BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 November, 2005, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سردی متاثرین کو کیمپوں میں لائی

خیمہ بستی
خیمہ بستیوں میں آنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے
زلزلے سے متاثرین کے لیے ایبٹ آباد کے قریب قائم خیمہ بستی میں آنے والوں کی تعداد میں عید کے بعد زبردست اضافہ دیکھا گیا ہےآ صوبہ سرحد کے حکام کا کہنا ہے کہ اور یہاں آنے والوں کی تعداد ایک دن میں سو تک پہنچ گئی ہے۔

حویلیاں سے ایبٹ آباد جاتے ہوئے سڑک کے بائیں جانب ایک چھوٹی سا راستہ بانڈہ صاحب خان نامی گاؤں کی طرف جاتا ہے۔ اس گاؤں سے پہلے ہی گیارہ سو کنال کے کھلے میدان میں ہر قسم اور رنگ کے تقریبا دو سو خیموں کی ایک بستی بسائی گئی ہے۔

اس کیمپ کے منتظمین نے بتایا کہ یہاں پناہ کے لیے آنے والوں کی تعداد میں عید کے بعد زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اندراج کے کام میں مصروف ریاست خان جدون نے بتایا کہ عید کے دوسرے روز سے ایک سو افراد ہر دن اس کیمپ میں آ رہے ہیں۔

 یہ تو کوئی زندگی نہ ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے مظفرآباد میں سب کچھ تھا۔ یہاں کئی لوگ ہماری ضروریات لکھ کر لے گئے مگر واپس کوئی نہیں آیا
نادیہ شہزاد، خیمہ بستی

آمد میں تاخیر کی وجہ نئے آنے والوں نے اپنی مکئی کی تیار فصلوں اور باقی بچے گھر بار کا بندوبست کرنا بتائی ہے تاہم سردی کی شدت میں اضافہ بھی ایک اور بڑی وجہ ہے۔

مظفرآباد کے شیر زمان ایک روز قبل کیمپ میں آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنوں کو دفنانے اور گھر بار کا بندوبست کرنے کے بعد وہ یہاں آئے۔

کیمپ کے سکول میں زیرِتعلیم بچے

سوموار کی صبح تک اس کیمپ میں آٹھ سو افراد بس چکے ہیں جن میں بوڑھوں، خواتین اور بچوں کے تعداد زیادہ ہے۔ نوجوان کم ہی دکھائی دیتے تھے کیونکہ ان کی زیادہ تعداد پیچھے اپنے تباہ شدہ مکانات کے پاس رہ گئی ہے۔

کیمپ میں طرح طرح کے خیمے اس بات کا مظہر ہیں کہ جس غیرسرکاری تنظیم کو جہاں سے بھی جتنے بھی خیمے ہاتھ آئے انہوں نے لگا دیے۔ کچھ ٹین کے بنے، چند عام سے اور کئی بڑے جدید قسم کے خیمے نظر آئے۔

کیمپ میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے سکول بھی قائم کیا گیا ہے۔

سکول کے منتظم طارق بیگ نے بتایا کہ پندرہ روز میں ان کے پاس ایک سو بتیس بچے داخل ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف دو خیمے ہونے کی وجہ سے وہ مختلف کلاسوں کے بچوں کو الگ الگ نہیں پڑھا سکتے۔

ایبٹ آباد کے ایک سابق استاد نذیر حسین نے کہا کہ انہیں عید کے موقعہ پر وزیر اعظم کی جانب سے دی جانے والی عیدی کا طریقہ کار پسند نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بوڑھوں کو چار گھنٹے تک بٹھایا گیا‘۔

 اگر تمام دنیا اور پاکستان نےامداد میں دال بھیجی ہے تو پھر تو درست ہے ورنہ تین روز سے دال کھلانا ناانصافی ہے۔
نذیر حسین، بوئی

انہوں نے کیمپ میں ملنے والی امداد پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر تمام دنیا اور پاکستان نے ان کی امداد میں دال بھیجی ہے تو پھر تو درست ہے ورنہ انہیں گزشتہ تین روز سے دال کھلانا ناانصافی ہے۔

ایک جدید کیمپ میں مظفرآبار کی خاتون نادیہ شہزاد نے شکایت کی کہ انہیں چھوٹی موٹی گھریلو استعمال کی چیزیں مثال کے طور پر توے اور کولر بھی دستیاب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’یہ تو کوئی زندگی نہ ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے مظفرآباد میں سب کچھ تھا۔ یہاں کئی لوگ ہماری ضروریات لکھ کر لے گئے مگر واپس کوئی نہیں آیا‘۔ نادیہ کا جن کے والد زلزلے کی نذر ہوئے کہنا تھا کہ ان کے گھر میں پردے کا خاص انتظام تھا لیکن یہاں آ کر ہر مرد سے بات کرنی پڑتی ہے۔

کیمپ میں نئے متاثرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور سردی میں اضافہ سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کیمپ اب آباد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ فل الحال منتظمین ان کیمپوں کو چھ ماہ تک چلانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم متاثرین جو جلد از جلد واپس لوٹنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ مدت کافی طویل اور صبر آزما ہے۔

اسی بارے میں
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر
06 November, 2005 | پاکستان
چار کمبل بھی سردی نہیں روکتے
06 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد