BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 November, 2005, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلےسےمتاثرہ ذہنی مریضوں میں اضافہ

زلزلے سے متاثرہ شخص
ڈراؤنے خواب بھی بہت سے لوگوں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہیں
اماں !ہم کدھر جائیں گے۔۔۔۔۔
گاڑی کوئی نہیں ہے۔۔
اماں!! ہم کیسے گھر جائیں گے۔۔۔۔
اماں! لڑکیاں ساری گم ہوگئی ہیں۔۔۔۔۔۔
مجھے ڈر لگتاہے۔۔۔۔۔
اماں آؤ چلو۔۔۔۔
اماں! اماں! اماں

یہ چیخیں ایک جوان کشمیری لڑکی کی ہیں ہے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے شعبہ ذہنی امراض میں لائی گئی۔اس لڑکی کو اس کی ماں اس کی خالہ اور بھائی سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہ لڑکی مسلسل روتی اور چیختی رہی۔

 عورتوں کے علاوہ بچوں کی بڑی تعداد خوف کا شکار ہے وہ اپنے گھر نہیں جانا چاہتے اور اگر ان کے والدین یا سرپرست کچھ دیر کے لیے ان سے دور ہوجائیں تو وہ ڈر کے رونے اور چلانے لگتے ہیں۔
ماہر نفسیات
دھیر کوٹ کے رہائشی محمد ساجد نےگلوگیر لہجے میں بتایا کہ وہ اس لڑکی کے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے کےچار دن بعد بیس سالہ بہن الفت کی حالت خراب ہوگئی، وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کا مرض بڑھتا جارہاہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال باغ کے شعبہ ذہنی امراض میں یہ اکیلی مریضہ نہیں تھیں بلکہ مریضوں کی ایک لائن لگی ہوئی تھی جو ماہر نفسیات کے پاس علاج کے لیے آئے تھے ۔

عالمی ادارہ صحت کی چار رکنی ٹیم کوئی دو ہفتے سے کام کر رہی ہیں۔ ایم نبی چمکانی اسی ٹیم کے ایک رکن ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کے بعد سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد خوف، بے چینی ،کم خوابی اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔

ڈراؤنے خواب بھی بہت سے لوگوں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ تیس کے قریب مریضوں کو دیکھتے ہیں جبکہ ان کے علاوہ ایک ٹیم دیہات کے دورے کرکے وہیں مریضوں کو دیکھتی ہے۔

ان کےپاس سے مرگی کی ایک مریضہ اٹھ کر گئی تو گاؤں ریالہ غازی آباد کے گورنمنٹ گرلز سکول کی ہیڈ مسٹرس رئیسہ بیگم آ بیٹھیں۔

انہوں نے بتایا کہ زلزلے والے دن انہوں نے چھٹی کی تھی اور جب زلزلہ آیا تو وہ گھر سے باہر نکل آئیں۔ انہیں زمین گھومتی نظر آرہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کا رونا دھونا بھاگنا ان کے ذہن پر نقش ہوگیا ہے اور پھر بار بار آنے والے زلزلے کے ہرجھٹکے سے انہیں ڈر لگتا ہے، وہ ڈرتی ہیں کہ سب کچھ ان کے اوپر نہ آگرے اور وہ کہیں دب کر مر نہ جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سر میں درد رہتا ہے اور کبھی کبھی ساری رات نیند نہیں آتی۔

ایک طرف تو زلزلے میں ہولناک تباہی اور صدمہ نے لوگوں پر برا اثر ڈالا ہے تو دوسری طرف ان علاقوں میں آنے والے زلزلے کے مسلسل جھٹکوں نے لوگوں کی نفسیاتی صورتحال بگاڑنے میں بڑا کردار ادا کیاہے۔

کاغان میں عید سے ایک رات پہلے آنے والے زلزلے کے جھٹکوں میں عورتیں اور بچے چیختے چلاتے اور روتے ہوئے دکھائی دیے۔

باغ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پہلے کبھی اس طرح مسلسل جھٹکے نہیں آئے ہیں۔

ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ عورتوں کے علاوہ بچوں کی بڑی تعداد خوف کا شکار ہے وہ اپنے گھر نہیں جانا چاہتے اور اگر ان کے والدین یا سرپرست کچھ دیر کے لیے ان سے دور ہوجائیں تو وہ ڈر کے رونے اور چلانے لگتے ہیں۔

ضلع باغ کے ایک گاؤں چھتر کے رہائشی پندرہ سالہ عابد اقبال کو علاج کے لیے اسلام آباد شفٹ کر دیا گیاہے۔

انہوں نے اپنے سر پر آگ لگا لی تھی اور وہ چیختے تھے کہ قیامت آنے والی ہے۔ ان کے تایا محمد یونس نے بتایا کہ زلزلے والے دن وہ بازار میں تھے۔ زلزلہ آیا تو انہوں نے بازار کو تباہ ہوتے دیکھا۔ دوڑ کر گھر پہنچے تو گھر گِر چکا تھا اور ان کے پھوپھی زاد ہم عمر بھائی آصف نے ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا۔

محمد یونس نے بتایا کہ پہلے تو عابد نے لمبی لمبی نمازیں پڑھنا شروع کر دیں پھر اچانک وہ خدا کے خلاف باتیں کرنے لگے پھر انہوں نے جلد قیامت آنے کا اعلان کر دیا اور اب انہوں نے چولہے میں کود کر جان دینے کی کوشش کی تو انہیں اسلام آباد شفٹ کر دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عتیق زاہد کا کہنا ہے کہ خارش کے مریضوں کے بعد سب سے بڑی تعداد ذہنی مریضوں کی آرہی ہے اور کئی کی حالت اتنی خراب تھی کہ انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد اور راولپنڈی منتقل کرنا پڑا۔

ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد گم صم رہتی ہے تو کچھ تھوڑی سی بات پر چلانے لگتےہیں۔

66ایک ماہ بعد
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک کیا کیا ہوا
66زندگی کی تعمیر نو
’اصل کام جینے کی نئی امنگ پیدا کرنا ہے‘
66بے پردگی کا مسئلہ
کاغانی خیمہ بستی میں کیوں نہیں رہتے؟
66بالاکوٹ میں عید
جہاد کی دعوت، جدائی کا غم، ملبے کے ڈھیر
اسی بارے میں
کیمپوں میں بیماریوں کا راج
09 November, 2005 | پاکستان
آخر امداد کہاں جا رہی ہے ؟
07 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد