BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 November, 2005, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محمد نذیر بول نہیں سکتا

محمد نذیر
ایسا لگتا ہے کہ نذیر کچھ کہنا چاہتا ہے پر کہہ نہیں پا رہا
سولہ سالہ محمد نذیر کی آواز کو سُننے کے لیے اُسکی والدہ پروین بی بی ہر وقت اُس کے پاس بیٹھی رہتی ہے۔

محمد نذیر کا تعلق مانسہرہ کے گاؤں چھتر سے ہے۔ بی بی کا یہ سب سے چھوٹا بیٹا ہے اور وہ آٹھ اکتوبر کو ایک گاڑی پر اپنی بہن کو ملنے جا رہا تھا کہ زلزلے کی وجہ سے ایک پتھر اُس گاڑی کے سامنے گِرا جس میں وہ سوار تھا اور گاڑی اُلٹ گئی۔ جس کی وجہ سے گاڑی میں سوار بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے۔

محمد نذیر بچ تو گیا، لیکن اُس کے جسم کا بایاں حصہ مفلوج ہو گیا اور بائیں جانب سے اُس کی زبان بھی کاٹ دی گئی۔

پروین بی بی آجکل ڈسٹرکٹ ہسپتال اٹک میں اپنے زیر علاج بیٹے کے ساتھ ہیں۔ اس سے پہلے وہ روالپنڈی کے ایک ہسپتال میں بارہ روز تک زیر علاج رہا۔

پروین بی بی کا کہنا تھا کہ ’جب تک میرا بیٹا ہوش میں نہیں تھا میں ہر وقت یہ دُعا کرتی تھی کہ اسے ہوش آ جائے۔ لیکن اب جب کے اسے ہوش آ گیا ہے وہ بات نہیں کر سکتا‘۔

محمد نذیر کی ماں
محمد نذیر کی ماں اپنے بیٹے کے منہ سے آواز سننے کی منتظر ہے

’عید کے دن سارے بچے بڑے جو زخمی تھے، جن کے ہاتھ یا پاؤں نہیں تھے وہ سب باتیں کر رہے تھے لیکن میرا بیٹا مجھ سے بات نہیں کر سکتا تھا، میرے کان ترس رہے ہیں کہ میرا بیٹا مجھ سے بات کرے‘۔

ہسپتال میں موجود دوسرے مریضوں کا کہنا تھا کہ باقی لوگ تو اب ایک دوسرے کے قریب ہو گئے ہیں اور مل جُل کر ایک دوسرے کا دُکھ بانٹتے ہیں لیکن پروین بی بی کسی سے بات نہیں کرتی۔ بس ہر وقت اپنے بیٹے کے سر کے پاس بیٹھی اُسے تکتی رہتی ہے۔

محمد نذیر کو خود بھی اس بات کا بہت شدت سے احساس ہے کہ وہ بول نہیں سکتا کیونکہ میں جتنی دیر نذیر کے پاس رہا وہ بار بار منہ کھول کر مجھے اپنی کٹی ہوئی زبان دکھانے کی کوشش کرتا رہا۔

شاید محمد نذیر اپنے بارے میں سب کو بتانا چاہتا تھا کہ آٹھ اکتوبر سے اب تک اُس پر کیا گزری، لیکن اُس کی زبان اُس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

66پرس رام کے دو لاکھ
شاملائی کا سکھ تباہ حال گاؤں کیوں نہیں چھوڑتا
66یہ ایک مہینہ
زلزلے کےایک ماہ میں کیا کیا ہوا: وسعت اللہ خان
66ایک ماہ بعد
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک کیا کیا ہوا
66بےسہاروں کا مستقبل
سہمے ہوئے بچے انتہائی کرب سے گزر رہے ہیں
66نہ جیل بچی نہ قیدی
مظفر آباد کی مرکزی جیل مکمل تباہ ہو گئی۔
اسی بارے میں
زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا
09 November, 2005 | پاکستان
زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟
05 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد