BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 November, 2005, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدید بارش سے کارروائیاں متاثر

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں متاثر
صوبہ سرحد میں زلزلہ زدہ علاقوں میں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں
صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جمعرات کے روز بارش اور برف باری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس سے امدادی کارروائیوں میں خلل پڑا ہے۔

محمکہ موسمیات کے مطابق بارش اور برف باری کا یہ سلسلہ آئندہ دو تین روز تک جاری رہے گا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد کے کئی علاقوں میں شدید ترین بارش شروع ہو چکی ہے اور کئی علاقوں میں امدادی کام بالکل بند ہو گئے ہیں۔

تازہ بارش اور برف باری صوبے کے بٹ گرام، شانگلہ اور کوہستان کے علاقوں میں شروع ہوئی ہے۔ خراب موسم سے ان علاقوں میں جہاں لاکھوں افراد کھلے آسمان اور خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں درجہ حرارت کافی نیچے گر گیا ہے۔

موسم صبح سے ابررآلود تھا جس سے پاکستانی افواج کے ہیلی کاپٹر نے تو ان علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا تاہم دو پہر تک اقوام متحدہ اور امریکی ہیلی کاپٹر پروازوں میں مصروف رہے۔ بعد میں یہ سلسلہ بھی بند کرنا پڑا۔

خدشہ ہے کہ بٹ گرام کی سب سے زیادہ متاثرہ الائی تحصیل کے راستے دوبارہ بند ہوگئے ہوں گے۔ وادی الائی کے اونچے پہاڑوں پر برف گرنے کی بھی اطلاع ہے۔

ضلع شانگلہ میں چکیسر علاقے سے دو بچوں کے سردی سے ٹھٹر کر ہلاک ہونے کی خبر بھی ہے تاہم اس کی سرکاری سطح پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان بچوں کے نام جنید اور صائمہ بتائے جاتے ہیں۔

امدادی کارکن پہلے ہی سرد موسم سے ان لوگوں کو بچانے کی اپنی سی کوششیں کر رہے ہیں لیکن زلزلے کی تباہی کے مقابلے میں انہیں بہت کم اور سست قرار دی جا رہی ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں زلزلوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس موجود ہے۔ لوگ اپنے بچے کھچے مکانات میں جانے کو تیار نہیں اور خیموں میں اگر انہیں دستیاب ہیں رہنے پر مجبور ہیں۔

اب متاثرہ علاقوں میں تعمیرنو کے آثار بھی ہیں۔ کئی مقامات پر لوگ اپنے مکانات کے ملبے کو ہٹانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب کئی لوگ چاول کی تیار اپنی فصلوں کو بھی جمع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر
06 November, 2005 | پاکستان
زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟
05 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد