BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 August, 2005, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کہیں یونہی نہ چلتارہے

پاکستانی لڑکیاں
پاکستان میں جشن آزادی کی تیاریاں
پاکستان کا یوم آزادی ایک بار پھر آگیا۔ اس طرح اس ملک کو وجود میں آئے ہوئے اب ماشااللہ 58 سال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے جو تاریخ میں تو شاید اتنا طویل تصور نہیں کیا جائے گا لیکن ایک فرد کو بچے سے بوڑھا بنانے کے لئے بہت کافی ہے اور میں جو پاکستان بننے کے وقت بچہ تھا اب ماشااللہ بوڑھا ہوگیا ہوں، صرف اس عرصے میں جو چیز نہیں بدلی ہے وہ ہے پاکستان میں محاذ آرائی کی سیاست۔

وہ جو کچھ دنوں پہلے آصف زرداری کی رہائی اور اس طرح کی خبروں یا افواہوں سے کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے بھی کسی نہ کسی سطح پر سلسلہ جنبانی جاری ہے، ایک تاثر پیدا ہوا تھا کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں مصالحت پر آمادہ ہیں وہ بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ختم ہوگیا اور اب یوں لگتا ہے کہ دونوں تصادم کی راہ پرگامزن ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے انتخابات میں کھلی دھاندلی کا الزام لگایا جارہا ہے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور حکومت ، وہ سندھ کی ہو ، پنجاب کی ہو یا مرکز میں نہ صرف ان الزامات کی صحت سے انکاری ہے بلکہ اپنی دیانتداری اور شفافیت کے ڈھنڈورے پیٹ رہی ہے۔

ادھر چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے کچھ لوگوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے بعض بیانات کے بارے میں شکایت کی جو مبینہ طور پر کچھ امیدواروں کے حق میں دیئے گئے تھے تو چیف الیکش کمشنر نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ صدر سیاست سے بلاتر ہیں۔ ان کے کہنے کا مطلب غالباً یہ تھا کہ صدر اپنے معاملات میں آزاد ہیں اور ان( جسٹس ڈوگر) کے ہاتھ اتنے لمبے نہیں ہیں کہ صدر کے گریبان پر ڈال سکیں۔

اکبر اعظم کی والدہ حمیدہ بیگم نے تو ہمایوں سے محض اس بنیاد پر شادی سے انکار کردیا تھا کہ ’میرے ہاتھ جس شخص کے گریبان تک نہیں پہنچ سکتے اس سے میں شادی نہیں کروں گی‘ اور اسی وقت شادی پر رضامند ہوئیں جب غالباً ہمایوں نے یقین دلا دیا کہ ’شادی کے بعد تمہارا ہاتھ ہوگا اور میرا گریبان‘۔

میرا خیال ہے کہ جسٹس ڈوگر صاحب ایک بار اپنے ہاتھ صدر مشرف کے گریبان پر ڈال کر تو دیکھیں ہو سکتا ہے وہ اپنی صدارتی آزاد روی کو قانونی اور آئینی حدود کا پابند بنانے پر تیار ہوجائیں۔

پہلے بلدیاتی انتخابات کے دوران جو 2001 میں کرائے گئے تھے، اتفاق سے میں پاکستان میں تھا اور مجھے بعض علاقوں میں انتخابات دیکھنے اور امیدواروں اور ووٹروں سے بات چیت کا بھی موقع ملا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ لوگ بڑے جوش وخروش سے حصہ لے رہے ہیں وہ’ہو کا عالم‘ نہیں تھا جو اس سے پہلے صدر پرویز مشرف صاحب کے ریفرنڈم کے موقع پر دکھائی دیا تھا۔ پھر عام طور پر حکومت اور نوکر شاہی کی جانب سے کوئی مداخلت بھی نظر نہیں آئی۔

اس بار جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ساری خرابیاں واپس لوٹ آئی ہیں جنہیں سالہا سال سے ہم پاکستان میں بھگتتے آئے ہیں۔

انتخابات کہنے کوغیر جماعتی بنیاد پر کرائے جارہے ہیں لیکن تمام جماعتیں لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں موجود ہیں۔ سندھ میں حزب اختلاف کو یہ شکایت ہے کہ پولیس کو ایسے امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے جن کا جھکاؤ حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف ہے اور اس طرح صوبے کی حکمران جماعت مبینہ طور پر بہت سارے امیدواروں کو اپنی پسند کے امیدواروں کے حق میں دستبردار کرانے میں کامیاب بھی ہوگئی ہے۔

پنجاب میں ایک اور ہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ لاہور ہائی کورٹ نے مدرسوں کی سند کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے اسے تسلیم کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی۔

اب جہاں تک دونوں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے میں اختلاف کا تعلق ہے تو یہ تعجب کا باعث نہیں ہے اس لئے کہ ایک مسئلے کے بارے میں مختلف نقطئہ نظر ہوسکتے ہیں، اصل پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ معاملہ اتنے دنوں سے کیوں لٹکا ہوا تھا، اسے پہلے ہی دن کیوں نہیں طے کرلیا گیا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر یہ تلوار لٹکا رکھی ہے کہ جب حزب اختلاف حد سے زیادہ خطرناک ثابت ہونے لگے تو یہ وار کیا جائے اوربظاہر حکومت کے رویے سے اس شک کو تقویت بھی ملتی ہے۔

پھر حزب اختلاف کا یہ استدلال بھی بڑا وزن رکھتا ہے کہ دنیا میں بیشتر سیاستداں ایسے گزرے ہیں جو معمولی تعلیمی صلاحیت کے باوجود سیاسی اعتبار سے بڑے کامیاب رہے۔

میں ایسے بہت سے لوگوں سے واقف ہوں جو سابقہ حکومتوں میں بھی وزیر رہ چکے ہیں اور بفضلہ تعالیٰ موجودہ حکومت میں بھی وزیر ہیں لیکن اگر ان کے محکمے کے بارے میں ان سے سوالات کیے جائیں تو انہیں جواب دینے میں دقت پیش آئیگی۔

ہو سکتا ہے ان کے پاس ڈگری ہو اور انہوں نے محنت سے پڑھ کر اپنے اسکول اور کالج کے امتحانات پاس کئے ہوں لیکن جس محکمے کے وہ وزیر ہیں وہ انہیں شاید ان کی صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں دیے گئے بلکہ’ اندھے کی ریوڑیوں‘ کی شکل میں مل گئے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کے جو لوگ سیاست میں آئیں انہیں یقینی طور پر پڑھا لکھا ہونا چاہیے کم از کم ان معاملات میں تو انہیں تھوڑی بہت جانکاری حاصل ہونی چاہئے جس کی ذمہ داری انہوں نے قبول کی ہے۔ لیکن ان پر ڈگری کی قید لگا کر آپ قابل لوگ حاصل کرلیں گے یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آتی اس لئے کہ دنیا میں نہ صرف بڑے سیاستدان بلکہ بہت بڑے بڑے عالم، سائنسدان اور مختلف مضامین کے ماہرین بھی ایسے گزرے ہیں جنہیں کسی تعلیمی ادارے میں پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست میں مثبت تنقید کو فروغ دیا جائے۔ حزب اقتدار عوام اور ملک کی خدمت اس جذبے کے تحت کرے کہ عوام نے اس کو اپنے اعتماد کے قابل سمجھا ہے اور حزب اختلاف اس بنیاد پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے کہ وہ عوام کے اعتماد کو دھوکہ دے رہی ہے۔

اگر محض اقتدار سے ہٹانے کی خاطر حزب اختلاف حکومت پر تنقید کرتی رہی اور حکومت محض اقتدار قائم رکھنے کےلئے روز نت نئے قوانین اور ضابطے گھڑتی رہی تو تصادم کی سیاست جوں کی توں جاری رہے گی اور یہ ملک بقول شخصے ایسے ہی چلتا رہے گا جیسے کہ گزشتہ اٹھاون سال سے چل رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد