زلزلے کے نتیجے میں ذہنی امراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایبٹ آباد کے سب سے بڑے ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد سے زندگی قدرے معمول کی جانب لوٹ رہی ہے لیکن ایک زخمی ایسا بھی لایا گیا ہے جو اس طرح کے مزید مریضوں کی آمد کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ صوبہ سرحد کے ضلع بٹگرام کے پچیس سالہ حکیم خان نے اچانک اپنی بندوق اٹھائی ایک کیل پر اس کی لبلبی لٹکائی اور بندوق کی نالی اپنے سینے پر رکھ کر اسے کھینچ لیا۔گولی چلی، اور سینے میں اتر کر دل کے قریب سے ہوتی ہوئی قمر سے نکل گئی۔ اس واقعے کو آٹھ روز ہوچکے ہیں لیکن اس کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ وہ بے ہوش ہے اور اس کے منہ سے صرف آہ جیسی آواز کبھی کبھی نکلتی ہے۔ اس کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد سے حکیم خان کی ذہنی حالت بگڑ گئی تھی۔ اس کے چچا زاد بھائی محمد زاہد نے بتایا کہ حکیم زلزلے کی وجہ سے اس حالت کو پہنچا ہے۔ اس نے کسی گھریلو جھگڑے یا کسی دوسرے تنازعہ کا اس واقعے کی وجہ ہونے سے انکار کیا۔ ’زلزلے کے پہلے جھٹکے سے یہ ڈر گیا۔ یہ گھر سے نکل کر باہر بھاگ گیا تھا۔اس کا یا اس کے گھر والوں کا زلزلے سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوا تھا کہ جس سے یہ کوئی مزید برا اثر لیتا۔ زلزلے سے پہلے یہ بلکل تندرست تھا‘۔ حکیم خان باقی چار بھائیوں سے بڑا ہے اور اب ہسپتال کے سرجیکل اے وارڈ میں پڑا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں ہیں اور ویزے کی وجہ پاکستان نہیں آسکتے۔
اس کے طبی معالج کہتے ہیں کہ ’ہوسکتا ہے حکیم نے یہ کام ذہن پر زلزلے سے پڑنے والے برے اثر کی وجہ سے کیا ہو۔ ڈاکٹر فضل ودود نے بتایا کہ وہ ابھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ خطرے سے باہر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں لایا جانے والا یہ اس نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ ماہرین کے مطابق خوفناک زلزلے نے اس سے متاثرین پر کافی برا ذہنی اثر چھوڑا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سامنے آنا شروع ہوں گے۔ شاید حکیم خان نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ ایوب میڈیکل کمپلیکس میں اب بھی زلزلے سے متاثرہ تقریبا ڈیڑھ سو زخمی اور بیمار داخل ہیں جبکہ باہر بڑے بڑے جدید خیموں میں جاپان اور ناروے کی جانب سے فیلڈ ہسپتال میں بھی ایک سو تیس زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن ان ہسپتالوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں چھوٹے چھوٹے فیلڈ ہسپتالوں کی بندش اور واپسی کے بعد سے ان کے پاس مریضوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایوب میڈیکل کمپلیکس میں قائم انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس کے سرجیکل ہسپتال کے منتظمین اس کی گنجائش آئندہ چند روز میں ایک سے بڑھا کر دو سو بستر کر رہے ہیں۔ ہسپتال کی سربراہ ہیلدر مگنسداتر کا کہنا ہے کہ فل الحال چھ ماہ کے لیے یہ سہولت چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایوب میڈیکل کمپلیکس کے باہر چمن میں زلزلے کے بعد ابتدائی دنوں میں جو افراتفری اور بدنظمی دکھائی دے رہی تھی وہ اب نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ ان تنظیموں کا اپنے کیمپوں کے ساتھ واپس چلے جانا ہے جو امداد کے لیے آئے تھے۔ | اسی بارے میں ایک ماہ میں، میں نے کیا دیکھا؟08 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان یہ ایک مہینہ08 November, 2005 | پاکستان زلزلے کو1ماہ: شہر ملبے کےڈھیر 08 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان امداد صرف ’اپنے‘ لوگوں کے لیے06 November, 2005 | پاکستان چار کمبل بھی سردی نہیں روکتے06 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||