BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 September, 2005, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

پاکستان
پاکستان میں صورت حال وقت گزرنے کے ساتھ مزید خراب ہوگئی ہے
اردو کے ممتاز افسانہ نگار کرشن چندر مرحوم نے ہندوستان کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہیں لکھا تھا، اصل عبارت تو مجھے یاد نہیں، لیکن مفہوم کچھ یوں تھا کہ پانچ ہزار سال پہلے جو صورتحال ہندوستان میں تھی کم و بیش آج بھی وہی ہے، لوگ جیسے پہلے کھیت میں بیل کے ذریعے ہل چلاتے تھے ویسے ہی اب بھی چلاتے ہیں ، بیل گاڑیوں کو سامان کی ترسیل یا سفر کے لیے جیسے پہلے استعمال کیا جاتا تھا ویسے ہی اب بھی استعمال کیا جاتا ہے اور حوائج ضروریہ سے فراغت کے لیے جیسے پہلے سڑک کے کنارے یا کسی درخت کی آڑ میں بیٹھ جاتے تھے ویسے ہی آج بھی کرتے ہیں۔

ممکن ہے کرشن صاحب نے کچھ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہو یا پھر صورت حال سے کچھ اتنے مایوس ہوگئے ہوں کہ انہیں پانچ ہزار سال پہلے کے ہندوستان اور اپنے زمانے کے ہندوستان میں فرق نہ محسوس ہوا ہو۔ لیکن میں اگر آپ سے یہ کہوں کہ پاکستان میں 58 سال بعد بھی کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی تو یہ مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔

اگر کوئی تبدیلی آئی بھی ہے تو یہ کہ صورت حال اور خراب ہوگئی ہے۔ وہی اخبارات میں قائد اعظم اور علامہ اقبال کے فرمودات اور سنسنی خیز سرخیاں، سیاسی رہنماؤں کی بے ہنگم اور ڈرامائی تقریریں اور اب اس میں بیرون ملک
سےٹیلی فون کےذریعے خطاب کرنے کا رواج بھی پڑگیا ہے۔

ہڑتالیں
 ہڑتالی محنت کش اپنی فیکٹری اور کارخانے کے سامنے کرنے یا دھرنا دینے کے بجائے پریس کلبوں کے سامنے دھرنا دیے رہتے ہیں اور جیسے ہی کسی کو پریس کلب میں داخل ہوتے یا وہاں سے نکلتے دیکھتے ہیں نعرے لگانے لگتے ہیں۔

پہلے سیاسی رہنماؤں پر مقدمے چلتے تھے اور وہ بڑے کروفر سے ان کا عدالتوں میں مقابلہ کرتے تھے۔

اب آرام سے لندن، دبئی یا سعودی عرب میں بیٹھ جاتے ہیں اور ٹیلی فون کے ذریعے عوام کے سیاسی شعور کو بیدار کرتے ہیں۔

مزدوروں، طلباء اور محنت کشوں کی تنظیموں کا بھی یہی عالم ہے، پہلے ہر سیاسی تحریک کا وہ ہراول دستہ ثابت ہوتی تھیں، اب یہ عالم ہے کہ ہڑتالی محنت کش اپنی فیکٹری اور کارخانے کے سامنے دھرنا دینے کے بجائے پریس کلبوں کے سامنے دھرنا دیے رہتے ہیں اور جیسے ہی کسی کو پریس کلب میں داخل ہوتے یا وہاں سے نکلتے دیکھتے ہیں نعرے لگانے لگتے ہیں۔

ادھر رپورٹر حضرات بھی اس آسانی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے بارے میں تفتیش کرنے یا دوسرے فریق کا موقف معلوم کرنے کے بجائے ان کی ایک تصویر چھاپ دیتے ہیں یا پھر ان کی پریس ریلیز کی بنیاد پر ایک خبر بنا دیتے ہیں۔

شہر کراچی
شہروں میں گندگی بھی وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ گئی ہے

شہروں میں گندگی اور بڑھ گئی ہے ، ٹریفک کی صورتحال پہلے جتنی خراب تھی اب اس سے بہت زیادہ خراب ہوگئی ہے۔

میں جب کراچی کے ڈی جے کالج میں پڑھتا تھا تو سفید قمیض اور سفید پینٹ پہن کر جاتا تھا اور یہ دو دن چلتی تھی اب جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے سوا کوئی اورسفید لباس پہننے کی ہمت مشکل سے ہی کرے گا۔

پہلے ہر پڑھے لکھے آدمی کے گھر میں ایک بک شیلف ہوا کرتا تھا اور جو ہما شما جیسے مفلوک الحال ہوتے تھے وہ بھی سابق سویت یونین کی چھپی ہوئی کتابوں سے اپنی الماری سجا لیتے تھے اس لیے کہ یہ کتابیں مجلد ہونے کے باوجود سستی ہوتی تھیں اور اپنے سردار شیرباز مزاری اور میر علی احمد تالپور مرحوم کی لا ئبریریاں تو قابل رشک تھیں۔

کالج کا زمانہ
 میں جب کراچی کے ڈی جے کالج میں پڑھتا تھا تو سفید قمیض اور سفید پینٹ پہن کر جاتا تھا اور یہ دو دن چلتی تھی اب جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے سوا کوئی اورسفید لباس پہننے کی ہمت مشکل سے ہی کرے گا

اب مجھے اپنے چودھری شجاعت حسین کے گھر جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا لیکن اپنی حیثیت کے جن لوگوں کے گھر گیا وہاں کتابوں کی جگہ الماریوں میں ٹی سیٹ اور ڈنر سیٹ دیکھ کر تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی۔

کراچی شہر میں ہم لوگ ایک زمانے میں زیب النساء سٹریٹ پر شام کو گھومنے جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں اسکا نام الفنسٹیں سٹریٹ تھا اور اس پر کتابوں کی کچھ دکانیں بھی ہوا کرتی تھیں اب صرف زیورات ، جوتوں اور کپڑے کی دکانیں نظر آتی ہیں۔

اس سے یہ تو اندازہ ہوتا ہے کہ شہر میں ایسے لوگوں کی تعداد اچھی خاصی ہے جو ان چیزوں کو خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں نے اپنے آپ کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے کا خیال ترک کردیا ہے۔

بد عنوانی اور بےایمانی بھی یوں تو ہمیشہ سے موجود ہے لیکن اب یوں لگتا ہے کہ لوگ اسے برائی سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ اپنا حق جانتے ہیں۔

ابراھیم جلیس مرحوم کے کالم ’وغیرہ وغیرہ‘ میں جو انہوں نے رمضان المبارک سے متعلق لکھا تھا ایک دکاندار اپنے بیٹے سے پوچھتا ہے ’ بیٹا ایک نمبر کشمش میں دو نمبر ملادی‘ بیٹے نے بڑی سعادت مندی سے جواب دیا ’ہاں بابا ملادی‘، دکاندار نے کہا ’پھر چلو اذان ہوگئی ہے‘۔

اب صورت حال یہ ہے کہ ایک نمبر میں دو نمبر ملائی نہیں جاتی بلکہ دو نمبر کو ہی ایک نمبر کہہ کر بیچتے ہیں بالخصوص رمضان المبارک کےمہینے میں اور کشمش ہی پر کیا منحصر ہے اب ادویات، کاروں اور مشینوں کے پرزے بھی ایک نمبر اور دو نمبر ہوگئے ہیں۔

میٹرک کی سند
اس سے پہلے سپریم کورٹ کے ایک جسٹس صفدر علی شاہ صاحب کی سند کو غلط قرار دیدیا گیا تھا، لیکن اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان سے اس وقت کے صاحب صدر ناراض ہوگئے تھے اس لیے کہ وہ ان ججوں میں شامل تھے جنہوں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے مقدمے میں انہیں بری قرار دیا تھا۔

صرف ایک ادارہ فوج کا ہےجس کے اہلکار اپنی نیکی اور دیانتداری کے دعوے کرتے ہیں لیکن پہلے یہ ہوتا تھا کہ ہر فوجی کو اپنےدراز قد، چوڑے سینے، بھرے بھرے بازؤں اور بھاری آواز پر فخر ہوا کرتا تھا ، اب ان میں سے بھی اکثر اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہوکر صرف کاروں کے کیٹلاگ اور پلاٹ کی قیمتوں کا مطالعہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس عرصے میں صرف ایک مثبت تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی کہ ایک ریٹائرڈ جنرل صاحب کی میٹرک کی سند کو غلط قرار دیدیا گیا ۔ یہ ہمت پہلے کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے ایک جسٹس صفدر علی شاہ صاحب کی سند کو غلط قرار دیدیا گیا تھا، لیکن اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان سے اس وقت کے صاحب صدر ناراض ہوگئے تھے اس لیے کہ وہ ان ججوں میں شامل تھے جنہوں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے مقدمے میں انہیں بری قرار دیا تھا۔

میں نہیں جانتا کہ اپنے ان جنرل صاحب کی سند کے غلط ہونے کے اسباب کیا ہیں لیکن انہیں احتیاط ضرور برتنی چاہیے کہیں ایسا تو نہیں کہ ان سے نادانستہ طور پر کوئی کوتاہی ہوگئی ہو جو دوسروں کو ناگوار گزری ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد