کیمپوں میں بیماریوں کا راج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزلہ متاثرین کے کیمپوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں اور سینکڑوں متاثرین اسہال اور خارش جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر سینکڑوں متاثرینِ زلزلہ اسہال کی بیماری کا شکار ہیں۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا کہ علاقے میں ہیضہ تو نہیں پھیل رہا۔ عالمی ادارۂ صحت کے کارکن راچیل لیوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ ہم نے کل ایک کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں 55 لوگ اسہال کی بیماری کا شکار تھےآ یہاں اتنے زیادہ کیمپ موجود ہیں کہ ہمارے خیال میں ان جیسے سینکڑوں لوگ اور بھی ہو سکتے ہیں‘۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بنائے گئے عارضی کیمپوں میں نکاسی آب کا انتظام موجود نہیں اور حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال بھی نہیں رکھا جا رہا ہے۔ ادھر باغ سے بی بی سی کے نمائندے علی سلمان نے خبر دی ہے کہ علاقے میں خارش کی بیماری تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئی ہے اور مقامی ضلعی ہسپتال میں اس متعدی بیماری کے سینکڑوں مریض لائے گئے ہیں۔ ان مریضوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ خیمہ بستیوں میں صفائی کا ناقص انتظام اور کم جگہ پر زیادہ افراد کا رہنا ہے۔ | اسی بارے میں زلزلے کے نتیجے میں ذہنی امراض08 November, 2005 | پاکستان خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں08 November, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||