زلزلہ: مرنے والوں کی تعداد 87000 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلہ میں مرنے والوں کی تعداد چھیاسی ہزار ہو گئی ہے جبکہ زخمییوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیرھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ نئی تعداد ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی تجزیاتی رپورٹوں کے مکمل ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ تاہم پاکستان حکومت کے قائم کردہ ریلیف کمشن کے مطابق زلزلے میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 73,276 ہی ہے۔ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نےاپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ زلزلہ سے ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے پتہ چلا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ستاسی ہزار ہے۔ ورلڈ بینک اور ایشن ڈویلپمنٹ بینک کی تجزیاتی ٹیم حکومت کی تجزیاتی ٹیموں کے ساتھ علاقے میں جانی اور مالی نقصان کا اندازہ لگاتی رہی ہیں۔ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تباہی صوبہ سرحد سے زیادہ ہے ۔ اس زلزلہ میں سات ہزار ایک سو ستانوے تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے اور تین ہزار آٹھ سو سینتیس کلو میٹر روڈ تباہ ہو گئے ہیں۔ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلمپنٹ کی زلزلہ سے تباہی کے بارے میں رپورٹ زلزلہ سے عالمی امدادی اداروں کی انیس نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کی جائی گی۔ |
اسی بارے میں ’ عالمی امداد بالکل ناکافی ہے‘ 21 October, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد، ’جوش کم ہو رہا ہے‘01 November, 2005 | پاکستان زلزلے نے سب کو برابر کر دیا 03 November, 2005 | پاکستان ’سب آگے بھیج دیتے ہیں‘ 03 November, 2005 | پاکستان ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری04 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||