اڈوانی کو اور چاہیے بھی کیا! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جناب لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کی صدارت سے جو استعفیٰ گزشتہ منگل کو دیا تھا وہ پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی منت سماجت اور این ڈی اے کے اصرار پرجمعہ کو واپس لے لیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جناب اڈوانی کو اس لڑائی میں شکست تو نہیں ہوئی لیکن ان کو زخم بڑے گہرے لگے ہیں اور اب انہیں پارٹی کے ساتھ قدم ملا کے چلنے میں ذرا دقت پیش آئے گی، بعض کا خیال ہے کہ انہوں نے بازی جیت لی اورانکے مخالفین کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ میں چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے سنگھ پریوار یعنی آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کی سیاست سے اتنا واقف نہیں ہوں اس لیے اس طرح کی کوئی رائے قائم کرنا میرے لیے مشکل ہے لیکن جن لوگوں نے جناح صاحب کے بارے میں جناب اڈوانی کے بیان پر اعتراض کیا ہے انہی لوگوں نے ان کے اس بیان پر بھی اعتراض کیا ہے کہ ’بابری مسجد کا انہدام ان کی زندگی کا انتہائی افسوسناک دن تھا‘ اس سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ جناح صاحب کے سیکولر ہونے پر جن لوگوں کو اعتراض ہے وہ خود یقینی سیکولر نہیں ہیں اور نہ ان میں سیکولر بننے کی کوئی صلاحیت ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ دونوں ملکوں میں عوام کی اکثریت اپنے تجربات کی روشنی میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ، اس خطے کےدو اہم ملک ہیں ۔ اگر ان میں دوستی ، بھائی چارہ بڑھے گا اور آپس میں اقتصادی تعاون کو فروغ حاصل ہوگا تو یہ خود توترقی کریں گے ہی ، خطے میں بھی امن و امان قائم ہوگا جو کسی بھی علاقے کی خوشحالی کے لیے ایک لازمی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام اور دانشوروں کی سوچ میں اس تبدیلی کےمختلف مظاہر بھی ہمارے سامنے آئے ہیں، مثلاً دونوں ملکوں کی کرکٹ ٹیموں کے دوروں کے موقع پر تماشائیوں کا ذوق وشوق اور خود جناب اڈوانی کی پاکستان آمد پر ان کا والہانہ استقبال۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو ان کے دورے سے یقینی خوش نہیں ہوئے ہوں گے اپنی چونچیں پروں میں دبائے بیٹھے رہے کہ کہیں منہ سے ایسی کوئی بات نہ نکل جائے کہ لوگ ہند و پاک دوستی کا مخالف سمجھ بیٹھیں۔ عین ممکن ہے کہ جناب اڈوانی کے اس دورے کا مقصد بھی
اس تاثر کی اس وقت ہندوستان کی سیاست میں ایک بڑی ضرورت بھی ہے اس لیے کہ بہار اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور وہاں کے مسلمان ووٹ نتائج پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ بہر حال ممکن ہے یہ سب کچھ نہ ہو اور جناب اڈوانی کے ذہن میں اچانک یہ بات سما گئی ہو کہ ہندوستان کی تقسیم کی ذمہ داری صرف جناب محمد علی جناح پر عائد نہیں ہوتی اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جناب اڈوانی نے پاکستان میں جو کچھ کیا اور وہاں ان کے قیام کے دوران ان کی جو مصروفیات رہیں اس سےدونوں ملکوں کے عوام میں ان کی مقبولیت بڑھی ہے اور اگر انہوں نے یہ رویہ اپنائے رکھا تومزید بڑھے گی اور دونوں ملکوں کے تعلقات پر بھی اس کے بڑے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اب جہاں تک ان کے معترضین کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ بعض لوگ صرف نفرت کی بنیاد پر ہی زندہ رہنا چاہتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ان کے اندر کچھ ایسی رس بس جاتی ہے کہ وہ اگر اس کو ترک کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے اور اس قبیل کے لوگ دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ انہیں کبھی مقبول عام حاصل نہیں ہوتا بس اللہ میاں ذرا سی چاشنی کے لیے انہیں ہر ملک اور ہر معاشرے میں پیدا کردیتے ہیں۔ اب آپ غور فرمائے کہ مہاتما گاندھی کو جن لوگوں نے قتل کیا اس کے لیے ان کے پاس کیا جواز تھا ۔ وہ تو ہندو بھی تھے، نہ صرف یہ بلکہ اپنے ہندو ہونے پر فخر بھی کرتے تھے لیکن محض ہندو ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے فرقے یا مذہب کے ماننے والوں کو قابل نفرت تصور نہیں کرتے تھے، دوسرے انہیں اس بات پر بھی یقین تھا کہ ہندوستان صرف ہندؤوں کا نہیں بلکہ ہندوستانیوں کا ہے۔ غالباً ان کی یہی ایک بات ان کے قاتلوں کو اتنی ناگوارگزری کہ انہوں نے ان کا قصہ ہی تمام کردیا۔ اسی طرح پاکستان بننے کے بعد جناح صاحب بھی غالباً یہ چاہتے تھے کہ یہ صرف مسلمانوں کا ملک نہ رہے بلکہ پاکستانیوں کا ملک بن جائے ، لیکن وہ خود ہی اتنے جلدی انتقال کر گئے کہ کسی ناتھو رام گوڈسے کو ان کے قتل کا شرف حاصل نہیں ہوسکا ورنہ پاکستان میں بھی ماشا اللہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو فخریہ مسلمان تو کہتے ہیں لیکن اپنی تنگ نظری میں کچھ اتنے لت پت رہتے ہیں کہ نفرت کرنے یا پھیلانے کے علا وہ اور کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ جناب اڈوانی کی پارٹی کے پروگرام اور نظریات جو بھی ہوں، جناب اڈوانی کے رویئے میں اس نمایاں تبدیلی کے لیے انہیں مبارک باد کا مستحق سمجھتا ہوں اور ممکن ہے وہ جناح صاحب اور بابری مسجد کے بارے میں اپنے بیانات سے آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے رہنماؤں میں مقبول نہ رہے ہوں لیکن ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں ان کی مقبولیت میں یقینی اضافہ ہوا ہوگا اور ایک سیاستداں کو چاہئے بھی کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||