BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 November, 2005, 20:18 GMT 01:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاملائی کے سکھ کے مسائل

آٹھ اکتوبر کا زلزلہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے چار اضلاع کے لوگوں کے لیے قیامت بن کر آیا۔

زلزلے نے لوگوں کے لیے مسائل کے پہاڑ کھڑے کر دیئے۔شاملائی کے لوگوں کی مشکلات کچھ انوکھی قسم کی ہیں۔

شاملائی کے لوگ اپنے گھر اور مال مویشیوں کی وجہ سے گھر بار چھوڑ جانے کے لیے تیار نہیں۔ اس گاؤں میں آباد سکھوں کے تیرہ گھر وہاں سے حسن ابدال منتقل ہو گئے ہیں لیکن ایک سکھ پرس رام گاؤں چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پرس رام عرصہ دراز سے گاؤں میں ایک کریانے کی دکان چلا رہے ہیں اور گاؤں کے لوگ ان سے ادھار پر سودا لیتے رہتے ہیں۔

زلزلہ کے بعد اس گاؤں کے بہت سے مکانات تباہ ہو گئے اور مکینوں کے گھر گرہستی سب ان ملبوں تلے دب کے رہ گئی ہے۔

پرس رام کو اپنا ادھار ملنے کی امید بھی ختم ہو گئی ہے۔

پرس رام نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ گاؤں والوں نے اس کے دو لاکھ روپے دینے ہیں اور وہ یہ رقم لینے کے لیے گاؤں میں موجود ہے۔

پرس رام جو اردو اور پنجابی تو مشکل سے بولتے ہیں، لیکن پشتو بڑی روانی سے بولتے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندے کے گاؤں پہنچنے پر زلزلہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ ایسے میں پرس رام بھی وہاں پہنچے اور بڑے پرتپاک سے اسلامی انداز میں سلام کیا۔

پرس رام جن کی پیدائش اسی گاؤں کی ہے۔ وہ مسلمانوں کے طور طریقے اچھی طرح جانتے ہیں۔پرس رام کو یاد نہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کب سے اس گاؤں میں آباد ہیں۔

پرس رام کی اپنے مذہب کے بارے میں معلومات بھی واجبی سی ہیں اور گاؤں میں لوگ ان کو ہندو کے طور پر جانتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہندو ہیں لیکن جب ان سے پوچھا گیاکہ وہ کس کی پوجا کرتے ہیں تو انہوں نےکہا کہ وہ گرو ناننک کو ماننے والے ہیں۔

گاؤں میں ایک گردوارہ بھی ہے اور گاؤں سے سکھوں کے چودہ گھرانوں کے چلے جانے کے بعد پرس رام ہی اس گردوارے کے محافظ ہیں۔

مسلمانوں کے درمیان رہنے کے بارے انہوں نے کہا کہ شاملائی کے لوگ ان کے محافظ ہیں اور ان کو کبھی مذہبی منافرت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

پرس رام نے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ بابری مسجد کے واقعہ سے پہلے اس گاؤں میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی جو وہاں سے چلی گئی۔

شاملائی سے سترہ کلومیٹر دور بٹگرام میں دو ہندؤں کو گولی مارنے کے واقعے کے بعد شاملائی کے بہت سے سکھ ہندوستان کے شہر ڈیرہ دون اور ممبئی منتقل ہو گئے۔

جس میں پرس رام کے بھائی دیوی چند، رام لعل اور منور لعل شامل ہیں۔زلزلے کی خبر سن کر پرس رام کے بھائی نے اس کو خط لکھا ہے جو انہیں کل ہی ملا ہے۔
زلزلے میں شاملائی کی ہندو برادی کے چھ افراد جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو گئے۔

زلزلے کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں سکھ برادری کے لیے یہ ممکن نہیں رہا تھاکہ اپنے مرنے والوں کو گاؤں سے دور شمشان گھاٹ تک لے جا سکیں۔ ان حالات میں ان کو گاؤں والوں سے ان مردوں کی چتا کو گاؤں میں ہی جلانے کی اجازت لینی پڑی۔

پرس رام نے بتایا کہ انہوں نے بڑوں کو تو جلا دیا لیکن بچوں کو دفن کر دیا۔

اسی بارے میں
زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا
09 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد