امداد کی تقسیم کے مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ فوج کو یہ بات سمجھنے میں پورا ایک مہینہ لگا کہ مقامی نمائندوں کو شامل کیئے بغیر امدادی سامان کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں۔‘ یہ بات مانسہرہ سے کوئی پچاس کلومیٹر دور بٹگرام روڈ پر بٹل کے قریب ایک فوجی کیمپ میں کھڑے ایک کونسلر علی زمان نے کہی۔ علی زمان نے بتایا کہ آج ان کے گاؤں کڑمنگ بالا کے متاثرین زلزلہ میں خوراک کے تھیلے تقسیم کیئے جارہے ہیں اور فوجی حکام نے انہیں امداد وصول کرنے والوں کی شناخت کرنے کے لئیے بلا رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرین مسلسل امداد نہ ملنے کی شکایت کر رہے تھے جبکہ غیر مستحق افراد فوجی حضرات کی مقامی آبادی سے نا واقفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امدادی سامان بٹورنے میں کامیاب ہورہے تھے۔ اس پر فوجی حکام کو بارہا یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مقامی منتخب نمائندوں کی مدد کے بغیر مستحق اور غیر مستحق کی تمیز کرنا مشکل ہوگا لیکن وردی والے اپنے وضع کردہ نظام میں تبدیلی لانے کو مشورے کو اپنے کام میں مداخلت قرار دے کر رد کرتے رہے۔
تاہم بڑھتی ہوئی تنقید کے پیش نظر فوج نے آخر کار مقامی نمائندوں کو امدادی سامان کی تقسیم کے وقت ساتھ کھڑا کرنا شروع کردیا ہے۔ علی زمان کا کہنا تھا انہیں بلا تو لیا گیا ہے لیکن فوجی عملے کا رویہ مناسب نہیں ہوتا۔ مثلاً کڑمنگ بالا سے امداد لینے کے لیئے آنے والوں میں سے صرف چار یا پانچ خواتین ہیں جن کے بالغ مرد زلزلے کی نذر ہوگئے ہیں۔ علی زمان نے بتایا کہ فوجیوں کو جب مشورہ دیا کہ خواتین کو پہلے سامان دے دیں تاکہ وہ وقت پر اپنے گھروں کو چلی جائیں تو موقع پر موجود نائب صوبیدار نے اسے ’مداخلت بے جا ‘ کرنے پر کیمپ سے نکلنے کا حکم دے دیا۔ امدادی سامان کے حصول کے لیئے لگی طویل قطار میں کھڑے لوگوں نے بتایا کہ ان میں سے بیشتر گذشتہ رات سے ہی کیمپ کے باہر اکٹھے ہونا شروع ہوگئے تھے تاکہ صبح ان کی باری جلدی آجائے۔ قطار کے آخر میں کھڑے محمد شریف، محمد رفیق اور ملک امان نے بتایا کہ جس امداد کے لیئے وہ سب آج یہاں اکٹھے ہیں اس کی پرچیاں ان میں عید سے پہلے تقسیم کی گئی تھیں۔ ان تینوں کو خدشہ تھا کہ ان کی باری آنے سے پہلے یا تو سامان ختم ہوجائے گا یا پھر امداد تقسیم کرنے کا وقت۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی سامان کا ایک تھیلے میں مختلف دالوں کے ایک ایک کلو گرام کے پیکٹ، چینی، چائے کی پتی، چاول، آٹے کا ایک تھیلا اور چار لیٹر کوکنگ آئل وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور یہ تین خاندانوں میں تقسیم کیا ہوتا ہے جنہیں اس امداد پر آئندہ پندرہ روز تک گذارہ کرنا ہوتا ہے۔ بٹل کے فوجی کیمپ میں امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی کرنے والے صوبیدار محمد زمان نے تسلیم کیا کہ مقامی نمائندوں کی شمولیت سے امدادی سامان کی تقسیم کا کام بہتر ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فوجی چونکہ دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے ہیں اس لیئے انہیں مقامی آبادی کے بارے زیادہ معلومات نہیں جبکہ ناظم اور کونسلر سب کو جانتے ہیں۔ فوج کے مخصوص مزاج کی وجہ سے نا صرف بعض اوقات متاثرین کو دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکے امدادی کارکن بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ بٹل سے تعلق رکھنے والے رضا کار سعید شیرازی نے بتایا کہ انہوں نے ایک بین الاقوامی این جی او کے ساتھ مل کر علاقے میں پانچ سو کے قریب خیمےتقسیم کیئے جبکہ حکومت یا فوج نے بمشکل دس خیمے بانٹے ہونگے لیکن ان کے علاقے میں متعین فوجی افسر نے ان سے خیمے پانے والوں کی فہرست طلب کی تاکہ وہ حکام کو اپنی ’کارکردگی‘ بارے آگاہ کر سکیں۔ سعید شیرازی کا کہنا تھا کہ این جی او کے مقامی نمائندے نے فہرست دینے سے انکار کیا تو متعلقہ فوجی افسر نے غصے میں آکر کہا ’اگر ہم آپ کو (خیمے) نہ بانٹنے دیں تو آپ کیا کر لیں گے‘۔ اسی طرح بالا کوٹ کے قریب بن پھوڑا کے مقام پر قائم خیمہ بستی سے ایک امدادی کارکن ڈاکٹر بینجمن برکت کو بغیر کوئی وجہ بتائے پانچ منٹ کے نوٹس پر کیمپ سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ وہی کیمپ تھا جہاں صدر جنرل پرویز مشرف عید کے روز تشریف لائے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ آٹھ نومبر کے روز ایک بریگیڈئر صاحب کی آمد پر کیمپ کے کمانڈنگ آفیسر کرنل سعید نے ایک میٹنگ بلائی تھی جس میں ڈاکٹر بینجمن بوجوہ شرکت نہیں کرسکے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||