عراق کیلیے بھی ویتانام پالیسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی نئی حکومت نے بغداد میں ایک بڑی ’شورش کُش‘ کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں کوئی چالیس ہزار عراقی فوجی حصہ لیں گے اور امریکی فوجی شہر کی ناکہ بندی میں ان کی مدد کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے گرد کوئی 675 چوکیاں بنائی گئی ہیں ۔ جن پر بیشتر امریکی فوجی پہرہ دیں گے۔ عراق کے نئے وزیردفاع نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے دوران بغداد کو اس طرح گھیرے میں لیا جائے گا جیسے’ کلا ئی کو کنگن، گھیرے میں لے لیتا ہے۔‘ عین ممکن ہے کہ سرکاری حلقوں کو یہ خیال ہوا ہو کہ زرقاوی بغداد میں ہی ہوں گے اور انہوں نے اس کارروائی کا منصوبہ ان کو گرفتار کرنے کے لیے بنایا ہو۔ لیکن عراق کے نئے وزیر اعظم جناب ابراہیم الجعفری ہمیں خاصے دانشمند آدمی لگتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک آدمی کی گرفتاری یا ہلاکت سے یہ توقع کرنا کہ ملک میں شورش کا قلع قمع ہو جائے گا غلط ہوگا اور ہمارا ہدف بھی ایک فرد نہیں ہے، تاہم انہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی کے بہت موثر نتائج برآمد ہوں گے۔ یہ بڑی خوش آئند باتیں ہیں اور ہر وہ شخص اس کارروائی کی کامیابی کی دعا کرے گا، جو یہ چاہتا ہے کہ عراق میں امن قائم ہوجائے اور یہ روز اوسطاً کوئی بیس بائیس آدمیوں کے مرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ میں عراقی حکومت اور اتحادیوں کی اس بڑی کارروائی کی کامیابی کے لیے دعا گو تو ہوں لیکن اس سے مجھے لگتا یہ ہے کہ وہ جو عراق پر حملے سے پہلے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ صدام حسین اور ان کی حکومت کی برطرفی کے بعد اقتدار عراقی عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا جائے گا اور اتحادی اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں گے وہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ امریکہ کا اس دلدل سے اب جلد اور صحیح سلامت نکلنا مشکل ہی ہے۔ اس خیال کو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجیک سٹڈیز کی حالیہ رپورٹ سے بھی تقویت ملتی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ عراق شورش کچلنے کی موجودہ کارروائیاں اگر اسی شدت سے جاری رکھی جائیں جس شدت سے اب جاری ہیں تو اس صورت میں بھی پانچ سال سے پہلےصورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ اب یہ امریکہ کی بڑی بد قسمتی ہے کہ وہ جس ملک میں وہاں کے عوام کی خدمت اور ان کے حقوق کی بحالی کا عظیم مقصد لے کر جاتا ہے وہاں کے لوگ اس کی نیت پر شبہہ کرنے لگتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان پر قبضے کے ارادے سے آیا ہے۔ ویتنام کی مثال لے لیجیے امریکہ وہاں کے عوام کو کمیونسٹوں کے چنگل میں آنے سے بچانے کے لیے گیا تھا لیکن لوگ خود اس کے درپے ہوگئے ۔یہاں تک کے کہ اسے بڑی بے آبروئی سے وہاں سے نکلناپڑا۔ افغانستان میں بھی کم و بیش یہی ہوا کہ گئے تھے لوگوں کو طالبان سے نجات دلانے اور اب ایسے بدنام ہوئے ہیں کہ آئے دن ان کے خلاف احتجاجی جلوس نکلنے لگے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ ان کے اس رویے سے صدر کرزئی جیسے وفادار بھی ناراض نظر آتے ہیں۔ ادھر امریکہ کی غیرمقبولیت میں اس کے فوجیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ دانستہ یا نادانستہ طور پر ایسی ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں کہ اس سے امریکی حکومت کو سبکی اٹھانی پڑتی ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ گوانتے نامو بے میں قیدیوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے وہ تو کر ہی رہے تھے، قران شریف کی بے حرمتی کی کیا ضرورت تھی ۔ ان کی اس حرکت سے گوانتے نامو بے کے قیدیوں پر کیا اثر پڑا یہ تو بتانا مشکل ہے لیکن عام مسلمانوں کو جو اس سے تکلیف پہنچی ہے اس کا ازالہ تو بڑی مشکل سے ہوگا۔ ایسے ہی عراق میں جو مار دھاڑ کر رہے تھے وہ کرتے رہتے، ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی شروع کردی اور بدسلوکی تو چلیے ہر زبر دست اپنے زیر دستوں کے ساتھ کرتا ہے لیکن ایسی بدسلوکی جس سے ظلم کے بجائے جنسی کج روی کا مظاہرہ ہوتا ہو کم از کم امریکی فوجیوں کو زیب نہیں دیتی۔ اب یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ عراق میں امریکی تین بڑے اڈے بناکر اپنے فوجیوں کو وہاں رکھ دیگا اور عراق میں امن وامان کی رکھوالی عراقی افواج کے حوالے کردی جائے گی اور اگر بہت ضرورت پڑی تو امریکی فوجی اپنے اڈوں سے ان کی مدد کو باہر آئیں گے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ذمہ دار افراد اب تخلیقی صلاحیتوں سے بالکل محروم ہوگئے ہیں۔ وہ جب کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے، پرانی فائیلیں اور نقشے نکال لیتے ہیں اور ان کی گرد جھاڑ کر پھر ان کے مطابق کارروائیاں شروع کردیتے ہیں۔ عراق، افغانستان اور دوسرے ملکوں کے بارے میں بھی وہی کچھ ہورہا ہے، جو ویتنام ، کوریا اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں ماضی میں کیا جاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس پالیسی کے نتائج بھی وہی برآمد ہوں گے جو ماضی میں ہوئے تھے۔ امریکی حکومت کو چاہیے کہ وہ بدلے ہوئے حالات میں اپنی پالیسیوں میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیا لائے اور جن ملکوں کے عوام کے جمہوری حقوق بحال کرانا چاہتی ہے وہاں ہر ایسی حرکت سے گریز کرے جس سے یہ تاثر پیدا ہونے کا خدشہ ہو کہ وہ جمہوری حقوق دلانے کی آڑ میں ان کے ملک پر اپنا تسلط جمانا چاہتی ہے۔ عراق میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ امریکہ عراقیوں کے جمہوری اور سیاسی حقوق کی بحالی کے بجائے ان کے تیل میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر یہ غلط ہے اور میرے خیال میں اسے غلط ہونا چاہیے ، اس لیے کہ امریکہ جیسی مہذب حکومت سے ایسی حریصانہ حرکت کی توقع نہیں کی جانی چاہیے، لیکن اس کو غلط ثابت کرنا خاصہ مشکل ہے اور اگر کوئی کرسکتا ہے تو امریکہ ہی کرسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||