسمان تلے سرد موسم میں پڑے ہیں
پاکستان میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے تباہ کن زلزلے کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے لیکن امدادی سرگرمیوں کی رفتار ابھی بھی مکمل طور پر تسلی بخش قرار نہیں دی جاسکتی ہے۔

زلزلے سے صوبہ سرحد کا سب سے زیادہ متاثرہ شہر بالاکوٹ اب بھی ملبے کے ڈھیر کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ بازار میں ایک تجارتی عمارت کے ملبے سے منگل کو دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

دعوت اسلامی نامی تنظیم کے ہری پگڑی پہنے کارکنوں نے اللہ اکبر کے نعروں کے جوش اور سر پر سے گزرنے والے ہیلی کاپٹروں کے شور میں تین چھتیں توڑ کر دو لاشوں تک رسائی حاصل کی۔

کھودائی کے دوران تنظیم کے دو کارکن ایک جانب کھڑے نعتیں پڑھتے رہے جبکہ چھت میں جہاں کھودائی کی جا رہی تھی اس کے اوپر کئی دیگر افراد نے سفید چادر پردے پکڑے رکھی تاکہ لاش کی بےحرمتی نہ ہو۔ فضا میں تعفن اور تماشا کرنے والوں کے رش نے عجیب منظر پیدا کر رکھا تھا۔

ایک شخص محمد یونس نے ان میں سے ایک لاش کی شناخت اس کے پچیس سالہ بھائی چڑیا خان کے طور پر کی۔ چڑیا خان ٹھیک ایک ماہ قبل اس عمارت میں ادویات کی ایک دوکان میں کمر کے درد کے لیے دوا لینے آیا لیکن زندگی سے ہی آزاد ہوگیا۔ دوسری لاش کی شناخت آخری وقت تک نہیں ہوسکی۔

تنظیم کے امیر محمد خالد نے بتایا کہ وہ تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں اس کام کی کوئی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں۔ وہ گزشتہ بیس روز میں پچاس لاشیں نکال کر انہیں اسلامی رسم ورواج کے مطابق دفنا چکے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ بچ جانے والوں کی امداد دور کی بات ابھی تو جو ہلاک ہوچکے ہیں ان کی بھی مناسب تدفین نہیں ہوسکی ہے۔ اسی لیے مرکزی اور صوبائی حکومتیں مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں اندازے ہی لگا رہی ہیں ٹھوس اعدادوشمار ان کے پاس بھی نہیں۔

امدادی سرگرمیوں کا یہ حال ہے کہ بالاکوٹ میں ایک مقام پر گزشتہ تین روز ہلاک شدگان کے پسماندہ گان میں امدادی رقوم کی تقسیم جاری ہے لیکن رش اور بدنظمی عیاں ہے۔

ایک سفید داڑھی والے نور عالم نے بتایا کہ وہ تین روز سے آ رہا ہے لیکن اس رقم کا چیک حوالے نہیں کیا جا رہا۔ نور کا کہنا تھا کہ ایک تو خدا کی جانب سے عذاب تھا سو برداشت کر لیا لیکن اب یہ بےعزتی برداشت نہیں ہوتی۔

 امدادی سرگرمیوں کا یہ حال ہے کہ بالاکوٹ میں ایک مقام پر گزشتہ تین روز ہلاک شدگان کے پسماندہ گان میں امدادی رقوم کی تقسیم جاری ہے لیکن رش اور بدنظمی عیاں ہے۔

ہزاروں ہلاک ہوئے لیکن ہر یونین کونسل کی سطح پر رقم تقسیم کرنے کا ایک بوتھ بنا ہے جوکہ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے ناکافی ہے۔

خیموں کی کمی اب بھی ہے لیکن اب مزید انتظار کیے بغیر کئی سرد علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ ان میں کاغان اور ناران بھی شامل ہیں۔

راستہ کھل جانے کے بعد اب ان متاثرین کو گاڑیوں میں مانسہرہ اور ایبٹ آباد لایا جا رہا ہے۔ ہرگاڑی کی اگلی نشست پر ایک بندوق بردار فوجی بھی بیٹھے نظر آیا۔ لیکن ضلع بٹگرام کی الائی تحصیل میں پہاڑ کی چوٹیوں پر رہنے والے لوگ اب بھی حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

وزیر مملکت برائے پانی اور بجلی امیر مقام نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی سطح پر لوگوں کو نقل مکانی کرنے سے روکا جا رہا ہے جو کہ ان لوگوں کے لیے انتہائی خطرناک بات ہے۔

امیر مقام نے بتایا کہ سرد موسم میں یہ لوگ اوپر نہیں رہ سکیں گے۔ پہلے تو ان کے مکانات درست تھے اور خوراک وہ جمع کر سکتے تھے لیکن اب ان کے لیے ایسا ممکن نہیں۔

الائی کے ایسے چالیس ہزار افراد کے لیے حکومت نے میرا کے مقام پر خیمہ بستی بسائی ہے جہاں وفاقی وزیر کے مطابق اُن کے مال مویشی کا بھی بندوبست کیا جاسکتا ہے۔

 وزیر مملکت برائے پانی اور بجلی امیر مقام نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی سطح پر لوگوں کو نقل مکانی کرنے سے روکا جا رہا ہے جو کہ ان لوگوں کے لیے انتہائی خطرناک بات ہے۔

بالاکوٹ میں خیمہ بستیاں جگہ جگہ آباد ہوگئی ہیں لیکن ملبہ ہٹانے کا کام ابھی بھی شروع نہیں ہوا ہے۔ شہر جو آٹھ اکتوبر کے بعد تباہی کی تصویر تھی سو آج بھی ہے۔

اس بات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔ ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہیں جو بچ گئے کھلے آسمان تلے سرد موسم میں پڑے ہیں۔

متاثرین اب بھی امداد کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے حکام کو کوس رہے ہیں اور دور دراز کے علاقوں تک امداد کی رسائی ابھی بھی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ کافی امدادی کام ہورہا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہے۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں نقصان تو یقینا بہت زیادہ ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر سست روی سے امداد کی تقسیم اور متاثرین کے لئے دیگر مشکلات حالات کو مزید خراب کر رہی ہیں۔

66عید کہاں ہے؟
پشاور کے ہسپتال کے ایک وارڈ میں عید
66تشکر کےآنسولیکن۔۔
امدادی سامان میں بعض چیزیں غیر معیاری ہیں
66بنا پرچی کچھ نہیں
واقفیت کی بنیاد پر امداد کی تقسیم کی شکایت
66زلزلہ پروف سکول
بالاکوٹ میں پری فیبریکیٹڈ سٹیل کا سکول
66یہ ایک مہینہ
زلزلے کےایک ماہ میں کیا کیا ہوا: وسعت اللہ خان
اسی بارے میں
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر
06 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد