’آدمی کس کس کو گنے؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میرے سب بہن بھائی بالا کوٹ میں ہی رہتے ہیں۔ میں آٹھ اکتوبر کو لندن میں ہی تھی۔ صبح صبح مجھے میرے ایک دوست نے فون کرکے بتایا کہ بالا کوٹ میں زلزلہ آیا ہے اور کہا کہ وہاں تو سب کچھ ہی ختم ہوگیا ہے۔ میں نے اسی وقت بالا کوٹ میں اپنے بھائی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کہاں؟ وہاں تو کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ پھر میں نے مانسہرہ کچھ رشتہ داروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کہیں بھی رابطہ نہ ہوسکا۔ دوسرے دن ایبٹ آباد میں ایک منہ بولے بھائی سے اور مانسہرہ میں اپنے بھائی کے دوست سے بھی رابطہ ہوگیا لیکن اس نے یہی بتایا کہ بالاکوٹ میں سب ختم ہوگیا ہے، تمہارا خاندان محفوظ ہے لیکن ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ خیر میں نے دس اکتوبر کی ٹکٹ لی۔ میری دوستوں نے بہت سا سامان مجھے دیا، میرے پاس تین لاکھ روپے بھی تھے اور اسلام آباد سے میں نے کھانے پینے کا بہت سا سامان خریدا۔ اسلام آباد سے بالاکوٹ تک پہنچنے میں مجھے دس گھنٹے لگ گئے کیونکہ مانسہرہ سے آگے امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو کوئی شمار نہ تھا۔ بالاکوٹ سے پہلے بیسیان نامی ایک جگہ ہے جہاں سے آگے بالاکوٹ کی سرسبز اور حسین وادی مٹی کے ڈھیر میں بدلی نظر آئی۔ ہر جگہ لوگ قطاروں میں بیٹھے، امدادی گاڑیوں کا انتظار کررہے تھے اور گاڑیوں والے چھوٹت چھوٹی ایک چیز پھینکتے ہوئے جا رہے تھے۔ یہ میرے لئے خاصا تکلیف دہ منظر تھا لیکن مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ دیکھنا تھا۔ خدا خدا کرکے ٹھیک افطاری کے وقت میں اس جگہ پر پہنچی جہاں ایک ماہ قبل میں چھٹیاں گزارنے اپنی فیملی کے ہمراہ گئی تھی یعنی اپنے بھائیوں کے گھر۔ میرے چاروں بھائی اپنے بچوں کے ہمراہ ایک ہی ٹینٹ میں کھلے آسمان کے نیچے مجھے مل گئے۔ رات کو ہر پانچ منٹ کے بعد زلزلے کے جھٹکے آتے تھے اور ساتھ موسلا دھار بارش تھی۔ ہم جس ٹینٹ کے نیچے تھے، وہ پانی سے بھر چکا تھا۔ اپنے بھائیوں کے یہ حالات دیکھے نہیں جاتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے صرف ایک ایک شرٹ پہنے سردی سے کانپ رہے تھے، نہ کوئی بستر تھا اور نہ ہی کوئی گرم کپڑا۔ جو لوگ خود دوسروں کو دینے والے تھے، بھکاریوں میں بدل چکے تھے اور زندگی سے مایوس تھے۔ مجھ سے جتنا ہوسکا میں نے ان سب کو حوصلہ دیا۔ صبح میں اپنے رشتہ داروں کے پاس گئی اور جو رقم ہوسکی انہیں دے آئی۔ میرے اپنے غریب رشتہ داروں کے بچے اس وقت تک ملبے کے نیچے تھے اور اب بھی نیچے ہیں۔ میری اپنی بڑی باجی جن کی عمر تقریباً پینسٹھ برس ہے، بری طرح چھت کے نیچے دب گئیں اور پانچ گھنٹے کے بعد میرے بھائیوں نے بڑی مشکل سے انہیں باہر نکالا۔ وہ کافی زخمی ہوچکی ہیں۔ میرے رشتہ داروں میں میرے ماموں زاد بھائی، بھتیجی اور اس کا خاوند اور دو بچے، دوسری بھتیجی کی دس سالہ بیٹی، بھانجے کی گیارہ سالہ بیٹی، تایا زاد بھائی، اس کے چار بچے، خالہ زاد بہن اور اس کے تین بچے اور خاوند، ایک نوبیاہتا بھتیجی اور اس کا خاوند۔۔۔۔۔یہ تو وہ ہیں جو دفنائے جاچکے ہیں لیکن اس سے زیادہ ابھی بھی ملبے کے نیچے ہیں۔ آدمی کس کس کو گنے؟ میں نے ایک چیز یہ دیکھی کہ کھانے پینے کا سامان تو لوگوں کو وافر مقدار میں مل رہا تھا لیکن کمبل اور خیموں کی اشد ضرورت تھی۔ اس وقت سردی وہاں اپنے عروج پر ہے لیکن میرے بھائیوں کے پاس ابھی بھی ایسے خیمے ہیں جو رات کے وقت ہوا سے اڑ جاتے ہیں اور وہ پوری رات جاگ کر گزارتے ہیں۔ جو لوگ مانگنا جانتے ہیں، انہوں نے تو بہت سا سامان اکٹھا کر لیا ہے لیکن جنہوں نے پہلے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا، ابھی بھی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ شاید کسی اللہ کے بندے کے دل میں رحم آجائے۔ کئی لوگ ہیں جو چیک بیواؤں کو بانٹے جاتے ہیں وہ ان کے لواحقین اڑا کر لے جارہے ہیں۔ پھر بالاکوٹ سے آگے جو ہمارے رشتہ دار ہیں، خصوصاً کاغان میں تو وہاں نہ ہونے کے برابر امداد جارہی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ مشرف صاحب، پچیس ہزار کا جو اعلان آپ کی حکومت نے کیا ہے، اس میں تو ملبہ بھی نہیں اٹھایا جاسکتا، لوگ اپنی زنگی کا دوبارہ آغاز کیسے کریں گے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||