BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 November, 2005, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چھیاسی ہزار سے زائد ہلاکتیں‘

زلزلے کے متاثرین: ایک نئے مستقبل کی تلاش
زلزلے کے متاثرین: ایک نئے مستقبل کی تلاش
پاکستان کے وزیر صحت نصیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھیاسی ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے ایک تحریری رپورٹ صحافیوں کو دی جس میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھیاسی ہزار لکھی گئی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے یہ تعداد دو روز قبل تہتر ہزار بتائی تھی تو وزیر کا کہنا تھا کہ ان کو یہ تازہ ترین تعداد وفاقی ریلیلف کمیشن نے فراہم کی ہے۔

وفاقی وزیرصحت نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کسی قسم کی بیماریاں پھیلنے خصوصا ہیضہ اور تشنج سے بچاؤ کے تمام حفاظتی انتظامات کر لئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں سے ہیضہ، تشنج اور اسہال کے نئے کیسز رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان بیماریوں سے زلزلے کے شروع میں اموات ہوئی تھیں مگر اب ان پر قابو پا لیا گیا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ پورے ملک کے ہسپتالوں میں گیارہ سو سے زائد زلزلے سے متاثرہ افراد کے آپریشن کرکے ان کے ہاتھ یا پاؤں زخم بگڑنے کی وجہ سے کاٹنے پڑے ہیں اور ان کے لئے مصنوعی اعضاء کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ان افراد میں سے زیادہ تر خواتین ہیں۔

وزیر صحت نے یہ بھی کہا ہے کہ زلزلے کے بعد تشنج کی ویکسین کی ضرورت تھی جس کو اقوام متحدہ نے فوری طور پر پاکستان پہنچا دیا تھا۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سردی اور برفباری میں بیماریوں سے بچاؤ کے لئے حکومت نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔وفاقی سیکریٹری صحت انور محمود کے مطابق برفباری میں سانس اور پھیپھڑے کی بیماریوں کا خدشہ ہے مگر اس کے لئے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو حفاظتی ویکسین فراہم کر دی گئی ہے۔

66زلزلہ پروف سکول
بالاکوٹ میں پری فیبریکیٹڈ سٹیل کا سکول
66زلزلہ:ایک ماہ مکمل
امدادی سرگرمیوں کی رفتار تسلی بخش نہیں
66ایک ماہ بعد
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک کیا کیا ہوا
66یہ ایک مہینہ
زلزلے کےایک ماہ میں کیا کیا ہوا: وسعت اللہ خان
66اماں!ہم کدھرجائیں گے
زلزلے کے بعد خوف، کم خوابی اور ذہنی دباؤ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد