حکومت کی گول مول باتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی خارجہ پالیسی صدر پرویزمشرف کی قیادت میں جتنی کامیاب ہے داخلہ پالیسی اتنی ہی غیر موثر اور پھُس پھُسی ثابت ہوئی ہے۔ دوسرے ملکوں سے تعلقات استوار کرنے میں انہوں نے جتنی سرعت سے اقدامات کئے ہیں وہ یقیناً قابل ستائش ہے لیکن اس کے برعکس داخلی معاملات کو بہتر بنانے میں وہ کچھ زیادہ کامیاب نہیں دکھائی دیتے ۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ ملک کے داخلی معاملات سے یا تو تنگ آگئے ہیں یا پھر سرے سے ان کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جہاں جنوبی ایشیاء، مشرقِ بعید، مشرقِ وسطیٰ ، یورپ ، امریکہ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں سے تعلقات بڑھ رہے ہیں وہاں ملک کے اندر ان کے تعلقات اپنے وزراء اور عملے کے افراد کی حد تک سکڑتے جا رہے ہیں۔ ادھر ان کے دوست سیاستداں بھی غالباً یہ چاہتے ہیں کہ ’صدر صرف ان کے ہی صدر، بن کر رہیں اوروہ جو پورے ملک کے صدر ہونے کا انہیں اعزاز حاصل ہے اس سے وہ عملی طور پر محروم ہوجائیں۔‘ چنانچہ ان کو اپنے مطلب کے الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حزب اختلاف سے مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہوتی بھی ہے تو وہ ایک جھٹکے میں پھرسے وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں پہلے تھے۔ اب صدر صاحب کی وردی کے مسئلے ہی کو لے لیجئے۔ مفاہمت پیدا ہوگئی تھی اور صدر صاحب بھی وعدہ کر بیٹھے تھے لیکن ان کے مشیروں کو غالباً یہ بات مناسب نہیں لگی انہوں نے ان کو وردی پہنے رہنے پر آمادہ کرلیا۔ اسی طرح میاں نواز شریف اور بی بی بینظیر سے کچھ سلسلہ جنبانی شروع ہوا تھا لیکن وہ بھی ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ اب ایک نیا شوشہ صدارتی نظام کا چھوڑا گیا ہے، اگرچہ صدر مشرف ، وزیرِاطلاعات اور چودھری شجاعت حسین بار بار یقین دہانی کراچکے ہیں کہ ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یہ کہ اس کی گنجائش بھی نہیں ہے اس لیے کہ آئین میں اس طرح کی کسی بنیادی تبدیلی کے لئے دوتہائی اکثریت حاصل ہونی چاہئے جو حکمراں جماعت کے پاس نہیں ہے، لیکن یہ موضوع اب کچھ اتنا زور پکڑ گیا ہے کہ بعض سنجیدہ حلقوں میں بھی اس پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وردی کے مسئلے کے بعد لوگوں کو حکومت سے وابستہ لوگوں پر کچھ زیادہ اعتبار نہیں رہا ہے۔ جنرل یحیٰ کے دور حکومت میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جناب ہنری کیسنجر پاکستان کے دورے پر آئے اور اچانک علیل ہوگئے اور پھر انکشاف ہوا کہ وہ علیل نہیں ہوئے تھے بلکہ پاکستان کے توسط سے عوامی جمہوریہ چین کے خفیہ دورے پر گئے تھے۔
ان کےاس خفیہ دورے کے بعد ممتاز کالم نگار آرٹ بکوالڈ نے اپنے کالم میں لکھا کہ اب اگر کسنجر کی طبیعت سچ مچ خراب ہوئی تو لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کسنجر کسی ملک کے خفیہ دورے پر جارہے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی اور فوجی رہنما بالخصوص اگر انکا تعلق حکمراں جماعت سے ہو تو کچھ ایسی ہی گول مول باتیں کرتے ہیں جس میں اثبات اور انکار کے دونوں پہلو اتنے نمایاں ہوتے ہیں کہ کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مثلاً جب کوئی فوجی حکمراں اقتدار میں آتا ہے تو وہ اپنی پہلی تقریر میں بعض یقین دہانیاں کرانے کے علاوہ یہ ضرور کہتا ہے کہ وہ ضرورت سے ایک دن زیادہ اقتدار میں نہیں رہے گا اور ملک کو صحیح راستے پر ڈال کر واپس اپنی بیرک میں چلا جائے گا۔لیکن نہ ملک صحیح ڈگر پر آتا ہے نہ وہ اپنی بیریک میں واپس جاتا ہے۔ پھر وہ جب کوئی ایسا غیر آئینی اقدام کرنے والے ہوتے ہیں تو ان کا طریقہ واردات ایک جیسا ہوتا ہے۔ مثلاً پہلے کسی بہت ہی غیر اہم شخص کے ذریعے ایک افواہ پھیلائی جاتی ہے۔ پھر جو اہم شخصیات ہیں وہ ان کی تردید کرتی ہیں، پھر ایسے بیانات آنے لگتے ہیں جن سے ابہام کی ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے، پھر اس کے حق میں بیانات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اوروہ کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو ملک کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا یہ ملک تباہ ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ۔ پھر ایک دن برسراقتدار شخصیت بظاہر بہ دلِ نہ خواستہ اس پیش کش کو ملک اور قوم کی خاطر قبول کرلیتی ہے۔ ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں بھی اب تک جو بیانات سامنے آئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ موضوع افواہ کے مرحلے سےگزر کے تردیدی بیانات کی منزل میں داخل ہوگیا ہے اور تیسرے مرحلے میں داخل ہوا چاہتا ہے یعنی یہ کہ جلدی ہی اس طرح کے بیانات آنے شروع ہوجائیں گے کہ ملک کی اقتصادی ترقی اور قانون کی حکمرانی اور معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرنے کی خاطر ملک میں صدارتی نظام کا نافذ ہونا ضروری ہے۔ میرا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ملک میں صدارتی نظام رائج ہونے والا ہے، میں صرف یہ کہ رہا ہوں کہ جس طرح یہ افواہ شروع ہوئی ہے اور اس کی جس انداز میں تردید کی جارہی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض افواہ نہیں ہے اوریہ مسئلہ کسی سطح پر زیر غور ضرور ہے۔ ورنہ یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ جس دن یہ افواہ سامنے آئی اسی دن اور اسی وقت صدر صاحب خود یا کوئی اور ایسی قابل اعتبار شخصیت دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیتی کہ ’ملک میں پارلیمانی نظام کے سوا نہ کوئی نظام آئے گا نا آنے دیا جائے گا۔‘ اس سلسلے میں ابتک جو بیانات آئے ہیں وہ بڑے مرے ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ ’پارلیمنٹ آزاد اور بااختیار ہے وہ جو چاہے کرسکتی ہے۔اگر وہ بادشاہت لانا چاہے تو لاسکتی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے بیانات سے غیر یقینی اور بڑھ رہی ہے۔ صدر صاحب کو چاہئے کہ جیسے انہوں نے ہندوستان اور اسرائیل کے بارے میں دلیرانہ پیش قدمی کا مظاہرہ کیا ہے ویسے ہی اس سلسلے میں بھی ایک واضح اور دو ٹوک رویہ اختیار کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||