مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | زلزلے کے متاثرین: ایک نئے مستقبل کی تلاش |
پاکستان کے وزیر صحت نصیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھیاسی ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے ایک تحریری رپورٹ صحافیوں کو دی جس میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھیاسی ہزار لکھی گئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے یہ تعداد دو روز قبل تہتر ہزار بتائی تھی تو وزیر کا کہنا تھا کہ ان کو یہ تازہ ترین تعداد وفاقی ریلیلف کمیشن نے فراہم کی ہے۔ وفاقی وزیرصحت نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کسی قسم کی بیماریاں پھیلنے خصوصا ہیضہ اور تشنج سے بچاؤ کے تمام حفاظتی انتظامات کر لئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں سے ہیضہ، تشنج اور اسہال کے نئے کیسز رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان بیماریوں سے زلزلے کے شروع میں اموات ہوئی تھیں مگر اب ان پر قابو پا لیا گیا ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ پورے ملک کے ہسپتالوں میں گیارہ سو سے زائد زلزلے سے متاثرہ افراد کے آپریشن کرکے ان کے ہاتھ یا پاؤں زخم بگڑنے کی وجہ سے کاٹنے پڑے ہیں اور ان کے لئے مصنوعی اعضاء کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ان افراد میں سے زیادہ تر خواتین ہیں۔ وزیر صحت نے یہ بھی کہا ہے کہ زلزلے کے بعد تشنج کی ویکسین کی ضرورت تھی جس کو اقوام متحدہ نے فوری طور پر پاکستان پہنچا دیا تھا۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سردی اور برفباری میں بیماریوں سے بچاؤ کے لئے حکومت نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔وفاقی سیکریٹری صحت انور محمود کے مطابق برفباری میں سانس اور پھیپھڑے کی بیماریوں کا خدشہ ہے مگر اس کے لئے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو حفاظتی ویکسین فراہم کر دی گئی ہے۔ |