محمد نذیر بول نہیں سکتا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سولہ سالہ محمد نذیر کی آواز کو سُننے کے لیے اُسکی والدہ پروین بی بی ہر وقت اُس کے پاس بیٹھی رہتی ہے۔ محمد نذیر کا تعلق مانسہرہ کے گاؤں چھتر سے ہے۔ بی بی کا یہ سب سے چھوٹا بیٹا ہے اور وہ آٹھ اکتوبر کو ایک گاڑی پر اپنی بہن کو ملنے جا رہا تھا کہ زلزلے کی وجہ سے ایک پتھر اُس گاڑی کے سامنے گِرا جس میں وہ سوار تھا اور گاڑی اُلٹ گئی۔ جس کی وجہ سے گاڑی میں سوار بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے۔ محمد نذیر بچ تو گیا، لیکن اُس کے جسم کا بایاں حصہ مفلوج ہو گیا اور بائیں جانب سے اُس کی زبان بھی کاٹ دی گئی۔ پروین بی بی آجکل ڈسٹرکٹ ہسپتال اٹک میں اپنے زیر علاج بیٹے کے ساتھ ہیں۔ اس سے پہلے وہ روالپنڈی کے ایک ہسپتال میں بارہ روز تک زیر علاج رہا۔ پروین بی بی کا کہنا تھا کہ ’جب تک میرا بیٹا ہوش میں نہیں تھا میں ہر وقت یہ دُعا کرتی تھی کہ اسے ہوش آ جائے۔ لیکن اب جب کے اسے ہوش آ گیا ہے وہ بات نہیں کر سکتا‘۔
’عید کے دن سارے بچے بڑے جو زخمی تھے، جن کے ہاتھ یا پاؤں نہیں تھے وہ سب باتیں کر رہے تھے لیکن میرا بیٹا مجھ سے بات نہیں کر سکتا تھا، میرے کان ترس رہے ہیں کہ میرا بیٹا مجھ سے بات کرے‘۔ ہسپتال میں موجود دوسرے مریضوں کا کہنا تھا کہ باقی لوگ تو اب ایک دوسرے کے قریب ہو گئے ہیں اور مل جُل کر ایک دوسرے کا دُکھ بانٹتے ہیں لیکن پروین بی بی کسی سے بات نہیں کرتی۔ بس ہر وقت اپنے بیٹے کے سر کے پاس بیٹھی اُسے تکتی رہتی ہے۔ محمد نذیر کو خود بھی اس بات کا بہت شدت سے احساس ہے کہ وہ بول نہیں سکتا کیونکہ میں جتنی دیر نذیر کے پاس رہا وہ بار بار منہ کھول کر مجھے اپنی کٹی ہوئی زبان دکھانے کی کوشش کرتا رہا۔ شاید محمد نذیر اپنے بارے میں سب کو بتانا چاہتا تھا کہ آٹھ اکتوبر سے اب تک اُس پر کیا گزری، لیکن اُس کی زبان اُس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ |
اسی بارے میں زلزلےسےمتاثرہ ذہنی مریضوں میں اضافہ10 November, 2005 | پاکستان چھیاسی ہزار سے زائد ہلاکتیں: حکومت10 November, 2005 | پاکستان مشینیں ہوتیں تو انسان بچ جاتے10 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا09 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟05 November, 2005 | پاکستان ہر چہرہ پریشان، ہر کہانی دکھ بھری04 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||