’جمہوریت کے چکر میں نہ پڑیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ( نواز گروپ) کے رہنماء چودھری نثار علی نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی ہے اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی اس رولنگ کو مسترد کردیا ہے کہ قومی اسمبلی میں فوج اور عدلیہ پر تنقید نہیں کی جاسکتی اور اگر کسی نے اس کی جسارت کی تو وہ اپنی نشست سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ میں چودھری نثار علی کی اس جسارت کی داد دیتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انہیں متنبہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں فوج پر تنقید کرنا دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر رکھنے والی بات ہے۔ جہاں تک عدلیہ کا تعلق ہے وہ تو میرا خیال ہے کہ جناب اسپیکر کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا تھا۔ ان کا اصل مطلب یہی ہوگا کہ جس پر تنقید کرنا چاہیں دل کھول کر کیجیئے بس فوج اور جناب صدر جو خیر سے جنرل بھی ہیں، بلکہ پہلے جنرل ہیں ، بعد میں صدر ہیں ان کی شان میں گستاخی سے گریز کریں ورنہ اس جرم کی کم سے کم سزا قومی اسبلی کی نشست سے محرومی ہے ، زیادہ سے زیادہ تو کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ایک زمانے سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہاں ایک نہ ایک دن حقیقی جمہوریت آئے گی اور فوج صرف وہ کام کرے گی، جو کہا جاتا ہے کہ اسے کرنا چاہیئے لیکن میرا خیال ہے کہ ان کے دن پورے ہوجائیں تو ہوجائیں ان کی یہ آس پوری نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ اس وقت اللہ میاں جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہیں یا متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کی زبان میں اللہ میاں نے انکی رسی دراز کی ہوئی ہے۔ بلکہ اگر اجازت دی جائے تو میں یہ کہوں گا کے جب بھی فوج اقتدار میں آئی یوں لگا کہ اللہ میاں اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں۔ جسٹس کیانی مرحوم نے تو یہ بات بہت پہلے سمجھ لی تھی چنانچہ انہوں نے ایوب خانی دور میں اپنی ایک تقریر کے دوران اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا’ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اقتدار اعلیٰ تفویض فرمایا افواج کو اور پھر عوام کو افواج کا اور افواج کو اپنے مفاد کا تابع کیا‘۔ جسٹس کیانی مرحوم نے تو یہ بات ممکن ہےطنزاً کہی ہو اس لئے کہ وہ فوج کے اقتدار میں آنے کے کٹر مخالف تھے۔ لیکن چودھری امیر حسین نے جو کچھ کہا ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر کہا ہے ، بلکہ عین ممکن ہے یہ بات کسی اور نے کہی ہو اور وسیلہ چودھری صاحب کا استعمال کیا ہو۔ میں یہ بات اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہ رہا ہوں کہ جب فوج اقتدار میں آئی ہے تو ایسے کام عموماً اس نے خود نہیں کئے، بلکہ دوسروں سے کروائے اور ہمیشہ اسے ایسے کارندے مل گئے جنہوں نے اس کا حکم بجالانے میں کبھی کوئی تردد محسوس نہیں کیا اور جنرل پرویز مشرف کو تو ماشا اللہ ایک پوری سیاسی جماعت مل گئی ہے جو ان کے بوٹ، وردی اور ٹوپی سب کی حفاظت کی ضامن نظر آتی ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ اس سے پہلے جو جنرل گزرے ہیں وہ حکم دیا کرتے تھے اور لوگ حکم بجا لاتے تھے، پرویز مشرف حکم نہیں دیتے بلکہ درخواست کرتے ہیں اور لوگ اسے حکم سمجھتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے درخواست کی مسلم لیگ (ق) بنا لو، مسلم لیگ (ق) بن گئی، کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ جناب ’ق‘ کہنے میں ذرا دقت ہوتی ہے اور کوئی نام رکھ لیجیئے۔ پھر انہوں نے درخواست کی کہ جمالی صاحب کو وزیراعظم تسلیم کرلو ، سب نے انہیں وزیراعظم تسلیم کرلیا ، یہاں تک کہ چودھری حضرات بھی چپ رہے۔ اب اگرجنرل ضیاء مرحوم ہوتے تو یہ بیان دے کر جمالی صاحب اپنی رہائشگاہ پر بھی نہیں پہنچ پاتے، لیکن جنرل پرویز مشرف نیک اور مہذب فوجی ہیں ۔ انہوں نے خود کچھ نہیں کیا، بس چپ ہوگئے اور کارندوں نے سمجھ لیا کہ کیا کرنا ہے۔ اس کے عوض اپنے چودھری شجاعت کو بھی چالیس دن کے لئے ہی سہی وزیراعظم کے طور پر ملک و قوم کی خدمت کا موقع مل گیا۔ یہ گفتگو طول کھینچتی جارہی ہے۔ میں صرف چودھری نثار علی صاحب کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ اسپیکر جناب امیر حسین صاحب کو محض ایک اسپیکر سمجھ کر ان کی تنبیہ یا دھمکی کو ٹال نہ دیں بلکہ ان کی بات پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور اگر چودھری شجاعت کے نقش قدم پر چلنا اپنے لئے کثر شان سمجھتے ہیں تو کم از کم سید مشاہد حسین کا ہی وطیرہ اختیار کرلیں ۔ اس لئے کہ وہ انتہائی با ضمیر دانشور ہیں اور با ضمیر صحافی بھی رہ چکے ہیں۔ اور میں تو یہ کہتا ہوں کہ جمہوریت کے چکر میں ہی کیوں پڑتے ہیں ، اس میں تو بڑے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے ، بڑا پتہ مارنا پڑتا ہے ۔ ہر ایرا غیرا سینا پھلا کر سامنے کھڑا ہوجاتا ہے اور حساب کتاب مانگنے لگتا ہے۔ اب جہاں جمہوریت ہے وہاں حکمرانوں کا جو حشر ہوتا ہے وہ آپ نے برطانیہ میں دیکھ لیا کہ وزیراعظم ٹانی بلیئر بقول ایک اخبار کے لنگڑاتے ہوئے اقتدار میں تو آگئے لیکن کتنے دن رہ پائیں گے یہ وہ بھی وثوق سے نہیں کہ سکتے اور پھر انتخابی مہم کے دوران انہیں جن آزمائشوں سے گزرنا پڑا وہ پوری دنیا نے دیکھا۔ ایک رکن پارلیمنٹ جارج گیلوے ان پر دروغ گوئی جیسے الزامات لگاکر بھی نہ صرف انتخابات جیت گئے بلکہ انہوں نے پارلیمان کی رکنیت کا حلف بھی اٹھالیا اور دارالعوام کے اسپیکر نے انکا ایوان میں خیر مقدم بھی کیا اور ان سے مصحافہ بھی کیا۔ پاکستان میں کوئی جنرل پرویز مشرف، میاں نواز شریف ، محترمہ بینظیر یا کسی اور برسر اقتدار صدر یا وزیراعظم کی شان میں ایسی گستاخی کرکے سیاست میں پنپ سکتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||