’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد امدادی کام ابھی بھی مشکل ہے لیکن اب یہ غیر ممکن نہیں لگ رہا۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ہنگامی رابطہ کار جان واندیمورٹیل نے منگل آٹھ نومبر کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس امدادی آپریشن کے بارے میں کہا گیا ہو کہ یہ ممکن لگ رہا ہے۔ اب تک اقوام متحدہ اس امدادی آپریشن میں حائل سخت مشکلات پر زور دیتی رہی ہے۔ ان مشکلات میں نا کافی امداد سر فہرست رہی ہے۔ منگل کو جان واندیمورٹیل نے کہا کہ ’یہ اب بھی ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن اب ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہو سکے گا۔ اس کام میں ہمیں دو چیزیں درکار ہیں، رقم اور رابطہ۔‘ ان کا کہنا تھا کہ امدادی کام میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن زلزلے کے ایک ماہ بعد بھی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور زلزلے کی تباہی کا پورا اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف چھیاسی ہزار کی یہ تعداد وزارت خزانہ کے اہلکار اقبال احمد خان نے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعداد و شمار کی روشنی میں بتائی تھی۔ تاہم اس کے بعد پاکستان فیڈرل ریلیف کمیشن کے کرنل بصیر ملک نے بی بی سی سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی سرکاری اعداد و شمارتہتر ہزار دو سو چھہتر یعنی73276 ہے۔ کرنل بصیر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعداد و شمار لاشوں کی گنتی پر مبنی ہیں۔‘ زلزلے میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد مقامی حکام اور دیگر تنظیموں کے اندازوں سے بہت کم رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’امداد نہ ملی تو آپریشن محدود‘28 October, 2005 | پاکستان ’امدادی ادارے تھک چکے ہیں‘05 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||