BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 November, 2005, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: سکول کھولنے میں مسائل

طالب علم
زلزلے کے مسلسل جھٹکوں کی وجہ سے والدین بھی فی الحال بچوں کو سکول بھجوانے کے حق میں نہیں
صوبہ سرحد کی حکومت نے جمعرات سے زلزلے سے متاثرہ پانچ اضلاع میں تعلیمی اداروں کے کھولے جانے کا اعلان تو کیا تھا لیکن کئی مقامات پر ایسا نہیں ہوسکا۔

ان میں زلزلے سے بری طرح متاثرہ ضلع بٹ گرام بھی شامل ہے جہاں بارش نے کسی ایسے امکان کو مزید کم کر دیا۔

صوبہ سرحد میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں سات ہزار سے زائد سکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ صرف بٹ گرام سب ڈویژن میں حکام کے مطابق پینسٹھ فی صد جبکہ الائی میں اسی فی صد سکول زلزلے سے متاثر ہوئے تھے۔ سرکاری اعداد کے مطابق یہاں آٹھ اکتوبر کو بیس طلبہ اور چار اساتذہ کی موت ہوئی تھی۔

بٹ گرام کے ضلعی تعلیم افسر عبدالرشید نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق دس پندرہ سکول آج کھلے ہونگے۔ ’ہم نے ایک اعلامیے کے مطابق تمام سکولوں کو بتا دیا تھا کہ وہ بچوں کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں اور اگر ممکن ہوسکے تو کھلے مقام پر کلاسیں منعقد کریں ورنہ نہیں۔ اگر موسم خراب ہو بارش ہو تو بھی نہ کھولیں۔‘

سکولوں کے لیے خیموں کی بھی کمی درپیش آ رہی ہے۔ تاہم بٹ گرام میں ایک فوجی اہلکار کے مطابق انہوں نے سو خیمے سکولوں کو مہیا کیے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ خیمے چھوٹے ہیں اور ان میں کلاسیں نہیں لگائی جاسکتیں۔

تعلیمی اداروں کی اس طویل بندش سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ عبدالرشید کا کہنا تھا کہ سردی یہاں کافی شدید ہوتی ہے۔ ’دسمبر، جنوری فروری میں سکول بند ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو میں سمجھتا ہو ان کا پورا تعلیمی سال ضائع ہوسکتا ہے۔‘

ضلع بٹ گرام میں اس وقت ترپن ہزار سے زائد بچے سرکاری سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ علاقے میں زلزلے کے مسلسل جھٹکوں کی وجہ سے والدین بھی فی الحال بچوں کو سکول بھجوانے کے حق میں نہیں۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر حکم کسی وقت بھی جاری کیا جاسکتا ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔

بٹ گرام میں یونیسف کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر عبدالرشید کا کہنا تھا کہ عمارتوں کو نقصانات کے علاوہ کئی جگہ پر تو خود اساتذہ کے مکانات گرے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین کی کمی بھی اس علاقے میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔

’اٹھارہ میٹر چوڑا اور بتیس میٹر لمبا خیمہ اوّل تو ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو اسے لگانے کی جگہ نہیں ہے۔‘

صرف خیمہ لگانا ہی کافی نہیں ہوگا بلکہ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے سکولوں میں پانی اور صفائی کی سہولت بھی مہیا کرنی ہوگی۔ عبدالریشد کا کہنا تھا کہ اگر بچیوں کا سکول ہے تو پھر وہاں پردے کا بھی انتظام یقینی بنانا ہوگا۔

حکومت کی طرف سے ضروری سامان کی فراہمی کے بعد بھی اگر موسم خراب ہو جیسے کہ جعمرات کے روز اس علاقے میں ہے تو پھر تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ شروع ہونا انتہائی مشکل ہے۔

بٹ گرام کے سات سالہ محسن ریاض دوسری جماعت میں پرھتے ہیں۔ زلزلے کی وجہ سے ان کا سکول بند ہے اور وہ گلیوں میں کھیل کر وقت گزار رہے ہیں۔ اپنی توتلی زبان میں انہوں نے کہا کہ وہ سبق پڑھنے کے لیے سکول جانا چاہتے ہیں۔ اب یہ کب ممکن ہوسکتا ہے، حکام کو بھی شاید معلوم نہیں۔

اسی بارے میں
’بچیوں کو بچالو‘
02 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد