’ سارے مہاجر دکھی ہوتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے سابق وزیرداخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جناب لال کرشن اڈوانی آجکل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے چکوال کے قریب کٹاس راج کی ہندو زیارتگاہ پر ایک مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور سنیچر کو وہ کراچی بھی پہنچ گئے جہاں قائد اعظم کے مزار پرگئے اور ایک اخباری اطلاع یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے اس کے سربراہ جناب الطاف حسین کی سابق رہائشگاہ پر(اب الطاف حسین لندن میں رہتے ہیں) انہیں استقبالیہ دیا جائے گا اور اس موقع پر انہیں تحفے میں سندھی اجرک، سندھی ٹوپی، رلیی، ہاتھ کے کڑھے ہوئے خواتین کے سوٹ، بمبئی بیکری کا کیک، شکارپور کا اچار اور حاجی کی ربڑی پیش کی جائے گی۔ باقی تحفے تو شاید ایم کیو ایم والے اپنی مرضی سے دیں گے لیکن شکارپور کے اچار کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کی خواہش اطلاعات کے مطابق اڈوانی صاحب نے خودظاہر کی ہے۔ جناب اٹل بہاری واجپائی آئے تھے تو انہوں نے پاکستان کے کڑھے ہوئے کرتوں کی فرمائش کی تھی ۔ پتہ نہیں جنرل مشرف، شوکت عزیز ، فضل الہی چودھری اور خورشید قصوری جب ہندوستان جاتے ہیں تو کس چیز کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، ویسے یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کوئی پاکستان سے ہندوستان جاتا ہے تو لوگ اس سے بنارسی ساڑی اور مرادآبادی برتنوں کی فرمائش کرتے سے نہیں چوکتے اور بعض تو آگرے کا پیٹھا اور دال موٹ، متھرا کے پیڑے اور لکھنؤ کی ریوڑیاں وغیرہ لانے کی فرمائش بھی کرنے سے نہیں چوکتے۔ حالانکہ مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان میں شکارپور سے بہتر اچار بنتے ہونگے اور پاکستان میں بنارس سے اچھی ساڑیاں اور مرادآباد سے اچھے برتن بنتے ہیں، لیکن جو لوگ اس طرح کے تحفے مانگتے ہیں وہ در اصل تحفے کی آڑ میں اس خطے سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں جہاں سے وہ آئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں اپنی والدہ کے ساتھ کراچی سے بنارس جارہا تھا، امرتسر سے جب بنارس کے لیے پنجاب میل یا کالکا ایکسپریس پر سوار ہوئے تو اس ڈبے میں ایک بوڑھے سے سردار جی بھی اوپر کی سیٹ پر سو رہے تھے، ان کو غالبًا اندازہ ہوگیا کہ ڈبے میں نئے مسافر پاکستانی ہیں چنانچہ وہ نیچے اتر آئے اور انہوں نے ایک صاحب سے دریافت کیا ’ کتھوں بیٹھے ؟‘ اس نے جواب دیا’ کراچی سے آریا اوں‘ سردار جی نےگڑگڑانے کے انداز میں پوچھا ’راولپنڈی ویکھیا ہے ؟‘ ’ہاں جی کیوں نہیں دیکھا !‘ اس نے کسی حد تک حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ سردار جی نے اس کے جواب کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا ’راولپنڈی وڈا شہر ہے‘ اسی طرح وہ پورے ڈبے میں تقریباً ہر اس مسافر کے پاس گئے جو ان کے خیال میں پاکستان سے آرہا تھا اور ہر ایک سے یہ کہتے سنے گئے کہ ’پنڈی وڈا شہر ہے‘ مجھے ان سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ پنڈی کو ہی بڑا کیوں سمجھتے ہیں۔آخر ہندوستان میں اور بہت بڑے بڑے شہر ہیں لیکن وہ جیسے ایک روایت ہے کہ بادشاہ نے ایک لونڈی کو حکم دیا کہ محل میں جو سب سے خوبصورت بچہ ہو وہ لے آئے لونڈی اپنا بچہ اٹھا لائی اور جب بادشاہ نے کہا کہ اس نے سب سے خوبصورت بچہ لانے کے لیے کہا تھا تو اس نے کہا ’عالم اس محل میں مجھے تو یہی بچہ سب سے خوبصورت لگا۔‘ مہاجر ہندوستان کا ہو یا پاکستان کا، کشمیر کا ہو یا فلسطین کا اس کا درد ایک جیسا ہی ہے۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو ہندوستان سے پاکستان اپنی خوشی سے آئے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اپنی مرضی سے بہتر مواقع کی تلاش میں آئے تو زیادہ مناسب ہوگا اور یہاں آ کر ان کے حالات بھی بہتر ہوگئے لیکن مرتے دم تک انہیں اپنے وطن کی یاد ستاتی رہی۔ ہمارے بی بی سی کے ایک بہت سینئر ساتھی سہتو پاوا صاحب کا تعلق لاہور سے تھا لیکن ہندوستان پاکستان بننے کے بعد انہوں نے انگلستان کو ہی اپنا وطن بنا لیا، ہر اعتبار سے انگریز تھے لیکن جب ہمارے گھر آتے تو ہندوستانی کھانوں کی نہ صرف فرمائش کرتے بلکہ پراٹھے تو بنوا کے ساتھ لے بھی جاتے اور ہمارے ساتھی شاہد ملک سے کبھی کبھی کہتے کہ آج شام کو پب میں آجانا پنجابی میں باتیں کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کا بننا اور لوگوں کی یہ تقسیم تاریخ کا جبر تو ہوسکتا ہے لیکن اڈوانی صاحب سمیت اس سے جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ یقیناً بڑے دکھی لوگ ہیں اور پاکستان میں مندروں کی تعمیر نو اور ہندوستان میں مسجدوں کی تعمیر نو بڑی اچھی باتیں ہیں یہ ضرور کرنا چاہیے لیکن ایسے اقدامات کی بھی ضرورت ہے جس سے شکارپور کے اچار، لاڑکانہ کے امرود اور خیرپور کی کھجوروں کے لیے جناب اڈوانی صاحب کو پاکستان کا دورہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ انہیں یہ چیزیں دہلی کی دوکانوں پر ہی دستیاب ہوں اور اسی طرح بنارس کے لنگڑے اور لکھنؤ کی دسہری کے لیے جناب پرویز مشرف کو ہندوستان کے دورے کی ضرورت نہ محسوس ہو وہ پاکستان میں دکانوں پر نواب شاہ کی سندھڑی اور ملتان کے انور رٹول کے ساتھ بکیں۔ مندر، مسجد ہو یا گردوارے اور گرجا، یہ سب خدا کے گھر تو کہے جاتے ہیں لیکن بلھے شاہ کے مطابق اللہ میاں نے اپنا مسکن انسان کے دل کو ہی بنایا ہے، مندر مسجد کو ڈھاتے بھی رہیے اور بناتے بھی رہیے لیکن انسانی دلوں کو دکھ پہنچانے سے گریز کیجیے اور اگر غلطی سے، جس کو تاریخ کے جبر کا نام دیدیا جاتاہے، ان کے دلوں کو دکھی کرنے کا کوئی سبب پیدا ہوگیا ہے تو اسے جلد از جلد دور کرنے کی کوشش کیجیے کہ اسی طرح یہ دنیا جنت نظیر بن سکتی ہے، پھر محض جنت میں جانے یا سورگ باشی ہونے کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھوں شہادت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||