ایک ذرا دیانتداری چاہیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے زلزلہ زدگان کی ہنگامی امداد کے لیے فوری طور پر 25 کروڑ ڈالر فراہم نہیں کئے گئے تو ہم ان کی مدد میں ناکام قرار پائیں گے۔ اقوام متحد کے کوآرڈینیٹر کے الفاظ میں ’اس رقم کی ضرورت کل تھی۔ بہت تاخیر سے بھی فراہم کی جاتی تو آج فراہم کی جانی چاہئے تھی اس لیے کہ کل بہت دیر ہوجائے گی‘۔ اقوام متحدہ کی اس اپیل پر عطیہ گزاروں کا کیا رد عمل ہوتا ہے اس کا اندازہ تو بعد میں ہو گا لیکن یہ طے ہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے امدادی کام میں کسی طرح کا کوئی خلل پڑا تو اس سے لاکھوں افراد جن کواب بھی بچایا جا سکتا ہے مارے جائیں گے۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سونامی سے زیادہ تباہی اس زلزلے سے ہوئی ہے لیکن بین الاقوامی امداد سونامی کے متاثرین کے مقابلے میں بہت کم ہے اور اس میں بھی غیر ضروری تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کے کسی بھی ملک کو ایسی صورتحال میں بین الاقوامی امداد کی اپیل بھی کرنی چاہیے اوراگر ملے تو قبول بھی کر لینی چاہیے اس لیے کہ اس کا بنیادی اور اولین مقصد متاثرین کو بچانا ہوتا ہے۔ لیکن انحصار بہرحال اپنے وسائل اور اپنے عوام پر ہی کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ بیرونی امداد کے لیے اپیل تو کی جاسکتی ہے اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس میں کمی بیشی کی شکایت کی جاسکتی ہے، کوئی دے دے تو فیِ بہہ اور نہ دے تواس کی مرضی۔ اقوام متحدہ کے انسانی امداد سے متعلق کو آرڈینیٹر نے زلزلہ زدگان کی امداد کے سلسلے میں اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ مزید دو لاکھ خیمے چاہیں تاکہ متاثرین کو برفباری اور بارش اور سردی سے بچایا جاسکے، مزید پچاس ہیلی کاپٹر چاہیں تاکہ جن علاقوں تک سڑکوں کے ذریعے نہیں پہنچا جاسکتا ہے وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر سامان پہنچایا جاسکے اور وبائی امراض کی روک تھام کے لئے صفائی ستھرائی کے انتظامات کی ضروت ہے اس لئے کہ روزآنہ کوئی ڈیڑھ لاکھ ٹن بول وبراز کی شکل میں انسانی فضلات جمع ہوجاتے ہیں جن سے نمٹنا ایک خاصہ مشکل کام ہے۔ ان کے اس بیان سے مسئلے کی سنگینی اور گمبھیرتا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر کے مطابق کوئی ساڑھ تین لاکھ سے پانچ لاکھ خیمے درکار ہیں جبکہ ابتک پہنچے ہیں صرف ایک لاکھ بیس ہزار اور مزید دولاکھ آنے والے ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ متاثرین کو خیموں کی فوری فراہمی کے لئے پاکستان سے خیموں کی برآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے اس لئے کہ صرف پنجاب میں 37 خیمہ فیکٹریاں ہیں جنمیں مجموعی طور پر روزانہ 75 ہزار خیمے بنانے کی گنجائش ہے۔ یہ بیان انہوں نے چند دنوں پہلے دیا تھا۔ اب اگر یہ صحیح ہے اور 75ہزار نہ سہی پچاس ہزار خیمے ہی روز بناکر بھیج دئے جائیں تو دس دنوں میں پانچ لاکھ ہوجائیں گے۔ لیکن اندازہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو ریلیف کمشنر صاحب کی اطلاع غلط ہے یا پھر کارخانے والے اپنی گنجائش کے مطابق کام نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سندھ کے خیمہ سازوں سے ساٹھ ہزار خیمے اور پنجاب سے دو لاکھ خیموں کی خریداری کی بات طے ہوگئی ہے جو دسمبر کے پہلے ہفتے میں متاثرہ علاقوں میں پہنچائے جا سکیں گے۔ اگر میجر جنرل فاروق صاحب کا بیان صحیح ہے تو پھر اتنی تاخیر نہیں ہونی چاہئے تھی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کارخانے والوں کو اگر اپنی پوری گنجائش کے مطابق کام کرنے میں کوئی دقت پیش آرہی ہے تو اسے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ سرخ فیتے کی لعنت کو بیچ میں نہیں آنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ بچارے تو بنا بنا کر خیمے بھجیں اور جب وہ اپنی رقم وصول کرنے جائیں تو مختلف دروازوں کو کھٹکھٹا پڑےا اور مختلف دفتروں کی خاک چھاننی پڑے۔ یہ واضح رہے کہ پاکستان بارش اور برفباری سے بچاؤ والے خیمے بنانے والے ملکوں میں خاصی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کا جہاں تک تعلق ہے تو عرض کردوں کہ حکام تو جائزے اور سروے اور مرگلہ ٹاور میں مصروف رہے لیکن پاکستان کے عوام نے جس دن زلزلہ آیا ہے اپنی امدادی کارروائی شروع کردی اور آج تک کر رہے ہیں اور میں نے ابتک جتنے امدادی کیمپ دیکھے ہیں ان میں کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر ضروریات کی کمی نہیں پائی۔ اب یہ کام حکومت اور اس کے متعلقہ محکموں کا ہے کہ وہ اسے مناسب طریقے سے منظم کریں تاکہ یہ اشیاء مستحق لوگوں کو جلد از جلد پہنچائی جاسکیں۔ یہ ضرور ہے کہ بعض مقامات پر امدادی اشیاء کی لوٹ مار یا ان کی تقسیم میں افراتفری سے امدادی کارکنوں کو مشکلات پیش آتی رہی ہیں یا آرہی ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے پاکستان میں مستحق لوگوں کو نظر انداز کرنے کی ایک روایت ابتدا سے ہی چلی آرہی ہے۔ اس لئے لوگ اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی باری آنے سے پہلے ہی چیزیں ختم نہ ہوجائیں ، پھر ان کی کوشش ہوتی ہے کہ حصیہ رسدی سے کچھ زیادہ حاصل کرلیا جائے اس لئے کہ پتہ نہیں کل کیا ہو۔ اگر ان کی غیر یقینی کے اس احساس کو مٹا دیا جائے تو میرا خیال ہے اس افراتفری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ گندگی کی صفائی میں خود متاثرین کو شریک کرنا چاہئے۔ اور انہیں احساس دلانا چاہئے کہ وہ اگر اپنی خیمہ بستی کو صاف رکھیں گے تو وبائی امراض سے محفوظ رہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کو صحیح طریقے سے یہ بات سمجھا دی جائے تو وہ صفائی کا خیال رکھیں گے اور اس کے لئے اقوام متحدہ کے کو آرڈینیٹر اور دیگر منتظمین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ میں گزشتہ دن ایبٹ آباد کی ایک خیمہ بستی دیکھنے گیا جو یہاں کے پبلک اسکول کے سابق طلبا کی تنظیم ’ایبٹونین‘ نے قائم کی ہے وہاں خیمے بھی تھے، کھانے پینے کی اشیاء بھی تھیں صفائی اور حفاظت کا بھی انتظام تھا اور کوئی شور شرابہ بھی نہیں تھا۔ تنظیم کے معمر اراکین کام کی نگرانی کر رہے تھے اور نوجوان ان کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔ میں نے ایک منتظم سے دریافت کیا کہ انہیں اس کیمپ کو چلانے میں کس طرح کی مشکلات پیش آرہی ہیں تو انہوں نے بڑے رسان سے جواب دیا کہ کو کوئی مشکل نہیں ہے امدادی سامان، ادویات رضاکار ڈاکٹر سب چیزیں ہیں صرف لا وارث بچوں کے والدین کی تلاش میں مشکلات پیشں آرہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح کی تنظیموں اور لوگوں کو اگر امدادی کاموں میں شریک کیا جائے اور سرکاری محکمے ان سے تعاون کریں تو اگرچہ مشکلات پیش آئیں گیں لیکن اس سنگین صورتحال سے غیر ملکی امداد کے بغیر بھی کسی حد تک نمٹا جاسکتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہر آدمی جناب پرویز مشرف سے لے کر چپراسی تک ایک ذرا سی دیانتداری سے کام کرے اورسستی شہرت اور پبلسٹی حاصل کرنے کی کوششوں سے ذرا گریز کرے تو متاثرین کا حکام پر اعتماد بھی بڑھے گا ، امدادی کارکنوں کی ہمت افزائی بھی ہوگی اور اس مسئلے سے زیادہ موثر انداز میں نمٹا بھی جاسکے گا۔ | اسی بارے میں ’ایسا نہ ہو کہ ہُن برسےاورحقدارترسیں‘22 October, 2005 | قلم اور کالم جھٹکے ہیں کہ رکتے ہی نہیں15 October, 2005 | قلم اور کالم کہیں یونہی نہ چلتارہے13 August, 2005 | قلم اور کالم رویے میں لچک کی ضرورت ہے21 December, 2004 | قلم اور کالم یہ بربریت ہے09 July, 2005 | قلم اور کالم مشرف کے طعنے، بلیئر کی مجبوریاں23 July, 2005 | قلم اور کالم حکومت کی گول مول باتیں01 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||