’فالٹ‘ صرف فالٹ لائنز میں نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جو زلزلہ آیا اگرچہ اس سے تنِ تنہا نمٹنے کی عدم صلاحیت کی ٹھوس وجوہات تو سامنے آچکی ہیں لیکن اس زلزلے سے پہلے بھی کیا پاکستان میں زلزلے کی مانیٹرنگ کا کوئی قابلِ عمل نظام موجود تھا۔اس کے جواب کی تلاش مجھے کئی جگہ لے گئی۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں زمین کے اندر کیا اتھل پتھل ہورہی ہے اس کے مشاہدے اور تجزیے کی ذمہ داری جیالوجیکل سروے کے اداروں کو سونپی جاتی ہے لیکن جاپان اور پاکستان ایسے ممالک ہیں جہاں یہ ذمہ داری محکمہ موسمیات کے پاس ہے۔ جاپان کے پاس تو اس کا جواز یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جب پورا ملک ہی برباد ہوگیا تھا تو ہنگامی طور پر محکمہ موسمیات کو زلزلوں کی مانیٹرنگ کا نظام بھی سونپ دیا گیا۔ جاپان کے مجموعہ الجزائر ہونے کے ناطے پاس پہلے ہی سے سمندری طوفانوں اور سونامی کی مانیٹرنگ کا نظام موجود پاکستان کے محکمہ موسمیات کو جاپان کی امداد سے فعال بنایا گیا اور جاپان کی تقلید میں پاکستان میں بھی زلزلوں کی مانیٹرنگ کا نظام محکمہ موسمیات کے سپرد کر دیا گیا حالانکہ جب برصغیر تقسیم ہوا تو جیالوجیکل سروے آف انڈیا کے بطن سے جیالوجیکل سروے آف پاکستان بھی پیدا ہوچکا تھا لیکن اس ادارے کے پاس کبھی بھی اتنا بجٹ نہیں رہا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان میں زلزلے کے علاقوں اور جیالوجیکل فالٹس کے نقشوں کی تیاری کا کام جیالوجیکل سروے نے کیا لیکن زلزلوں کی مانٹرنگ اور ریکارڈنگ محکمہ موسمیات کے پاس ہے۔ اس صورتحال میں دونوں محکموں کے درمیان ربط ہونا چاہیے تھا لیکن ربط کیسے ہو جبکہ محکمہ موسمیات وزارتِ دفاع کے تحت ہے اور جیالوجیکل سروے کا محکمہ وزارتِ قدرتی وسائل اور معدنی ترقی کے تحت آتا ہے۔ اسی عدمِ ربط کے سبب انیس سو بانوے سے اقوامِ متحدہ نے زلزلوں کے خطرے سے دوچار نئے عالمی نقشے اور مطالعے کے لیے جو سات سالہ اسٹڈی کروائی اس میں پاکستان کا کوئی نمائندہ نہیں تھا حالانکہ اس اسٹڈی میں ایک سو تینتیس ممالک نے شرکت کی۔ پاکستانی علاقوں کے زلزلہ نقشے چینی اور بھارتی ماہرین کی مدد سے بنائے گئے اور ان عالمی نقشوں کو دسمبر سن دوہزار میں امریکی جیالوجیکل سروے نے یہ کہہ کر اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا کہ دنیا کا کوئی بھی شخص ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔ پاکستان نے ان نقشوں کی مدد سے اپنے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کیا اور معروف ماہرِ ارضیات اور اردو یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقبال محسن کے بقول پچیس برس بعد اپ ڈیٹ ہونے والے ان نقشوں میں پاکستان کو چار زلزلہ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انتہائی شدید زلزلے کے زون فور میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات ، صوبہ سرحد میں دیر، سوات اور چترال اور صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ، گوادر اور پسنی شامل ہیں جبکہ شدید زلزلے کے زون تھری میں کراچی اور اسلام آباد کو بھی رکھا گیا ہے۔ پاکستان پٹرولیم کے مینجر ایکسپلوریشن معین رضا خان نے بتایا کہ شمالی پاکستان میں جن جن علاقوں میں زلزلہ آیا ہے وہ سب کے سب جیالوجی کی زبان میں مین باؤنڈری تھرسٹ کے ساتھ ساتھ ہیں جو مظفر آباد اور بالا کوٹ کے درمیان سے گذرتی ہوئی اسلام آباد کے مارگلہ ہل کے ساتھ ساتھ اٹک تک جاتی ہے جبکہ مظفر آباد سے اوپر یہ کاغان ویلی سے نیلم ویلی تک آتی ہے اور پھر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جا کر ختم ہوجاتی ہے۔ اسی مین باؤنڈری تھرسٹ کے ساتھ ساتھ پنجال تھرسٹ بھی چل رہا ہے۔ ان دونوں فالٹ لائنوں کے درمیان تقریباً سات سو میٹر کا فاصلہ ہے جہاں مستقل زمین کی حرکت ہوتی رہتی ہے۔ معین رضا خان کا کہنا ہے کہ اس فالٹ کے علاوہ کوئٹہ چمن فالٹ اور کراچی کے نزدیک اللہ بند فالٹ ماضی میں شدید زلزلوں کا سبب بن چکے ہیں اور ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ فالٹ لائنز ہر ایک کو بہت عرصے سے معلوم ہیں لیکن ان کی موومنٹ پر نظر رکھنے کے لیے ان فالٹ لائنز کے ساتھ ساتھ جو سائسمو میٹرز نصب ہونے چاہیں ان میں سے ایک بھی نہیں ہے۔ اگرچہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس کے پانچ مراکز یعنی کوئٹہ، پشاور، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں زلزلہ پیمائی کے آلات موجود ہیں لیکن معلوم یہ ہوا کہ صرف کوئٹہ مرکز جو کہ سب سے پرانا ہے زلزلہ پیمائی کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ کراچی میں جو سائسمو میٹر نصب کیا گیا تھا وہ پاکستان کے ایک موقر انگریزی جریدے کے مطابق ایک بنکر کو ایٹمی حملہ سہارنے کے ایک تجربے میں بنکر سمیت تباہ ہوگیا۔ اب انتظار ہے کہ کراچی میں جو زلزلے کے زون تھری میں واقع ہے نیا سائسمو میٹر کب لگے گا۔ عام طور سے پاکستان میں محکمہ موسمیات کے جس مرکز سے زلزلے کے بارے میں پریس ریلیز جاری کیے جاتے ہیں وہ پشاور مرکز ہے۔ میں پشاور مرکز میں داخلے سے پہلے سوچ رہا تھا کہ کم از کم وہاں جدید ترین سسٹم ہوگا لیکن جس کمرے میں زلزلہ ریکارڈنگ کے آلات لگے ہوئے ہیں وہاں انیس سو چون کے زمانے کے آلات بھی ہیں۔ بیس سال قبل خریدا گیا سائسمومیٹر بھی ہے اور سن دوہزار تین میں خریدا جانے والا واحد کمپیوٹر بھی ہے۔ اس کمرے میں ایک نوجوان ماہر انٹرنیٹ پر بیٹھا مختلف ویب سائٹس دیکھ رہا تھا جبکہ ایک صاحب پاکستان کے ایک نقشے پر جھکے ہوئے پرکار گھما رہے تھے۔ یہ تھے محمود احمد۔ اگرچہ ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن ہنگامی حالت کے سبب انہیں دوبارہ ڈیوٹی پر بلا لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ پریس ریلیز جاری کرتے ہیں اور زلزلوں کی ریڈنگ لیتے ہیں۔ کہنے لگے کہ دنیا کمپیوٹرائزڈ ہوچکی ہے مگر میں آج بھی نقشے پر پرکار گھما کر زلزلے کا مرکز درست معلوم کرلیتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ پھر انیس سو اسی میں شائع ہونے والے اس نقشے پر جھک گئے جو بقول ان کے ایک ٹیکنیکل نقشہ ہے اور اس وقت صرف پشاور اور کوئٹہ کے مرکز میں موجود ہے۔ محمود احمد نے بتایا کہ اس وقت مرکز میں جو واحد کمپیوٹر ہے اس پر ڈیٹا اپ لوڈ کرنے اور ریڈنگ میں کم ازکم نصف گھنٹہ لگتا ہے۔اگر دو مزید کمپیوٹر مل جائیں تو زندگی آسان ہوجائے۔ پشاور مرکز کے ڈائریکٹر محمد رفیق جو چین میں زلزلے کے بارے میں ہونے والی ایک علاقائی کانفرنس میں شرکت کے لیے بے حد مصروف دکھائی دیے انہوں نے بتایا کہ وہ ایم ایس سی فزکس ہیں اور جاپان سے ارتھ کوئک انجینرنگ کا ایک سال کا ڈپلومہ لے کر آئے ہیں اور اس وقت پاکستان میں زلزلے سے متعلقہ محکموں میں صرف ڈپلومہ یافتہ ماہرین ہی کام کررہے ہیں۔ ڈگری یافتہ کوئی نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پشاور مرکز میں مقابلتاً زلزلوں کی مانیٹرنگ کا سب سے بہتر نظام ہے اس کے باوجود ہمارے پاس براڈ بینڈ اور ویری براڈبینڈ زلزلہ پیما آلات نہیں ہیں۔ حکومت نے بیس کروڑ روپے سے جدید آلات خریدنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ان آلات کی خریداری ایک بار پھرتاخیر میں پڑ گئی ہے۔ میں نے محمد رفیق سے پوچھا کہ جدید آلات کی غیر موجودگی میں آپ کے لیے یوایس جیالوجیکل سروے کا ڈیٹا کتنا مفید ہے۔ کہنے لگے نہایت مفید ہے۔ میری پشاور یونیورسٹی کے جیالوجیکل سینٹر آف ایکسیلنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف خان سے ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات پشاور مرکز کے پاس زلزلے کی ریڈنگ سے متعلق صرف ایک کوالیفائڈ ڈپلومہ ہولڈر ہے باقی سب بادل اور بارش کے ماہر ہیں چنانچہ انہی موسمیاتی ماہرین نے آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد یہ پیشین گوئی کی کہ آفٹر شاکس اڑتالیس گھنٹے میں ختم ہوجائیں گے لیکن یہ شاکس آج تک جاری ہیں۔ چار برس پہلے معروف ماہرِ ارضیات راجر بلہم نے پیش گوئی کی تھی کہ شمالی پاکستان میں ایک خوفناک زلزلہ آسکتا ہے لیکن محکمہ موسمیات کے ان ماہرین نے اس کی پرزور تردید کی۔ ڈاکٹر آصف خان نے بتایا کہ سن دوہزار دو میں پشاور یونیورسٹی نے اٹامک انرجی کمیشن اور واپڈا کے علاوہ دیگر سویلین اور اعلی فوجی افسروں کو ایک کانفرنس میں مدعو کیا۔ اس موقع پر جو سفارشات مرتب ہوئیں انہیں کتابی شکل میں تقسیم بھی کیا گیا۔ ایک سفارش یہ تھی کہ چونکہ زلزلوں اور زمینی تبدیلیوں کے مطالعے کے لیے کوئی مستقل ادارہ نہیں ہے اس لیے پاکستان میں فلڈ کمیشن کی طرز پر ایک مستقل ارتھ کوئک کمیشن بنایا جائے۔ اس کے علاوہ شمالی علاقوں میں سائسمو میٹرز لگائے جائیں کیونکہ اسلام آباد سے اوپر معلوم فالٹ لائنیں ہونے کے باوجود ایک بھی سائسمو میٹر نصب نہیں ہے حالانکہ وہاں ڈیمز بنانے کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ ڈاکٹر آصف خان نے بتایا کہ یہ سفارشات پانی اور بجلی کے ترقیاتی ادارے اور ڈیموں کے نگراں واپڈا کو بھی بھیجی گئیں لیکن واپڈا کے اس وقت کے چئرمین لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقار نے یہ تحریری جواب دیا کہ واپڈا کا زلزلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بقول آصف خان جب اتنی اوپر کی فیصلہ سازسطح پر آگہی کا یہ عالم ہو تو پھر عام آدمی کی آگہی پر کیسے بات کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہرشے کو کلاسیفائڈ اور خفیہ رکھنے کے مرض نے بھی ریسرچ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے مثلاً مجھے پشاور یونیورسٹی میں اتنی ذمہ دار پوزیشن رکھنے کے باوجود اتنی اجازت نہیں کہ ایک سروے کا میپ ایشو کروا سکوں حالانکہ یہی سیٹلائٹ میپ ایک میٹر ریزولیوشن میں ویب سائٹس پر موجود ہیں جنہیں کوئی بھی طالبِ علم ڈاؤن لوڈ کرسکتا ہے۔ بعض اوقات خفیہ پن کا یہ مرض ناقابلِ فہم سطح تک پہنچ جاتا ہے مثلاً اسی سینٹر آف ایکسیلنس فار جیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حمید اللہ بھی اس فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار تھے جو زلزلے کے بعد کریش ہوا لیکن مرنے والے فوجی افسروں کے نام تو میڈیا پر آگئے مگر مایہ ناز جیالوجسٹ جو متاثرہ علاقے کے سروے مشن پر تھا اسکا نام کہیں نہیں آیا۔ ڈاکٹر آصف خان کے بقول اس زلزلے نے نہ صرف موجودہ فالٹ لائنوں میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں بلکہ کئی نئی لائنیں بھی بنی ہوں گی اس لیے دوبارہ آباد کاری سے پہلے نئے سروے اور نقشے بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اردو یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنولوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقبال محسن نے یہ واقعہ سنایا کہ یوایس جیالوجیکل سروے نے انیس سو چھیانوے ستانوے میں ایک انٹرنیشنل پروگرام کے تحت پاکستان میں ایک جدید زلزلہ پیما اسٹیشن لگانے کی پیش کش کی تھی۔ اگر یہ لگ جاتا تو ہمارا مانیٹرنگ کا نظام مزید بہتر ہوسکتا تھا لیکن اس پیش کش کو پاکستان کے دفاعی اور ایٹمی پروگرام کی مانیٹرنگ کا ایک ممکنہ حربہ سمجھ کر مسترد کردیا گیا۔ ڈاکٹر اقبال محسن کے بقول جدید مانیٹرنگ اور ریسرچ نظام کا قیام صرف چند ملین روپے میں ہوسکتا ہے لیکن اس نظام کی مانیٹرنگ اور ڈیٹا کی تشریح کے لیے ایک ہمہ وقتی ڈھانچے اور ماہرین کی ضرورت ہے ورنہ دنیا کا کوئی بھی آلہ کام نہیں آسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیحات میں دفاع سب سے اوپر ہے اگر وسائل کو اور شعبوں کی طرف بھی موڑا جائے تو کوئی بھی نظام قائم کرنا مشکل نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’ایسا نہ ہو کہ ہُن برسےاورحقدارترسیں‘22 October, 2005 | قلم اور کالم رمسا سنگھ کو کیا تکلیف ہے؟17 October, 2005 | قلم اور کالم اگر لوگ ہی نہ رہے تو تعمیرِنو کس کی30 October, 2005 | قلم اور کالم دھرتی ماں کو بھوک لگی تھی12 November, 2005 | قلم اور کالم ایک طرح کے لفظ، دو طرح کےمطلب11 November, 2005 | قلم اور کالم آپریشن ریلیف یا آپریشن کنفیوژن؟13 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||