بے رحم سردی آگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم سطح سمندر سے تقریباً نو ہزار فٹ کی بلندی پر ہیں۔ دھند نیچے آئی ہوئی ہے اور صبح ژالہ باری بھی ہوئی تھی۔ یہی وہ چیز تھی جس سے سب لوگ ہفتوں سے ڈر رہے تھے۔ ان لوگوں کو پتا تھا کہ یہ آنے والی ہے۔ ان بلند و بالا پہاڑوں میں سردی اپنے پاؤں جما رہی ہے اور ان جگہوں پر ابھی تک زیادہ امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔ چھوٹی چھوٹی بستیاں ان پہاڑوں پر بکھری ہوئی ہیں اور نیچے وادیوں میں بھی۔ ہم یہاں ابھی ابھی ریڈ کراس کے ایک ہیلی کاپٹر میں آئے ہیں اور اپنے ساتھ چاول کے تھیلے، کچھ پکانے کا تیل، چینی وغیرہ لائے ہیں۔ ہم پاکستانی فوج کے ایک ٹھکانے پر اترے ہیں کیونکہ اس علاقے میں ہیلی کاپٹر اتارنے کی یہ واحد محفوظ جگہ ہے۔ اردگرد کی بستیوں سے دیہاتی یہاں امداد لینے آئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو آٹھ آٹھ کلومیٹر کا پہاڑی فاصلہ پیدل چل کر آئے ہیں۔ فوج ان لوگوں کی مدد کر رہی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ علاقے میں جو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں تھیں وہ بھی زلزلے میں بالکل تباہ ہو گئی ہیں۔ جوں جوں موسم خراب ہوگا ان دور دراز بستیوں تک پہنچنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ بہت جلد یہاں پر ہیلی کاپٹر سے آنا بھی ممکن نہ رہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ امدادی کارکن اور بین الا قوامی ادارے کہہ رہے ہیں کہ اس وقت وہ ایک ایسی دوڑ دوڑ رہے ہیں جس میں ان کا حریف وقت ہے۔ اور سچ یہ ہے یہ دوڑ وقت جیت رہا ہے کیونکہ یہاں ان پہاڑوں پر بے رحم سردیاں آ چکی ہیں۔ | اسی بارے میں بارش: زلزلے کے متاثرین مشکل میں11 November, 2005 | پاکستان اور غم کی شام گہری ہوتی گئی08 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان شدید بارش سے کارروائیاں متاثر10 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||