اگر لوگ ہی نہ رہے تو تعمیرِنو کس کی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اعداد و شمار کچھ اس طرح سے ہیں۔ پاکستان کو زلزلہ زدگان کی فوری مدد، علاج اور تعمیرِ نو کے لیے پانچ ارب ڈالر چاہیئں۔ اقوامِ متحدہ نے پانچ سو پچاس ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔ بین الاقوامی امدادی ممالک نے پانچ سو اسی ملین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ امریکہ نے پچاس ملین اضافی ڈالر، یورپی یونین نے پچاس ملین اضافی یورو اور اسلامی ترقیاتی بینک نے دو سو اکیاون ملین ڈالر دینے کی حامی بھری ہے۔ لیکن یہ سب پیسے اور ’حامیاں‘ ابھی تک صرف ہوا میں ہیں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امداد کے لیے اقوامِ متحدہ کو ابھی تک صرف سو ملین ڈالر ملے ہیں۔ جو کہ تیس لاکھ بے گھر افراد کو سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ دینے اور تقریباً پچھتر ہزار زخمی افراد کے علاج معالجے کے لیے کچھ بھی نہیں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اب پانی تقریباً سر سے گزر رہا ہے اور اگر فوری امداد نہ ملی تو ان کو اپنے تمام امدادی آپریشن بند کرنے پڑ جائیں گے۔ ہزاروں افراد خوراک اور طبی امداد نہ ملنے اور سخت سردی کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے۔ لیکن دنیا پھر بھی خاموش ہے اور یہ خاموشی ایسی ہے کہ اب زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور لاکھوں افراد کی ہلاکتوں کے خدشات کی خبریں بھی آہستہ آہستہ عالمی میڈیا سے غائب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سب کچھ سرد خانے میں جا رہا ہے۔ لاتعلقی کے سرد خانے میں۔ کیا ہم سب اپنی آنکھوں کے سامنے تقریباً ایک لاکھ مزید افراد کو مرتا ہوا دیکھیں گے۔ اگر ہم چپ بیٹھے رہے تو شاید ایسا ہی ہو۔ لیکن کیا یہ سوچ ہی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ’یہ المیہ ہمارے بھیانک ترین تصورات سے بھی بالا تر ہے‘۔ کوفی عنان کے الفاظ بے وجہ نہیں ہیں۔ چند لمحوں میں ہزاروں بچے اپنے والدین کے سائے سے محروم ہو گئے اور ہزاروں والدین نے اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا۔ یہ بھیانک ترین المیہ ہی ہے۔ لیکن زلزلہ آنے کے تقریباً تین ہفتے کے بعد تک ابھی بھی کئی ایسے علاقے ہیں جہاں نہ امداد پہنچی ہے اور نہ کوئی امدادی ٹیمیں۔ سخت سردی، خوراک کی کمی اور بیماریوں سے وہاں رہنے والے شاید ابھی تک مر ہی چکے ہوں۔ لیکن جو زندہ بھی ہوں گے وہ بھی شاید بے جان جسم ہی ہوں۔ امدادی کارکن جو اس طرح کے علاقوں میں پہنچتے بھی ہیں بتاتے ہیں کہ کس طرح وہاں سے بیمار اور شدید زخمی لیکن سانس لیتے ہوئے بچے ان کے دیکھتے دیکھتے لاشیں بن جاتے ہیں۔
اور امدادی ممالک تعمیرِ نو کے لیے امداد دینے وعدے کرنے اور حکومتِ پاکستان بحالی کے منصوبے بنانے میں مصروف ہے۔ آخر لوگوں کو مستقل بنیادوں پر بھی بحال کرنا ہوتا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر لوگ ہی نہیں رہیں گے تو بحال کن کو کیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندے ژان ایگلین کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں یہ ہی نہیں معلوم کہ ایک سال کے بعد لوگ زندہ بھی رہیں گے یا نہیں تو ایک سال تک تعمیرِ نو کے پیسے پر بیٹھے رہنا بالکل غلط ہے۔ تیس ہزار مربع فٹ کے علاقے سے سب افراد کو دوسرے شہروں میں منتقل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی شاید سب کو ایک طرح کی سہولیات مہیا کی سکتی ہیں۔ لیکن جو ممکن ہے وہ تو کیا جا سکتا ہے۔ اور وہ ہے فوری مدد۔ خوراک، ادویات یا طبی سہولتوں کی فراہمی اور سردی سے بچنے اور سر چھپانے کے لیے خیمے۔ یہ سب ممکن ہے۔ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے دل کھول کر امداد دینے کے جذبے کی حدت دیکھ کر لگتا ہے کہ مل کر بیٹھیں تو یہ سرد موسم بھی گزر جائے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ سرخ فیتہ درمیان میں نہ آئے۔ ہر انسانی جان قیمتی ہے۔ زلزلے کو تو شاید نہیں روکا جا سکتا تھا لیکن اس کے بعد کی اموات کو روکنا ممکن ہے۔ بس یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیئے نہیں تو کشمیر کا غم کبھی بھی دل سے نہیں نکلے گا۔ ہمیں ہر حال میں سردی سے پہلے ان تک پہنچنا چاہیئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||