زلزلےسےمتاثرہ ذہنی مریضوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اماں !ہم کدھر جائیں گے۔۔۔۔۔ گاڑی کوئی نہیں ہے۔۔ اماں!! ہم کیسے گھر جائیں گے۔۔۔۔ اماں! لڑکیاں ساری گم ہوگئی ہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے ڈر لگتاہے۔۔۔۔۔ اماں آؤ چلو۔۔۔۔ اماں! اماں! اماں یہ چیخیں ایک جوان کشمیری لڑکی کی ہیں ہے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے شعبہ ذہنی امراض میں لائی گئی۔اس لڑکی کو اس کی ماں اس کی خالہ اور بھائی سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہ لڑکی مسلسل روتی اور چیختی رہی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال باغ کے شعبہ ذہنی امراض میں یہ اکیلی مریضہ نہیں تھیں بلکہ مریضوں کی ایک لائن لگی ہوئی تھی جو ماہر نفسیات کے پاس علاج کے لیے آئے تھے ۔ عالمی ادارہ صحت کی چار رکنی ٹیم کوئی دو ہفتے سے کام کر رہی ہیں۔ ایم نبی چمکانی اسی ٹیم کے ایک رکن ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کے بعد سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد خوف، بے چینی ،کم خوابی اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ ڈراؤنے خواب بھی بہت سے لوگوں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ تیس کے قریب مریضوں کو دیکھتے ہیں جبکہ ان کے علاوہ ایک ٹیم دیہات کے دورے کرکے وہیں مریضوں کو دیکھتی ہے۔ ان کےپاس سے مرگی کی ایک مریضہ اٹھ کر گئی تو گاؤں ریالہ غازی آباد کے گورنمنٹ گرلز سکول کی ہیڈ مسٹرس رئیسہ بیگم آ بیٹھیں۔
ایک طرف تو زلزلے میں ہولناک تباہی اور صدمہ نے لوگوں پر برا اثر ڈالا ہے تو دوسری طرف ان علاقوں میں آنے والے زلزلے کے مسلسل جھٹکوں نے لوگوں کی نفسیاتی صورتحال بگاڑنے میں بڑا کردار ادا کیاہے۔ کاغان میں عید سے ایک رات پہلے آنے والے زلزلے کے جھٹکوں میں عورتیں اور بچے چیختے چلاتے اور روتے ہوئے دکھائی دیے۔ باغ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پہلے کبھی اس طرح مسلسل جھٹکے نہیں آئے ہیں۔ ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ عورتوں کے علاوہ بچوں کی بڑی تعداد خوف کا شکار ہے وہ اپنے گھر نہیں جانا چاہتے اور اگر ان کے والدین یا سرپرست کچھ دیر کے لیے ان سے دور ہوجائیں تو وہ ڈر کے رونے اور چلانے لگتے ہیں۔ ضلع باغ کے ایک گاؤں چھتر کے رہائشی پندرہ سالہ عابد اقبال کو علاج کے لیے اسلام آباد شفٹ کر دیا گیاہے۔ انہوں نے اپنے سر پر آگ لگا لی تھی اور وہ چیختے تھے کہ قیامت آنے والی ہے۔ ان کے تایا محمد یونس نے بتایا کہ زلزلے والے دن وہ بازار میں تھے۔ زلزلہ آیا تو انہوں نے بازار کو تباہ ہوتے دیکھا۔ دوڑ کر گھر پہنچے تو گھر گِر چکا تھا اور ان کے پھوپھی زاد ہم عمر بھائی آصف نے ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا۔ محمد یونس نے بتایا کہ پہلے تو عابد نے لمبی لمبی نمازیں پڑھنا شروع کر دیں پھر اچانک وہ خدا کے خلاف باتیں کرنے لگے پھر انہوں نے جلد قیامت آنے کا اعلان کر دیا اور اب انہوں نے چولہے میں کود کر جان دینے کی کوشش کی تو انہیں اسلام آباد شفٹ کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عتیق زاہد کا کہنا ہے کہ خارش کے مریضوں کے بعد سب سے بڑی تعداد ذہنی مریضوں کی آرہی ہے اور کئی کی حالت اتنی خراب تھی کہ انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد اور راولپنڈی منتقل کرنا پڑا۔ ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد گم صم رہتی ہے تو کچھ تھوڑی سی بات پر چلانے لگتےہیں۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: مرنے والوں کی تعداد 8700008 November, 2005 | پاکستان باغ میں خارش کی بیماری پھیل گئی09 November, 2005 | پاکستان کیمپوں میں بیماریوں کا راج09 November, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان آخر امداد کہاں جا رہی ہے ؟07 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||