BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماحولیاتی تنظیموں کا الرٹ

متاثرین گھر تعمیر کر رہے ہیں
تعمیر اور ایندھن کے لیے لکڑی کی ضرورت ہوگی اور ماحولیاتی تنظیموں کی تجویز ہے کہ لوگوں کو متبادل ایندھن فراہم کی جائے۔
تحفظ ماحولیات کی عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امدادی تنظیموں نے زلزلے کے باعث پیدا ہونے والے ماحولیاتی خطرات کی جانب توجہ نہ دی تو مزید انسانی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔

بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر اور کیئر انٹرنیشنل نے ایک مشترکہ الرٹ میں کہا ہے کہ متاثرین کے وہ ٹھکانے جو پہاڑوں سے گزر جانے والی سڑکوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر قائم ہیں خاص طور پر خطرات کی زد میں ہیں اور اسی لیے عارضی ٹھکانے فراہم کرنے کے لیے سڑکوں اور پہاڑی ڈھلوانوں، چشموں اور دریا کے کناروں سے گریز کیا جائے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقامات تیز سیلاب کی زد میں بھی آسکتے ہیں مٹی کے تودوں اور بڑے پہاڑی پتھروں کے گرنے سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے راستے میں رکاوٹیں آچکی ہیں اور ان کے ٹوٹنے سے آنے والے ممکنہ سیلاب خطرات میں اضافے کا سبب ہو سکتے ہیں۔

 آئی یو سی این، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر اور کیئر انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پناہ گاہیں تعمیر کرنے اور ایندہن کے واسطے زلزلے سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کو لکڑی کی ضرورت ہے اور یہ باقی ماندہ جنگلات کے لیے ایک خطرہ ہے

عالمی تنظیموں کے مطابق نئے مٹی کے تودے گرنے سے اور برفباری سے سڑکوں پر بھی مزید رکاوٹیں پیش آسکتی ہیں۔ جبکہ امدادی سامان کی فراہمی بھی کوڑا کرکٹ میں اضافے کا ایک سبب بنی ہوئی ہے اور اسے ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے۔

آئی یو سی این، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر اور کیئر انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پناہ گاہیں تعمیر کرنےاور ایندھن کے واسطے زلزلے سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کی لکڑی کی ضرورت باقی ماندہ جنگلات کے لیے ایک خطرہ ہے۔ آنے والی سردیوں میں زلزلے کے متاثرین کے لیے لکڑی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے جنگلات پر انحصار کم کر کے لوگوں کو متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں۔

66ایک ماہ بعد
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک کیا کیا ہوا
66یہ ایک مہینہ
زلزلے کےایک ماہ میں کیا کیا ہوا: وسعت اللہ خان
66سر چھپانے کا ٹھکانا
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھروں کا آئیڈیا
اسی بارے میں
خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں
08 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد