مشینیں ہوتیں تو انسان بچ جاتے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر سے پہلے مانسرہ کی تحصیل کے دور دراز علاقوں میں چند سو افراد پر مشتمل کئی گاؤں تھے۔ زلزلے سے یہاں بھی اتنی ہی تباہی ہوئی جتنی دوسری جگہوں پر لیکن ان علاقوں میں بیشتر افراد صرف اس لیے موت کے منہ میں چلے گئے کہ ملبہ ہٹانے کے لیے پہاڑوں پر مشینیں نہیں پہنچ سکیں۔ اب جبکہ یہاں آہستہ آہستہ ملبہ ہٹایا جا رہا ہے کسی نہ کسی روز آج بھی اکا دکا لاشیں مل جاتیں ہیں جنہیں زلزلے سے بچ جانے والے خستہ حالی کی وجہ سے فوراً دفن کر دیتے ہیں۔ عبدالرشید بھی مانسہرہ کی تحصیل کی ایک یونین کونسل کے دیہات جبوڑی کے رہائشی ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ اور تین بیٹیوں سمیت ایک بڑے پہاڑ پر رہتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ چھ سو چونتیس افراد پر مشتمل ان کےگاؤں میں بہت تباہی ہوئی اور درجنوں افراد ملبے کے نیچے دب گئے۔ کچھ کو اسی دن زندہ نکال لیا گیا جبکہ کچھ اگلے چند دنوں میں ملبے سے زندہ یا مردہ باہر نکال لیے گئے۔ لیکن عبدالرشید کی بیٹی نہ زندہ نکل سکی اوہ نہ اس کی لاش ہی مل سکی۔ علاقے کے ناظم کا کہنا ہے کہ لوگوں نے ملبے میں دفن ہو جانے والے افراد کی لاشیں نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن پہاڑ جیسے ملبے سے لاشیں نکالنا آسان نہیں تھا۔ ’ہم نے کوشش کی کہ بڑے بڑے پتھر ہٹانے کا کوئی انتظام ہو جائے لیکن اس کام کے لیے مشینوں کی ضرورت تھی جو پہاڑوں پر لائی نہیں جا سکتی تھیں۔‘ جبوڑی کے اس تباہ شدہ گاؤں کے لوگوں نے اپنے طور پر اور کچھ دنوں بعد جب وہاں فوجی پہنچے ان کی مدد سے بھی کئی مرتبہ کوشش کی کہ ملبے میں دبی لاشوں کو نکال سکیں لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ رفتہ رفتہ ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا گیا اور مرنے والوں کی لاشیں نکلتی رہیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے لیکن لوگوں کا خیال ہے کہ اب ملبے میں کم ہی لوگ ہوں گے۔ البتہ زلزلے کے ایک مہینے اور دو دن بعد بھی ملبے کے نیچے سے ایک چھوٹی لاش ملی۔ یہ لاش عبدالرشید کی کمسن بیٹی کی تھی۔ لاش اتنی زیادہ گل چکی تھی کہ اسے مزید باہر نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ چنانچہ فوراً ہی اس کی بیٹی کی تدفین کر دی گئی۔ ملبے میں دبی لاشیں نکالنا اور انہیں فوراً دفن کر دینا صرف جبوڑی کی تحصیل تک ہیں محدود نہیں۔ لوگ بتاتے ہیں کہ قریب پڑنے والے دیگر دیہات میں جہاں جہاں ملبے سے کوئی لاش نکلتی ہے اسے بلا تاخیر دفن کر دیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں لوگوں کو دیر سے ہی سہی کھانے پینے کی اشیاء مل گئیں لیکن یہاں پر رہنے والے کہتے ہیں کہ اگر بھاری پتھر ہٹانے والی مشینیں کسی طرح پہاڑوں پر واقع دیہاتوں میں پہنچ جاتیں تو شاید کچھ اور لوگ بھی زندہ بچ جاتے۔ | اسی بارے میں زلزلےسےمتاثرہ ذہنی مریضوں میں اضافہ10 November, 2005 | پاکستان کیمپوں میں بیماریوں کا راج09 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان سردی متاثرین کو کیمپوں میں لائی07 November, 2005 | پاکستان ’امدادی ادارے تھک چکے ہیں‘05 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||