BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 November, 2005, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد نہیں ملی: احتجاجی مظاہرہ

 فائل فوٹو
متاثرین کی کسی بھی طرح مدد کے معاملات میں بدانتظامی کی وجہ سے مظاہرے ہوتے رہے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثر ہونے والے کشمیری پناہ گزینوں نے گھروں کی تعمیر کے لئے امداد کی عدم ادائیگی کے خلاف ہفتے کے روز مظاہرہ کیا۔ زلزلے کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے لیکن اب بھی بیشتر کشمیری پناگزینوں کو گھروں کی تعمیر نو کے لئے امداد نہیں دی گئی ہے۔

مظاہرے میں شریک سینکڑوں مظاہرین نے زلزے سے متعلق پاکستان کے بحالی اور تعمیر نو کے ادارے کے خلاف نعرہ بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ان کو گھروں کی تعمیر کے لئے امداد فراہم کی جائے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پچیس ہزار سے زائد یہ کشمیری پناہ گزین مختلف کیمپوں میں آباد ہیں۔

یہ لوگ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہونے کے بعد نوے کی دہائی میں کشمیر کے اس علاقے میں پناہ کی خاطر آئے۔

ان میں بیشتر ان علاقوں میں رہتے ہیں جو آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں متاثر ہوئے اور ان کے گھر یا تو تباہ ہوئے یا ان کو نقصان پہنچا۔

ان پناہ گزینوں کو پچیس ہزار روپے کی ابتدائی امداد فراہم تو کی گئی ہے لیکن بیشتر متاثرین کو یہ شکایت ہے کہ زلزلے سے متعلق پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے نے گھر تعمیر کرنے کے لئے پچہتر ہزار روپے کی پہلی قسط ادا نہیں کی۔

ہفتے کے مظاہرے میں شامل قاری فاروق احمد فارورقی نے کہا کہ ’ زلزلے میں ہمارے گھر بھی تباہ ہوئے لیکن ہمارا قصور کیا ہے کہ ہمیں ڈیڑھ سال گذرنے کے بعد بھی گھروں کی تعمیر کے لیے پچہتر ہزار روپے کی پہلی قسط بھی ادا نہیں کی گئی ہے‘۔

 فائل فوٹو
ماضی میں زلزلہ متاثرین کے مظاہروں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے
انہوں نے کہا کہ ہم تعمیر نو اور بحالی کے پالیسی کو مسترد کرتے ہیں اور یہ کہ اس ادارے نے ہمارے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور امدادی رقم ادا کی جائے تاکہ ہم اپنے گھر تعمیر کرسکیں۔

ایک اور کشمیری پناہ گزین امجد خان نے کہا ’ہم بھی اسی ریاست کے شہری ہیں لیکن ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے محنت کرکے اٹھارہ سالوں میں گھر بنائے اور وہ تباہ ہوگئے لیکن ہمیں امداد کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں جبکہ دوسروں کی طرح یہ ہمارا بھی حق ہے‘۔

پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنے والے محمکہ بحالیات کا کہنا ہے کہ کشمیری پناہ گزینوں کے کل ساڑھے چھبیس سو گھر تباہ ہوئے یا ان کو جزوی نقصان پہنچا لیکن ان میں ابھی تک صرف ساڑھے نو سو ان خاندانوں کو امدادی دی گئی ہے جن کے گھروں کا سروے ہوچکا تھا۔

گذشتہ سال گھروں کے سروے کے دوران کشمیری پناہ گزینوں کے گھروں کا سروے اچانک روک دیا گیا اور حکام نے کہا کہ ان کو امداد نہیں دی جائے گی کیوں کہ ان کے گھر ملکیتی زمین پر نہیں ہیں۔

زلزے سے متعلق پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کی پالیسی کے مطابق ان لوگوں کو گھروں کی تعمیر کے لئےا مداد نہیں دی جاسکتی ہے جو ملکیتی زمین پر رہائش پذیر نہیں ہیں۔

البتہ ایسے لوگوں کو اسی صورت میں امداد دی جائے گی کہ مقامی حکومت ان کے حق میں عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔

حکام یہ مانتے ہیں کہ جو گھر رہ گئے ہیں ان کو رقم کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن اس میں تاخیر کیوں ہورہی اور نقصان کا جائزہ لینے کے لئے ان کے گھروں کا سروے کیوں شروع نہیں کیا گیا اس بارے میں حکام کچھ نہیں کہتے۔

ایک ماہ بعد
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک کیا کیا ہوا
متاثرہ لڑکابے رحم سردی آگئی
زلزلہ زدگان اور امدادی ادارے وقت سے ہار گئے
زلزلے سے متاثرہ شخصاماں!ہم کدھرجائیں گے
زلزلے کے بعد خوف، کم خوابی اور ذہنی دباؤ
ایک زخمی بچہعید کہاں ہے؟
پشاور کے ہسپتال کے ایک وارڈ میں عید
اسی بارے میں
سرحد: سکول کھولنے میں مسائل
10 November, 2005 | پاکستان
زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا
09 November, 2005 | پاکستان
خیمے نہیں بلکہ ٹین کی چادریں
08 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد