تصویر کے دو رخ: عنوان تجویز کریں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم کرنے والی لآئن آف کنٹرول پر واقع چوتھے مقام تتہ پانی کو بھی امدادی سامان کی آر پار ترسیل کے لیے کھول دیا گیا ہے تاہم کشمیریوں کو ابھی تک آرپار جانے کی اجازت نہیں ملی۔ یہ تصویر اسی موقعے پر لی گئی ہے۔ اس کے لئے مختصر سے مختصر الفاظ میں عنوان تجویز کیجئے۔ ،صویر کو بڑے سائز میں اور اس کا دوسرا رخ دیکھنے کے لئے نیچے یا دائیں ہاتھ دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔
سارہ: عبدالغفور شاہد، کینڈا: اک ترے آنے سے پہلے، اک ترے جانے کے بعد سعید صدیقی، یو اے ای: یہ نہ ہوتا تو کوئی دوسرا غم ہونا تھا میں تو وہ ہوں جسے ہر حال میں بس رونا تھا رضوان راٹھور، لاہور: نوبال محمد امجد چوہدری، شکر گڑھ: پتلی تماشا اظہار زیدی، کینیڈا: کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ یاسر مختار، کراچی: اکثر وہ کہتے ہیں وہ بس میرے ہیں اکثر کہتے کیوں ہیں، حیرت ہوتی ہے حمزہ چیمہ، فیصل آباد: ندیم مراد بلوچ، جنوبی افریقہ: دانت تو دونوں طرف بہت چمکے ہیں فیصل عظیم، یو اے ای: چلو امداد امداد کھیلیں فرحین الیاس، ملتان: چلو امداد امداد کھیلیں حمیدہ، کراچی: کبھی تو ہوگا اپنا ملن اعجاز حسین، دوبئی: تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن شیخ قادر، کینیڈا: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ محمد نسیم، سوات: خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک عنایت کریم، بہاولپور: دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا عزیز، برطانیہ: بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی، منصف بھی کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں عبدالغفور، نامعلوم: وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔ شاہدہ اکرام، ابو ظہبی: حکم حاکم، مرگ مفاجات اسی کو کہتے ہیں جو چاہے آپ کا حسن کرشما ساز کرے۔ میاں آصف محمود، لاہور: اگر حقیقی دوستی ہو گئی تو ’تیرا کیا بنے گا کالیا؟‘ ندیم رحمان ملک، پاکستان: رنجش ہی صحیح، دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ۔ سعدیہ سلام، نئئ دلی، بھارت: یہ سرحدیں جو لکیروں سے ہم نے کھینچی ہیں ہو دخل ان کا گزارگاہ دل میں کیا معنی منیرہ سلام، نئی دلی، بھارت: ہاتھ سے ہاتھ ہم نے ملا تو لیے دل نہ دل سے ملا، رہ گیا فاصلہ آصف محمود، امریکہ: مہانہ نہ مانے! (پولیس جن صاحب کو لے کر جا رہے ہیں، ان کا نام مہانہ ہے۔ میں انہیں جانتا ہوں کیونکہ میرا تعلق در اصل انہی کے گاؤں سے ہے۔) محمد دین، کینیڈا: سفید ہاتھی اور کالے بھیڑیں۔ محمد سراج، مانسہرہ، پاکستان: ادھورے خواب۔ گلفراز، مانسہرہ، پاکستان: وہ وقت دور نہیں۔۔۔ مشتاق احمد، مانسہرہ، پاکستان: کیا یہی پیار ہے۔۔۔ ندیم اختر، گجرات: ہاتھی کے دانت، کھانے کے اور، دکھانے کے اور۔ یاسر، میرپور: بغل میں چھری، منہہ میں رام رام۔ |
اسی بارے میں ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||