BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 November, 2005, 08:36 GMT 13:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘
اقوام متحدہ کے ہنگامی رابطے کار جان واندیمورٹیل
اقوام متحدہ کے ہنگامی رابطے کار جان واندیمورٹیل
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد امدادی کام ابھی بھی مشکل ہے لیکن اب یہ غیر ممکن نہیں لگ رہا۔

یہ بات اقوام متحدہ کے ہنگامی رابطہ کار جان واندیمورٹیل نے منگل آٹھ نومبر کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس امدادی آپریشن کے بارے میں کہا گیا ہو کہ یہ ممکن لگ رہا ہے۔ اب تک اقوام متحدہ اس امدادی آپریشن میں حائل سخت مشکلات پر زور دیتی رہی ہے۔ ان مشکلات میں نا کافی امداد سر فہرست رہی ہے۔

منگل کو جان واندیمورٹیل نے کہا کہ ’یہ اب بھی ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن اب ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہو سکے گا۔ اس کام میں ہمیں دو چیزیں درکار ہیں، رقم اور رابطہ۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امدادی کام میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن زلزلے کے ایک ماہ بعد بھی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور زلزلے کی تباہی کا پورا اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف
پیر کے روز کہا گیا تھا کہ پاکستان میں زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد چھیاسی ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے، لیکن بعد میں حکومت نے اس کی تردید کر دی تھی۔

چھیاسی ہزار کی یہ تعداد وزارت خزانہ کے اہلکار اقبال احمد خان نے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعداد و شمار کی روشنی میں بتائی تھی۔

تاہم اس کے بعد پاکستان فیڈرل ریلیف کمیشن کے کرنل بصیر ملک نے بی بی سی سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی سرکاری اعداد و شمارتہتر ہزار دو سو چھہتر یعنی73276 ہے۔

کرنل بصیر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعداد و شمار لاشوں کی گنتی پر مبنی ہیں۔‘

زلزلے میں ہلاکتوں کی سرکاری تعداد مقامی حکام اور دیگر تنظیموں کے اندازوں سے بہت کم رہی ہیں۔

66’ابھی یا کبھی نہیں‘
زلزلے کے متاثرین کے لیے فوری امدادی چاہیے
66زلزلہ:ایک ماہ مکمل
امدادی سرگرمیوں کی رفتار تسلی بخش نہیں
66عجیب و غریب شہر
صدمے اٹھاتے اٹھاتے لوگ بے حس ہو گئے
اسی بارے میں
’امدادی ادارے تھک چکے ہیں‘
05 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد