باغ میں خارش کی بیماری پھیل گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی مختلف خیمہ بستیوں میں خارش کی بیماری پھیلنا شروع ہوگئی ہے اور بڑی تعداد میں بیمار ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں تاہم ڈاکٹروں کے مطابق یہ جان لیوا جلدی مرض نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد عتیق نے بتایا کہ باغ میں اس مرض کےایک دو درجن نہیں بلکہ ہزاروں مریض ہیں۔ یہ ایک چھوت کا مرض ہے اور انتہائی تیزی سے پھیلا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیماری نے اتنی تیزی سے حملہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں اس کی دوا بھی ناپید ہوگئی لیکن اب یہ دوا راولپنڈی سے منگوائی گئی ہے۔ یہ بیماری خیموں میں ساتھ ساتھ رہنے اور خیموں میں صفائی کی مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پھیل رہی ہے اور زیادہ تر مریضوں کا تعلق مختلف خیمہ بستیوں سے ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال میں اس جلدی مرض میں مبتلا جو لوگ قطار میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتے دکھائی دیے ان میں سے بیشتر عورتیں اور بچے تھے۔ ڈاکٹر محمد عتیق کا بھی یہی کہنا تھا کہ اس مرض کا زیادہ شکار بچے اور عورتیں ہی ہو رہی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اس خاص قسم کی جلدی مرض میں مبتلا ہونے والے لوگوں کے جسم پر پہلے خارش شروع ہوتی ہے اور پھر دانے بنتے ہیں جو انفیکشن کے بعد زخم میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس ہپستال میں حکومتی اہلکاروں کے علاوہ غیر ملکی ڈاکٹر بھی متاثرین کا علاج کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین نے خیموں کے مکینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیموں میں ایک دوسرے سے ذرا فاصلے سے سوئیں، روز نہائیں اور بستروں کو دھوپ لگوائیں۔ | اسی بارے میں ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان زلزلے کے نتیجے میں ذہنی امراض08 November, 2005 | پاکستان خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں08 November, 2005 | پاکستان ’مرنے والوں کی تعداد 73276 ہے‘08 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||