BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 November, 2005, 07:25 GMT 12:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر

لائن آف کنٹرول (ایل او سی)
کسی کشمیری کو تاحال لائن آف کنٹرول کے آر پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے
کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم کرنے والی لآئن آف کنٹرول (ایل او سی) پر واقع چوتھے مقام تتہ پانی - مینڈھر سیکٹر کو پیر کے روز امدادی سامان کی آر پار ترسیل کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

اس مقام سے دونوں ممالک کے فوجی حکام نے امدای سامان کا تبادلہ کیا لیکن کسی کشمیری کو تاحال لائن آف کنٹرول کے آر پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

تتہ پانی کو جانے والی سڑک اس وقت کچی ہے مگر حکام کا کہنا ہے کہ اس تین کلومیٹر ٹریک کو خصوصی طور پر دس دن کی قلیل مدت میں تیار کیا گیا ہے اور یہاں اب بس بھی آ سکتی ہے۔

اس مقام کو کھولنے سے پہلے دونوں جانب سے امن اور خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کبوتر اڑائے گئے۔ دونوں جانب سے کشمیری بڑی تعداد میں اپنے رشتہ داروں کو دیکھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انہیں لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت تو نہ ملی مگر ان کو اس باڑھ کے نزدیک آنے دیا گیا جو لائن آف کنٹرول کو منقسم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں سے بات کر سکیں۔

گزشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول کو تین مقامات راولاکوٹ ۔پونچھ، چکوٹھی۔اڑی اور نوسہری ۔ٹتھوال سیکٹر سے کھولا جا چکا ہے۔

ان مقامات کو کھولنے کا فیصلہ پاکستان اور بھارت کے حکام نے انتیس اکتوبر کو کیا تھا۔

دونوں ممالک کے فوجی حکام نے اپنے اپنے علاقے سے ڈیڑھ سے دو کلومیٹر تک بچھی بارودی سرنگوں کو صاف کیا ہے۔

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب امدادی کیمپ اور امیگریشن کاؤنٹر بنائےگئے ہیں تاکہ دونوں جانب سے لائن پار کرنے والے کشمیریوں کو سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔

ان مقامات کے علاوہ لائن آف کنٹرول حاجی پیر۔اڑی سیکٹر سے بھی کھولی جانی ہے مگر بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اڑی سے حاجی پیر تک بہت زیادہ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس کو ہٹانے میں ابھی دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔

66یہ ایک مہینہ
زلزلے کےایک ماہ میں کیا کیا ہوا: وسعت اللہ خان
66زلزلہ کے ایک میہنہ
آٹھ اکتوبر سے آٹھ نومبر تک میں نے کیا دیکھا؟
66اماں!ہم کدھرجائیں گے
زلزلے کے بعد خوف، کم خوابی اور ذہنی دباؤ
66مشینیں ہوتیں تو
ملبہ ہٹایا جاتا تو کئی اموات نہ ہوتیں
66امداد کی تقسیم
فوج نےمقامی نمائندوں کی مدد لینےمیں دیرکیوں کی
اسی بارے میں
کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ
07 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد