BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گھر تو انسانیت کا جلتا ہے

News image
برطانوی وزیرِ دفاع جیفری ہون نے یہ اعتراف کر لیا ہے کہ عراق پر حملے سے پہلے عراقی اسلحہ سے متعلق شائع کۓ جانے والے ڈوزیئر یا جائزے میں جو یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ میں حملے کے لۓ اپنا اسلحہ تیار کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ پینتالیس منٹ میں میدانِ جنگ میں استعمال کیا جانے والا اسلحہ تیار کرسکتا تھا۔ اس سے مراد یہ نہیں تھی کہ وسیع تباہی والے ہتھیار اتنی سرعت کے ساتھ استعمال کے لۓ تیا ر کۓ جا سکتے ہیں۔

ادھر امریکی سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینٹ نے بھی کہا ہے کہ ان کے ادارے کی جانب سے یہ کبھی نہیں کہا گیا تھا کہ عراق کے وسیع تباہی والے ہتھیاروں کی جانب سے کوئی فوری خطرہ ہے۔

دونوں حکومتوں نے اپنے اپنے سراغ رسانی کے اداروں کی کار کردگی سے متعلق تحقیقات کے لۓ کمیشن اور کمیٹی بھی بٹھادی ہے۔

صدر بش نے جو کمیشن بٹھایا ہے اسے اپنی رپورٹ صدارتی انتخاب کے بعد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کا مقصد غالباً یہ ہے کہ اس کا اثر ان کے انتخاب پر نہ پڑے جو اس سال کے اواخر میں ہونے والے ہیں-

اس سلسلے میں وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نے کیا ہدایت دی ہے یہ تو نہیں معلوم نہیں لیکن بعض اراکین پارلیمان نے تحقیقاتی کمیٹی کے دائرۂ اختیار پر اعتراض کرتے ہوۓ کہا ہے کہ صرف سراغ رسانی کے اداروں کی کارکردگی کے بارے میں تحقیقات کافی نہیں بلکہ یہ بھی معلوم کیا جانا چاہۓ کہ حکومت نے جنگ کا جو فیصلہ کیا تھا وہ بھی صحیح تھا یا نہیں۔

اس جنگ کے اتحادیوں میں یوں تو اور کئ ملک ہیں لیکن باقی دو جنہیں اہمیت حاصل ہے وہ اٹلی اور اسپین ہیں۔ لیکن ان کی طرف سے اس بارے میں اب تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

امریکی اور برطانوی حکام کے ان بیانات سے کچھ اس طرح کا تاثر ملتا ہے کہ ان کے حلقوں میں بھی یہ احساس ہو چلا ہے کہ عراق پر حملے میں کچھ جلد بازی ہو گئی۔

اگر ذرا اور غور و فکر کرلیا جاتا تو عین ممکن ہے اس ناگوار کارروائی کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور اگر پڑتی بھی تو شائد تنہائی کا اتنا شدید احساس نہیں ہوتا جتنا آج ہورہا ہو گا۔

بہرحال دونوں ملکوں کی حکومتوں کی کوشش یہ بھی نظر آتی ہے کہ جو غلطی ہونی تھی وہ ہو چکی اب اس سے درگزر کیا جائے اور اپنے اپنے داخلی معاملات پر توجہ دیجائے۔

میں بھی ذاتی طور پر ان سے متفق ہوں کہ جو ہونا تھا سو ہو گیا، گزشتہ را صلواۃ، آئندہ را احتیاط کے مصداق اب آگے بڑھنا چاہۓ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہما شما کی غلطی کا خمیازہ صرف ہم ہی کو یا ہمارے قریب چند لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

لیکن اتنے بڑے لوگوں کی ذرا سی دانستہ یا نادانستہ غلطی کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور ان لوگوں کو ادا کرنا پڑتی ہے جو ان رہنماؤں کی ذہانت اور بردباری پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اپنے آپ پر حکومت کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔

اب زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے گزشتہ صدی کے دوران دو عالمی جنگیں ہوئیں۔ ان میں سے پہلی میں اتحادی طاقتوں کے جن میں برطانیہ، فرانس، امریکہ اور روس شامل تھے مجموعی طور پر پچاس لاکھ اور مرکزی طاقتوں کے پینتیس لاکھ فوجی اور شہری مارے گۓ اور دونوں طرف کے زخمیوں کی مجموعی تعداد دو کروڑ دس لاکھ بتائی جاتی ہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں بھی دونوں طرف کے ہلاک شدگان کی تعداد کوئی پانچ کروڑ کے لگ بھگ تھی۔

کوریا، ویتنام، عراق اور ایران، افغانستان، خلیج کی پہلی جنگ ان سب میں مارے جانے والوں اور زخمیوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔

اب کسی ایک شخص یا گروہ کی دانستہ یا نادانستہ غلطی کے نتیجے میں اتنی ساری ہلاکتیں میرا خیال ہے بہت بھاری قیمت ہے۔ اور پھر جب میں یہ سوچتا ہوں کہ ان مرنے والوں کی پیدائش پر ان کے والدین اور عزیز واقارب نے بڑی خوشیاں منائی ہونگی اور ان کے مستقبل کے بارے میں بڑے سہانے خواب دیکھے ہونگے، ان کو طاعون ، پولیو، چیچک اور پتہ نہیں کن کن بیماریوں اور وباؤں سے محفوظ رکھنے کے لۓ ٹیکے لگواۓ ہونگے اور جب اتنی محنت اور مشفقانہ احتیاط کے نتیجے میں جوان ہوئے تو کسی میدان کارزار میں یا کسی گاؤں یا مکان پر بم گرنے کے نتیجے میں کھیت رہے۔ ہم سب کو جنگ لڑنے یا کسی پرجنگ مسلط کرنے سے پر ہیز کرنا چاہۓ۔ ٹینک آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں گھر تو انسانیت کا جلتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد