ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم کرنے والی لآئن آف کنٹرول (ایل او سی) پر واقع چوتھے مقام تتہ پانی - مینڈھر سیکٹر کو پیر کے روز امدادی سامان کی آر پار ترسیل کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس مقام سے دونوں ممالک کے فوجی حکام نے امدای سامان کا تبادلہ کیا لیکن کسی کشمیری کو تاحال لائن آف کنٹرول کے آر پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ تتہ پانی کو جانے والی سڑک اس وقت کچی ہے مگر حکام کا کہنا ہے کہ اس تین کلومیٹر ٹریک کو خصوصی طور پر دس دن کی قلیل مدت میں تیار کیا گیا ہے اور یہاں اب بس بھی آ سکتی ہے۔ اس مقام کو کھولنے سے پہلے دونوں جانب سے امن اور خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کبوتر اڑائے گئے۔ دونوں جانب سے کشمیری بڑی تعداد میں اپنے رشتہ داروں کو دیکھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انہیں لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت تو نہ ملی مگر ان کو اس باڑھ کے نزدیک آنے دیا گیا جو لائن آف کنٹرول کو منقسم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں سے بات کر سکیں۔ گزشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول کو تین مقامات راولاکوٹ ۔پونچھ، چکوٹھی۔اڑی اور نوسہری ۔ٹتھوال سیکٹر سے کھولا جا چکا ہے۔ ان مقامات کو کھولنے کا فیصلہ پاکستان اور بھارت کے حکام نے انتیس اکتوبر کو کیا تھا۔ دونوں ممالک کے فوجی حکام نے اپنے اپنے علاقے سے ڈیڑھ سے دو کلومیٹر تک بچھی بارودی سرنگوں کو صاف کیا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب امدادی کیمپ اور امیگریشن کاؤنٹر بنائےگئے ہیں تاکہ دونوں جانب سے لائن پار کرنے والے کشمیریوں کو سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ ان مقامات کے علاوہ لائن آف کنٹرول حاجی پیر۔اڑی سیکٹر سے بھی کھولی جانی ہے مگر بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اڑی سے حاجی پیر تک بہت زیادہ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس کو ہٹانے میں ابھی دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں لائن آف کنٹرول پر نیا ’تنازعہ‘20 October, 2005 | پاکستان امدادی ٹرک تیار، کنٹرول لائن کھلےگی06 November, 2005 | پاکستان کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ07 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||